پانیوں کا ویران شہر


اس چھوٹے سے سیارہ زمین کے علاوہ آپ کو پوری کائنات میں کہیں بھی انسان نہیں ملیں گے۔ ہم ایک نایاب اور خطرے سے دوچار نوع (endangered species) ہیں۔ کائناتی اعتبار سے ہم میں سے ہر کوئی بیش قیمت ہے۔ اگر آپ کسی سے اختلاف رکھتے ہیں، تو اسے کم از کم زندہ رہنے کا حق ضرور دیں۔ کیونکہ اربوں کھربوں کہکشاؤں میں بھی آپ کو اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔

۔ کارل سیگان
میں بغاوت چاہتا ہوں
ہر اس شخص کے خلاف بغاوت چاہتا ہوں
جو ملک اور مذہب کے نام پر ہمارے درمیان خلفشار کی بیج بوتا ہے
مذہب اور ملک
ایک ہی پودے کی / ایک ہی ٹہنی میں
دو الگ الگ کانٹے
ریشمی لباسیں محراب پر رقص کناں ہیں، زعفرانی کھالیں کوئلے سے آگ بھر رہی ہیں
کب تک؟ یہ سب کب تک چلتا رہے گا؟
اندھیرے میں سناٹا ہے
میرے اندر کوئی چیخ رہا ہے
کہ اب تھک چکا ہوں
ملک اور مذہب کے اس خوفناک تصور کو دیکھ کر
جو انسانیت کے گھاؤ پر تعلق کا ٹانکا لگانے کے بجائے اس کے بخیے ادھیڑتا ہے
کہ میں تنگ آ چکا ہوں
ایک واہمہ ہے /ایک روشنی
جو ابھی ابھی نئے اور تازہ چراغ سے نکلنے والی ہے
کہ وہ مجھے خانۂ وجود کے کسی نہ کسی ویرانی میں خود کو زندہ رکھنے پہ مجبور کرے گی
’پورا سمندر سرخ ہو چکا ہے۔ ‘
۔ ٹیگور نے بوڑھے کو خواب میں بتایا۔

میں ایک صحافی ہوں۔ میں نے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے خوفناک مناظر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ افغانستان کی سنگلاخ پہاڑیوں سے بھری سرمئی زمین کو خون میں ڈوبتے ہوئے بھی اور ہیروشیما کی فلک بوس عمارتوں کو ایک ویران شہر میں تبدیل ہوتے ہوئے بھی۔ جب ہیروشیما پر ایٹمی طاقت حملہ آور ہوئی تو وہاں کی عورتوں نے اپنے اپنے سروں کو آسمان کی جانب اٹھایا۔ انہوں نے اپنی ناک کی سیدھ بہت تیز روشنی کو زمین پر اترتے دیکھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ سورج زمین پر آ چکا ہے اور وہ عنقریب ان پر پھٹنے والا ہے۔ تو انہوں نے پوری دنیا کے ختم ہو جانے کا تصور کیا۔ تھوڑی دیر بعد سب کچھ سیاہ ملبے کی ڈھیر میں تبدیل ہو گیا‌۔ ایک بچی نے ریلوے اسٹیشن کی عمارت کی راکھ کو اٹھا کر اپنی ہتھیلیوں پر رگڑنا شروع کیا۔

اے خدا، دنیا تیری اور راج کسی اور کی؟ سبزہ و بہار اگانے والا تو اور راکھ اگانے والا کوئی اور؟ پوری دنیا ختم ہو گئی یہاں کوئی نہیں۔ صرف میں، میری تنہائی۔ اور راکھ۔ یہ کیسا انصاف؟

بچی کو کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے راکھ کو ہتھیلیوں پر سے اڑا دیا۔ اس کے کپڑے خون آلود تھے اور دھماکے میں ٹوٹنے والی کانچ کی کھڑکیوں کے نوکیلے شیشے سے اس کے بازو اور گردن پر کچھ خراشیں آ گئی تھیں۔ وہ بیٹھ گئی اور اپنے ماں باپ کے خیال میں گم ہو گئی۔

تمہارے ماں باپ تو اب رہے نہیں۔ کہاں جاؤ گی؟ کسی نے اس سے پوچھا۔

پہلے میں زمین پر پڑے اپنے آباو اجداد کی مقدس لاشوں کو اٹھاؤں گی اور پھر ان پر منڈلاتے گدھ سے آنکھیں ملاؤں گی۔

اس کے لہجے میں شدت تھی۔
اب تم کمزور ہو چکی ہو اس کے باوجود بھی؟
میں پھر سے اٹھوں گی۔

میں آنکھ بند کروں تو اندھیرا میرے سامنے آ جاتا ہے، وہ بچی میرے سامنے آجاتی ہے اور میں تصور کر سکتا ہوں کہ میرا ملک اور میرا مذہب ایک حمام میں برہنہ ہے۔ کیا یہاں سے بھی حیوانیت کی آنچ سے پیدا ہونے والی ایک خوفناک دنیا کا آغاز ہوا چاہتا ہے؟ کیا یہاں بھی ہیروشیما کی طرح ایسی چیخیں سنائی دی جانے والی ہیں جنہیں سنانے اور دکھانے کے لیے لفظوں کے لہو رنگ مناظر کے کولاژ کم پڑ جائیں گے؟ کیا سچ میں ایسی خوفناک دنیا کا آغاز ہو چکا ہے؟

مجھے احساس ہے کہ میں اس وقت بھی اندھیرے میں ہوں۔ میری آنکھیں پانی میں اتر چکی ہیں۔ یہاں کئی جل پریاں اور رنگین مچھلیاں ہیں۔ میں ان کے ختم ہو جانے کا تصور کر رہا ہوں۔ مگر کیوں؟ مجھے نہیں پتا۔ یہ تصور کرنا میرے لیے اس وقت بہت آسان ہوجاتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرا اپنا وجود کسی جہاز میں ہے اور سفید گلاب ہاتھ میں لیے گل ناز میرے سامنے بیٹھی ہوئی ہے۔

’ہم بہت جلد مرنے والے ہیں اپنے اپنے دیوتاؤں کو یاد کر لیجیے۔ ‘
جہاز کا پائلٹ ہمیں تنبیہ کر رہا ہے۔

یہ سال بھی بہت خراب جا رہا ہے۔ جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک مذہبی کی یہ آواز ایسی ہے جو ستاروں سے مایوس ہو چکی ہے۔ اس سے ہٹ کر میری نظر گل ناز پر پڑتی ہے تو میں اسے خاموش اور بہت اداس دیکھ رہا ہوں۔ گل ناز کی آنکھیں زمین پر رینگنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے ملک و مذہب کا فلسفہ تراش رہی ہیں۔

’کسے دیکھ رہی ہو؟‘
’حشرات الارض۔‘
’مگر یہاں تو بادلوں کا دھند ہے۔ ‘
دھند میں لپٹی بادلوں کی چادروں کا رنگ دیکھو۔ ’
’ہاں۔ ‘
’کیسا ہے؟‘
’زعفرانی؟‘
’زعفران سے پہلے بھی ایک رنگ آتا ہے۔ ‘
’کون سا؟‘
’سیاہ۔‘
’نہیں یہ تو ہر رنگ سے پہلے آتا ہے؟‘
’ہاں۔ ‘
’لیکن اس کا کیا کہ سیاہ رنگ سے ایک سپید روشنی پھوٹ رہی ہے اور اس پہ زعفرانی رنگ حاوی ہوجاتی ہے؟‘
’پتا نہیں۔ ‘

میرے گلاب کا رنگ بھی سپید سے زعفران ہو گیا ہے۔ ماتھے کا سندور بھی، میرے کپڑے بھی، اور۔ چوڑیاں اور کنگن بھی۔

تو کیا ہمارا خون بھی۔ ؟
نہیں ہر گز نہیں، یہ محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔ ’
نہ ڈیئر اتفاق ہرگز نہیں، ہم سچ میں مرنے والے ہیں۔ ’
’زعفرانی موت یہاں بھی داخل ہو چکی ہے۔ ‘

اس کی آواز بہت کمزور تھی، میری دھڑکن میں تیزی تھی۔ جہاز کریش ہونے والا ہے اور میں کسی گہری کھائی میں گرتا جا رہا ہوں اور گدلے پانیوں کے بلبلے کے اندر ایک ویران شہر ہے جس کے اندر سے عجیب سی خوفناک چیخ باہر کو آ رہی ہے۔ گل ناز کے منہ سے بھی عجیب قسم کی آواز پیدا ہوئی، مگر یہ آواز پانی کے بلبلے کے اندر کہیں کھو گئی۔ اب وہ محسوس کر سکتی تھی کہ اس کا نصف وجود جل پری میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ہم مر رہے تھے، پائلٹ مجھے اور گل ناز کو دیکھ کر قہقہہ لگا رہا تھا۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا اور اس کے گنجے پن سے وحشت ٹپک رہی تھی۔

’کیسی موت لینا پسند کرو گے؟ زعفرانی یا قومی؟‘
اس نے پوچھا۔
’فرق کیا ہے دونوں میں؟‘ میں بدحواس ہوا۔

’زعفرانی موت میں آدمی کی زندگی ہماری ہوجاتی ہے، وہ زندہ تو رہتا ہے مگر گاندھی کا بندر بن کر کہ وہ کچھ دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے اور نہ ہی ہمارے مخالفت میں کچھ بولتا ہے۔ ‘ وہ پھر سے ہنسا۔

’اور قومی موت؟‘
’یہ جاننے کے لیے تو آپ کو سچ میں مرنا پڑے گا۔‘

گفتگو ختم نہ ہو پائی تھی کہ دفعتا فضاء میں ایک روشنی چمکی، اور وہ ایک ڈیجیٹل اسکرین میں تبدیل ہو گئی۔ فضاء میں اب بھی اندھیرا تھا۔ تھوڑی دیر بعد عقب سے کسی کے چلنے کی آہٹ سنائی دی اور اسکرین پر دو سرخ چمکتی آنکھوں والا ایک انسان سامنے آیا۔

’سقراط نے دیوتاؤں کے انکار میں زہر کا پیالہ پیا تھا۔ ایتھنز کی خلاؤں میں آج بھی اس کے زہر کا پیالہ رقص کر تا ہے۔ اس نے عشق، محبت، دنیا، مخلوق، دیوی اور دیوتا سب کو فریب بتایا تھا۔ مگر ان سب سے دیوتاؤں کو کیا فرق پڑا؟ دیوتا کبھی نہیں مرتے۔ بدھا نے بادشاہت کو ترک کر کے اصل خدا کی تلاش کی اور دنیا کی ایک بڑی تعداد نے اسے ہی خدا مان لیا۔ ہمارے یہاں بھی دو دیوتا ہیں۔ مذہب اور ملک۔ یہ دونوں ہمارے معبود ہیں۔ ہم ہر روز اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ‘

اس کی آواز میں ایک انجانے خوف کا اشارہ تھا۔

مجھے احساس تھا کہ سب کچھ ایک خوفناک گیم کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں کے قوانین اور عدالتی نظام تک اس گیم کا حصہ ہے۔ پولیس بھی اور بڑی بڑی مچھلیاں بھی اور شارک اور وہیل بھی۔

اندھیرے میں ایک بڑی مچھلی کا بدن چمکا۔ اور آر ڈی ایکس سے بھرا ایک دھماکہ ہوا۔ پورا سمندر سرخ ہو گیا۔ آبی جانوروں کے چیتھڑے اڑ کر نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ سمندر جو خاموشی سے کانپ رہا تھا، آتش فشاں کے لاوے کی طرح پھٹ کر اتنا اوپر کو اچھلا کہ چتکبرے بادلوں کا کارواں آسمان میں گم ہو گیا اور سمندر و آسمان کے درمیان آگ کی سرخ دھند ہر چیز پر حاوی ہوتی چلی گئی۔ یہ سب کچھ اسی اندھیری رات میں ہوا تھا جب بوڑھے فقیر کے خواب میں ٹیگور آئے تھے۔ ٹیگور بہت دکھی تھے۔

آپ دکھی کیوں ہیں؟
سب کچھ جل گیا اور تم دیکھتے رہ گئے؟
ہم نے ہی جلا یا تھا۔ فقیر ہنسا

ایسا کیوں کیا؟ تم جنگلی تھے، سانپ اور بچھو کھاتے تھے۔ ننگے رہتے تھے۔ مت بھولو کہ انہوں نے تمہیں انسانوں میں شامل کیا۔

ہاں، مگر وہ بھول گئے کہ میں ایک زندہ مگر مچھ کی دنیا کا بھی حصہ رہا ہوں۔ وزیر بننے کے بعد میں نے سوچ لیا کہ مجھے جزیرے سے آلودگیوں کو پاک کرنا ہے

آلودگی؟ کیسی آلودگی؟
چھوٹی چھوٹی مچھلی، کیکڑے اور کچھوے والی آلودگی۔
تم نے انہیں ختم کیوں کیا؟
وہ تو ایک صفائی ابھیان تھا۔ فقیر نے ٹھہاکا لگایا۔
پورا جزیرہ تم سے ناراض ہے اور تمہاری حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔

ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ بڑی بڑی مچھلیاں جن میں شارک اور وہیل ہیں اور وہ جانور جن کے پاس طاقت ہے اور وہ جو وحشتوں سے کبھی خائف نہیں ہوتے اور وہ جو ترشول کو خلاء میں لہرا کر رقص کرنا جانتے ہیں، اس جزیرے کو قابو کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔

بوڑھے کی نیند کھل گئی۔ اس نے اپنے وجود کو ٹٹولا، وہ گھبرایا ہوا تھا۔ اس کی داڑھی نسبتاً پہلے کے اب کافی گھنی ہو گئی تھی۔ نیوز چینلوں سے میڈیا نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ زعفرانی جزیرے کے وزیر آج اپنی عوام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ لوگوں کی بھیڑ تھی اور سب کی نگاہیں بوڑھے فقیر کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ زعفرانی دھوتی پہن کر غوطہ خور جانوروں کے ساتھ بوڑھا باہر نکلا اور اس نے اپنے سخت اور کھردرے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں ملایا اور سب کو نمستے کیا۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ بوڑھا وزیر اعظم اب روئے گا۔ مچھلیوں اور آبی جانوروں کی ہلاکت پر غم کے آنسو بہائے گا مگر لوگوں کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔

بوڑھے نے خطاب کیا۔ ’بھائیو اور بہنو! یہ میری جیت نہیں، آپ کی ہے۔ ہماری ہے۔ ہمارے ملک اور ہمارے مذہب کی ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں اور خوشی اس لیے بھی کہ گنگا جمنا اور سرسوتی کے علاوہ دیگر ندیوں سے بھی آبی جانوروں کا صفایا ہو گیا۔ آپ سب کا دن شبھ ہو۔‘ فقیر کا خطاب ختم ہوا۔

’مگر کچھ مچھلیاں ابھی تک زندہ ہیں۔ ‘ گنجے شخص نے بوڑھے کے کان میں سرگوشی کی۔
’مار دو۔‘
’ان میں کچھ جل پریاں بھی ہیں اور وہ حمل سے ہیں۔ ان کا کیا کروں؟‘
’تمہیں یہ بھی میں ہی بتاؤں گا؟ گجرات میں کیا کیا تھا؟‘

’انہیں مار دیا گیا تھا اور جو مچھلیاں زندہ تھیں اور حاملہ بھی، ہم نے ان کے پیٹ کو چاک کر کے ان کے بچوں کو ترشول پر گھمایا تھا۔‘

’ہاں، وہ تمہیں ابھی تک یاد ہے؟‘
’اسے ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟‘ گنجا مسکرایا۔

’مگر وحشتوں کے اس کھیل نے ہمیں بہت پریشان کیا تھا۔ ہمارے ایک ساتھی کو بھی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا تھا۔ اس مرتبہ کچھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ الگ کرو۔ کچھ نیا جو پوری دنیا کو کانپنے پر مجبور کردے۔ کیوں کہ اس بار ہمارے پاس پہلے سے زیادہ طاقت ہے۔ ‘

’یقیناً ایسا ہی ہو گا۔‘
یہ سب اس پائلٹ نے مجھے لائیو دکھایا اور کہا کہ ’کیا پسند کرو گے؟ زعفرانی یا قومی؟‘

میں کچھ نہ کہہ سکا۔ گل ناز بھی خاموش رہی۔ مجھے احساس ہے کہ میری آنکھیں پانیوں میں ہیں۔ میں مردہ مچھلیوں اور آبی جانوروں کو ڈھونڈ رہا ہوں اور دور دور تک مجھے کچھ بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ ہیروشیما کی وہ بچی میرے سامنے ہے۔

’اب کہاں جاؤ گی۔ ؟‘ میں اس سے پوچھ رہاہوں۔
’پہلے میں زمین پر پڑے اپنے آباو اجداد کی مقدس لاشوں کو ان پر منڈلاتے گدھ سے بچاؤں گی۔‘
’تم کمزور ہو چکی ہو اس کے باوجود بھی؟‘
’میں پھر سے اٹھوں گی۔‘
’مگر میں اپنا جسم کھو چکا ہوں، میں اب کبھی نہیں اٹھ پاؤں گا۔‘

میرا جسم پگھل رہا ہے، ایک واہمہ دماغ میں اب بھی زندہ ہے، شاید کہ ایک روشنی، جو ابھی ابھی نئے اور تازہ چراغ سے نکلنے والی ہے۔ وہ مجھے خانۂ وجود کے کسی نہ کسی ویرانی میں خود کو زندہ رکھنے پہ مجبور کرے گی۔

Facebook Comments HS