زلزلہ کی تباہ کاریاں


6 فروری 2023 کی الصبح اکثر لوگ ابھی نماز فجر کی اذانوں کے منتظر تھے کہ قدرت کی جانب سے ایک غیر متوقع بلاوا آ گیا اور جنوبی ترکیہ اور شمال مغربی شام کے علاقے ایک قیامت خیز زلزلہ کا شکار ہو گئے۔ یہ اس قدر شدید جھٹکا تھا کہ انسان و حیوان تو کیا شاندار اور پائدار سمجھی جانے والی عمارات بھی کاغذی ثابت ہو گئیں اور سب کچھ زمین بوس ہو گیا۔ ہزاروں افراد فوری طور پر ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ بہت کم ایسے افراد تھے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی، چونکہ اونچی عمارات کے گرنے سے بے شمار لوگ تادم تحریر بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور تلاش بسیار کا کام جاری و ساری ہے۔

2 کروڑ 30 لاکھ افراد کم ازکم اس آفت سے متاثر ہوچکے ہیں۔ شام کی داستان الم کا تو کیا ہی کہنا، لگتا ہے قدرت کچھ زیادہ ہی ناراضگی کا اظہار فرما رہی ہے، بدنصیب ملک میں پچھلے کئی سال کی اندرونی خلفشار نے بہت کچھ بگاڑ دیا ہے، ہزاروں افراد بے خانماں ہو کر دیگر ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہو گئے ہیں اور یہ جو لوگ ابھی تک اپنے وطن کو اپنی حب الوطنی کی بناء پر رہائش پذیر تھے ان پہ یہ آفت آن ٹوٹی، قابل صد افسوس بات ہے کہ امریکی اس موقع پہ بھی سیاست کی بازیچہ گری سے باز نہ آئے اور شام پہ لگی پابندیوں کی وجہ امدادی سرگرمیوں میں تعطل کا باعث بن رہے ہیں، چونکہ انہیں خدشہ ہے کہ امدادی سامان حکام کے ہتھے نہ چڑھ جائے جس سے ان کی حکومت کو شاید وقتی ہی سہی کچھ آسرا مل جائے۔

ترکی کا جو علاقہ زیادہ متاثرہ ہے وہ بھی ایک دور دراز کا جنوبی حصہ ہے جہاں سڑکیں بھی صحیح حالت میں نہیں ہیں اوپر سے شدید برفانی طوفان اور بارش کی وجہ سے کام اس تندہی سے ممکن نہیں ہوسکا۔ متاثرین زلزلہ کی فوری اور دیرپا علاج و آبادکاری ایک کٹھن موقع ضرور ہے مگر امید ہے ترکیہ کے عظیم لوگ اس گھڑی بھی خندہ پیشانی سے گزر جائیں گے۔ مگر ارباب اختیار کو اس طرح صورتحال سے نبٹنے کی پیشگی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ آخر جاپان نے بھی ایسے زلزلہ پروف انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔

صرف نیت اور ارادہ درست ہونا لازم۔

Facebook Comments HS