چین کی جیت، انسانیت کی جیت


چین کے صدر شی جن پھنگ نے ستمبر 2020 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے عام مباحثے میں ایک بیان میں کرونا کے حوالے سے کہا تھا کہ انسانیت اس جنگ کو جیتے گی۔ مختلف ممالک کے لوگ ہمت، عزم اور ہمدردی کے جن جذبات کے ساتھ اکٹھے ہوئے ان جذبات کی بدولت دنیا نے وبا کے اندھیروں میں روشنی کو ممکن بنایا اور دنیا نے مل کر اس مشکل کا مقابلہ کیا۔

چین نے کرونا وبا کے خلاف اقوام عالم کی قیادت کرتے ہوئے جس انداز میں اس جنگ کا مقابلہ کیا وہ قابل تقلید ہے۔ کوویڈ 19 کے پھیلنے کے بعد سے چین بروقت وائرس کے خلاف لڑنے میں اپنے تجربے کو دنیا کے ساتھ سانجھ رہا ہے، دوسرے ممالک کو انتہائی ضروری سامان فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے، اور عالمی انسداد وبائی تعاون میں فعال طور پر مشغول ہے۔

چین نے اب تک، 153 ممالک اور 15 بین الاقوامی تنظیموں کو انسداد وبا سامان فراہم کیا ہے، اور 180 سے زیادہ ممالک اور خطوں اور 10 سے زیادہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول اور طبی علاج پر 300 سے زیادہ تبادلے کی سرگرمیوں کی مشترکہ میزبانی کی ہے۔

وائرس کے خلاف لڑنے میں اگر کوئی چیز مستقبل کے لیے سب سے زیادہ ضروری تھی تو وہ تھی محفوظ اور موثر ویکسین جس کی تیاری اہم اقدامات میں سے ایک تھی۔ گزشتہ تین سالوں سے چین نے کوویڈ 19 ویکسین کی تیاری اور اس کی تحقیق میں بے پناہ پیش رفت کی ہے اور ویکسین کو عالمی سطح پر عوامی مفاد میں استعمال کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔

ویکسین کی تحقیق میں چین سب سے آگے رہا۔ چین وہ پہلا ملک بھی ہے جس نے کووڈ۔ 19 ویکسین کو عالمی عوامی مفاد کے طور پر پیش کیا ہے، ویکسین انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس سے استثنا کی حمایت کی اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ویکسین کی پیداوار میں تعاون کی حمایت کی۔ کوویڈ 19 انفیکشن کے علاج کے لئے روایتی چینی ادویات (ٹی سی ایم) کا اطلاق کرتے ہوئے، چین نے 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں ٹی سی ایم تکنیک متعارف کروائی اور ضرورت مندوں کو استعمال کے لئے تیار ٹی سی ایم کی پیش کش کی ہے۔

چین نے اکتوبر 2020 میں کوویکس میں شمولیت کے بعد کم ترقی یافتہ ممالک کو مسلسل ویکسین امداد کی پیش کش کی ہے۔ چین نے 2021 میں دنیا کو کوویڈ 19 ویکسین کی 2 بلین خوراکیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کوویکس کو 100 ملین ڈالر کی پیش کش کی تھی۔ مئی 2022 تک، چین نے 153 ممالک اور 15 بین الاقوامی تنظیموں کو انسداد وبا مواد فراہم کیا، جس میں کوویڈ 19 ویکسین کی 2.2 بلین خوراکیں بھی شامل ہیں۔ چین نے 34 ممالک میں طبی ماہرین کے گروپس بھی بھیجے اور 180 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ وبائی امراض سے نمٹنے میں اپنے تجربے کا اشتراک کیا۔

وبائی مرض کے خلاف جنگ میں ترقی پذیر ممالک کے لئے چین کی مدد کو سراہتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف روزاریو کے چین اور ارجنٹائن سے متعلق اسٹڈی گروپ کی رکن رومینا سوداک نے کہا کہ چین ٹھوس اقدامات کے ذریعے انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی بنانے کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ چین کی ان خدمات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین جس ہم نصیب معاشرے کی بات کرتا ہے یا جس مشترکہ مستقبل کا خواب دیکھتا ہے وہ انہی کوششوں کی بدولت ممکن ہے۔

دنیا نہیں جانتی تھی کہ کرونا وبا اس کرہ ارض کا نقشہ، اس کے سوچنے کا انداز اور اس کے مستقبل کے فیصلوں کو یوں تبدیل کر دے گی لیکن یہ بھی اب ایک حقیقت ہے کہ اگر نیت مخلص ہو اور سوچ انسانیت کا مستقبل ہو تو کسی بھی وبا۔ کسی بھی مشکل، کسی بھی آفت اور کسی بھی خوف کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ چین نے کر دکھایا ہے۔

Facebook Comments HS