تعلیم، تدریس اور فلاحی معاشرہ


تعلیم حاصل کرنا اسلام میں فرض کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی پہلی آیت ’اقرا‘ یعنی پڑھو ہی بیان کی جاتی ہے۔ آج کل تعلیم و تدریس کو نوکری یا ڈگریوں کے حصول تک محدود کر دیا گیا۔ لیکن حقیقت میں تعلیم کا مقصد انسان کے لیے ہر وہ علم حاصل کرنا ہے جس سے وہ اپنی خود کی پہچان کرے اس دنیا میں اپنے ہونے کا مقصد سمجھے اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے کارآمد بننے کی کوشش کرے۔ اپنے خالق کو پہچانے اور خلق کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرے۔

یعنی تعلیم کا بنیادی مقصد انسانیت کی بھلائی کہا جاسکتا ہے۔ پہلے وقتوں میں لوگ مدارس میں علم سیکھنے جایا کرتے تھے۔ پھر وقت بدلا، انسانی ضروریات بدلیں تو علم اچھی نوکری اور معاشرے میں پہچان کے لیے حاصل کیا جانے لگا۔ اس خطے کی بات کی جائے تو جب انگریز اس خطے میں آئے، حکمران بنے تو انہوں نے خطے کی زبان کو یکسر نصاب سے باہر نکال پھینکا اور کل کے پڑھے لکھوں کو جاہل گنواروں میں شامل کر دیا تو یہاں کے بہت سے انپڑھ، سرمایہ دار، جاگیر دار لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے لیے دوسرے ممالک بھیجنے لگے۔

جو ’پگ‘ پنجاب کے بہادر لوگوں کی عزت کی علامت تھی وہ اپنے خانساموں اور دربانوں کو پہنا دی، راجپوت جن کی بہادری، جوانمردی سے ایک عالم واقف تھا انہیں نظروں سے گرانے کے لیے حجام کو ’راجہ‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ مولوی صاحب جن کی لوگ دل و جان سے عزت کرتے تھے ان کے لیے ’دو ملاؤں میں مرغی حرام‘ جیسے فقرے ایجاد کروائے۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کے لیے الگ نظام تعلیم متعارف کروایا۔ معاشرے میں عزت کا معیار ظاہری شخصیت کو بنایا۔

لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لیے گروپوں کو الگ الگ متحرک کیا، انہیں تھپکی ماری اور بین المذاہب فتنوں کو ہوا دی۔ مسجدوں، مندروں اور گردواروں کی تعمیر کے حوالے سے تنازعات کھڑے کروائے۔ ہندو مسلم فسادات کے لیے راہ ہموار کی۔ لوگوں کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف ورغلایا۔ جنہیں اپنی دھرتی اور زبان پر فخر تھا انہیں غدار کہا اور جنہوں نے انگریز سرکار کی زبان بولی، انہی جیسے کپڑے پہنے انہیں جاگیریں عطا کیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مغرب کے لوگ ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی سوچ رکھتے تھے۔

مشرق کے نوجوانوں کے لیے تعلیم کا مقصد ہی بدل کے رکھ دیا۔ مغرب میں حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا تو مشرق میں زیادہ نمبر تعلیم کا محرک بنائے۔ مغرب میں نوجوانوں کے لیے فکری، اور سائنسی تجربہ گائیں تعمیر کروائیں تو اہل مشرق کے طالب علموں کے اچھی نوکری، سوہنی چھوکری اور بڑا گھر سب کچھ قرار دیا۔ سرسید احمد خان نے ہندوستان کے لوگوں کو انگریزی پڑھنے کی طرف راغب کیا تھا تا کہ یہاں کے لوگوں کو بھی انگریز سرکار میں اچھے عہدے مل سکیں۔

لیکن انگریزوں نے ایک ایسا نظام تعلیم اور ذہن سازی کی کہ ان کے یہاں سے جانے کے پچھتر سال بھی انہی کے سکھائے طریقوں کے مطابق یہاں نظام چل رہا ہے۔ طالب علم تعمیر و تحقیق کے بجائے زیادہ نمبروں اور بڑی ڈگریوں کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبا کو اچھی نوکری اور زیادہ پیسے کمانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ آج کے ہمارے تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے طلبا صرف امتحان میں امتیازی نمبروں کے لیے رٹے لگا رہے ہیں۔

چند دن پہلے کسی یورپی ملک کی یونیورسٹی میں سکالر شپ حاصل کرنے والا ایک نوجوان بتا رہا تھا کہ انہوں نے اس کی ڈگریوں اور نمبر دیکھنے کی بجائے سوال و جواب، لب و لہجے میں اعتماد اور پریکٹیکل ورک کے حوالے سے انٹرویو لیا۔ یعنی ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبا کے امتیازی نمبروں پر باہر والوں کو یقین نہیں ہے۔ جس طرح آج بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اس طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں تھے بلکہ آج کے دور میں جتنے بھی سائنسی علوم ہیں ان کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں ہی رکھی تھی۔

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنا لیے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ آج پاکستان کے لوگ اپنے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں سے دلبرداشتہ ہیں لیکن سمجھنے والا نقطہ یہ ہے کہ ہر طبقے میں پاکستانی ہی کام بھی تو کر رہے ہیں۔

اس لیے اگر معاشرہ تنزلی کا شکار ہے تو اس کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم ایک ہجوم ہیں جس جب کوئی چاہتا ہے چھڑی سے ہانک لگاتا ہے اور ہم اس کے آگے چل پڑتے ہیں۔ آج بھی ملک کے بہت سے علاقوں میں لوگوں میں احساس محرومی پیدا کرنے والے موجود ہیں۔ وہ ایک طرف اپنی سرداری، چوہدراہٹ، جاگیرداری شان و شوکت کو بحال رکھنے کے لیے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے چلنے نہیں دیتے، لوگوں کے لیے صحت اور بنیادی سہولتوں کی راہ میں بھی روڑے اٹکاتے ہیں تو دوسری طرف اپنے لوگوں کو ترقی یافتہ پنجاب دکھا کے ان کے احساس محرومی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

آج مغرب کی ترقی کا راز تعلیم کو اہمیت دنیا اور جدید تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایک کرنسی متعارف کروائی اور اپنے بارڈر پڑوسیوں کے لیے کھول دیے ہیں۔ ایک ملک کے باسی صبح ناشتہ اپنے ملک میں کرتے ہیں۔ گاڑی پر سفر کرتے ہوئے دوپہر کا کھانا کسی دوسرے ملک سے کھاتے ہیں اور اپنی کاروبار ضروریات کے لیے شام کسی اور ملک جا ٹھہرتے ہیں۔ اور ایک ہم مشرق والے ہیں جو پڑوسی کو دشمن سمجھتے ہیں انہیں سامنے رکھ کے جنگی تیاریاں کرتے ہیں۔

دفاع کو مضبوط سے مضبوط کرتے ہیں اور دفاعی ساز و سامان کے لیے اتنا بجٹ مخصوص کرتے ہیں کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے ہماری حکومتوں کے پاس پیسے ہی نہیں بچتے۔ حکمرانوں، سیاستدانوں، اشرافیہ اور بیوروکریٹس کے بچے اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اس لیے انہیں عام پاکستانیوں کے بچوں کے لیے سوچنے کی کوئی خاص ضرورت ہی نہیں۔ کہنے کو جو مرضی کہا جائے لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کی پہلی ترجیع تعلیم و تربیت کبھی بھی نہیں رہی ہے۔

اپنے محلات تعمیر کروانا، اپنے لوگوں کو نوازنا اور سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرنے والے ملک سے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں۔ آپ دیکھ لیجیے پاکستان جیسے اور دیگر ملک جن کی معیشت تباہ ہو چکی ہے جو آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کرتے ہیں ان کا دفاعی بجٹ اربوں، کھربوں میں ہو گا۔ حکمران طبقے، اشرافیہ اور اور طاقتور محکموں کے لیے مراعات کی بھر مار ہوگی لیکن عام لوگوں کے لیے تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہو گا۔

صاحبو! اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کریں۔ نوجوانوں کو اچھی نوکری کے ساتھ اپنا خود کا کاروبار کرنے کے لیے بھی تیار کریں۔ زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے فطرت بشری سے مطابقت کی بنا پر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں چنانچہ غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیے جائیں گے۔

ہمارے ہاں لوگ دینی اور دنیاوی تعلیم کو الگ سمجھتے ہیں جب کہ حقیت میں ہر علم جو انسانیت کو فائدہ پہنچا سکے وہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

تعلیمی اداروں میں طلبا کی اخلاقی تربیت پہ دینا دھیان اتنا ہی ضروری ہے جتنا نمبر حاصل کرنا۔ بلکہ امتحان میں اخلاقی حوالوں سے عملی سبق بھی شامل کیے جانے چاہیے۔ جیسے طلبا سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس تعلیمی سال میں اپنی گلی، محلے اور قصبے یا شہر کی صفائی ستھرائی، شجر کاری اور قانون پر کس انداز میں عمل کیا ہے۔ اس کے لیے طلبا کو تصاویر مہیا کرنے کا کہا جاسکتا ہے۔ یہ نقطہ یاد رکھنا ہو گا کہ تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی، عبادت، محبت خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار کیے جا سکتے ہیں۔ اعلی اخلاقیات کے حامل لوگ ہی فلاحی معاشرہ تشکیل دیا کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار پیریڈ پڑھائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلبا و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا جانتا ہو، انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کر سکتا ہو۔

Facebook Comments HS