برین ڈرین کے معشیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
معاشیات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ”برین ڈرین یا ذہانت کا انخلا“ کس بلا کا نام ہے۔ عام افراد کی آسانی کے لئے بتائے دیتے ہیں کہ انسانی سرمایہ کی ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی کو ”برین ڈرین“ کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ ملک جہاں انسانی سرمایہ منتقل ہوتا ہے اس ملک میں اس انسانی سرمائے کی منتقلی کو ”برین گین“ کہا جاتا ہے۔
عوام اپنے ملک کے لئے یا تو سرمایہ ہوتے ہیں یا فقط بوجھ۔ وہ لوگ جو اپنی ملکی پیداوار کی ترقی میں بھر پور حصہ ڈالتے ہیں انسانی سرمایہ کہلاتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسرز، سائنسدان، آئی ٹی کے ماہر اور ایسے ہنرمند افراد سرفہرست ہیں جن کی خدمات سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہے۔
کوئی ملک اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس ملک کا ”انسانی سرمایہ“ اپنے آبائی ملک میں رہنے کو ترجیح نا دے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنا آبائی ملک کیوں چھوڑتا ہے؟ وہ ملک جہاں وہ پیدا ہوا، بچپن گزارا، تعلیم حاصل کی، دوست بنائے، جہاں اس کے سارے رشتے دار موجود ہیں اس ملک سے ہجرت آسان ہے؟ اس سوال کا ممکنہ جواب یہ ہے کہ وہ ملک اس کو وہ عزت، وہ روزگار وہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی چاہ میں اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس میں لگا دیے۔
معاشیات کا علم مفروضوں پہ کھڑا ہے۔ کوئی بھی نظریہ پیش کرتے ہوئے ہم بہت ساری چیزیں ہم فرض کرتے ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر اپنا ملک نہیں چھوڑے گا بشرطیکہ اس کو اس کی پسند کے ہسپتال میں نوکری مل جائے۔ اس کی تنخواہ اس کی توقعات کے مطابق ہو، اس کو وہ تمام سہولیات ملیں جو وہ لینا چاہتا ہے۔ اسے اتنی عزت و احترام ملے جس کا وہ حقدار ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں میں سے کسی ایک کی کمی بھی اس کے لئے ملک چھوڑنے کا محرک ثابت ہو گی۔
جب ایسے قابل اور ہنر مند افراد اپنے ملک کو خدا حافظ کہتے ہیں تو پیچھے صرف ”بوجھ“ باقی رہ جاتا ہے یہ اور وہ بوجھ معیشت کی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرتا۔ اگر یہ قابل افراد اپنے ملک میں رہیں تو اس ملک کے ”بوجھ“ کو بانٹ لیتے ہیں اور معیشت کے لئے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
سائنسدان، انجینئرز، پروفیسرز۔ آئی ٹی ایکسپرٹس اور باقی ہنر مند افراد کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ان کی خدمات اپنے ملک میں مزید ”انسانی سرمایہ“ پیدا کرتی ہیں۔
دوسری طرف وہ ملک جو ”انسانی سرمایہ“ کو حاصل کرتا ہے اپنی معیشت اور عوام کی ترقی کو محفوظ کرتا ہے۔ اس ملک کی ترقی کی رفتار دگنا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ ایسے ”دماغ“ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جو اس کی اپنی آبادی کے بوجھ کو بھی اٹھاتے ہیں اور آنے والی نسلوں میں اپنا علم و ہنر بھی منتقل کر دیتے ہیں۔ وہ ملک جہاں سے ذہانت کا انخلا ہوا وہ ان تمام سہولیات سے محروم ہو جاتا ہے۔
کچھ حالات میں صورتحال تھوڑی مختلف بھی ہو جاتی ہے جب کوئی مزدور پیشہ فرد دوسرے ملک جا کر کمائے اور اپنی آمدنی آبائی ملک میں موجود اپنے خاندان کو بھیجتا رہے۔ یہ آمدنی قومی آمدنی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ لیکن ذہانت کا انخلا معیشت کا وہی حال کیا کرتا ہے جو آج کل ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہے۔ رفتہ رفتہ ”سرمایہ“ باہر منتقل ہو رہا ہے اور پیچھے ”بوجھ“ باقی ہے۔


