عدالت، سیاست اور عوام


چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا ہے کہ ’ملکی مسائل کا حل عوامی فیصلے سے ہی ممکن ہے‘ ۔ دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا معاملہ مسلسل تعطل کا شکار ہے اور فاضل جج یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ وہ خود کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں یا انہیں چیف جسٹس کو لارجر بنچ بنانے کی درخواست کرنی چاہیے۔ پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئے ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن ہائی کورٹ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں کوئی وضاحت کرنے سے عاری ہے۔

یہ صورت حال صرف عدالتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پورا ملکی نظام ہی اہم معاملات پر فیصلے کرنے اور ان پر عمل کروانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ آج جو معاہدہ ہونے کی خوش خبری وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سنانے کا اعلان کررکھا، اس میں چار ماہ کی تاخیر اور اس دوران ملک میں پیدا ہونے والے بے یقینی کے ذمے دار بھی وہ خود ہیں۔ لیکن نہ تو انہیں عالمی مالیاتی فنڈ کے بارے میں مضحکہ خیز بیانات دیتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس ہوئی تھی اور نہ ہی اب وہ اسی ادارے کی ساری شرائط مان کر مالی امداد بحال کروانے کی ’خوشخبری‘ کو بہت بڑی کامیابی بتاتے ہوئے انہیں کسی ندامت کا احساس ہے۔ حالانکہ اسحاق ڈار نے انتہائی مشکل حالات میں ملکی معیشت کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے، ایسے طرز عمل کی وجہ سے کسی فعال نظام میں صرف وزیر خزانہ ہی نہیں بلکہ پوری حکومت پر عدم اعتماد کی صورت پیدا ہوجاتی ہے اور پارلیمنٹ نئے حکومتی انتظام پر اصرار کرتی ہے۔

البتہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ نصف کے لگ بھگ ارکان پارلیمنٹ سے باہر ہیں، باقی ماندہ کے پاس موجودہ وزیر اعظم کی حمایت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ حکومت اور وزیر اعظم انہیں زیادہ سے زیادہ کابینہ میں کوئی عہدہ دے سکتے ہیں جو بانٹنے اور قبول کرنے میں کسی حجاب کا مظاہرہ بھی نہیں ہوتا۔ شہباز شریف کی کابینہ، نئے مشیروں کی تقرری کے بعد پوری شان سے سنچری پوری کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ان حالات میں چیف جسٹس کی اس بات سے تو اختلاف ممکن نہیں ہے کہ ملکی مسائل عوامی فیصلے سے ہی ممکن ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب سیاسی فیصلے عدالتوں میں ہونے لگیں اور پارلیمنٹ میں صرف حاضری لگوانے، مراعات لینے یا عہدے کی تاک میں رہنے کا رویہ حاوی ہو تو عوامی فیصلوں کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ کیسے یہ طے ہو گا کہ عوام کیسے فیصلے چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ معلوم کرنا بھی ناممکن ہے کہ ملک و قوم کو درپیش مسائل درحقیقت کیا ہیں۔ ایک طرف سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کسی بھی قیمت پر نظام لپیٹنے پر مصر ہے تو دوسری طرف عدالتیں پارلیمنٹ کی قانون سازی پر مسلسل سوال اٹھاتی ہیں اور یہ طے کرنے میں ناکام ہیں کہ قانون سازی کے معاملات میں مداخلت سے وہ عوامی حاکمیت کو یقینی بنا رہی ہیں یا اسے کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

جس مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عوامی فیصلوں سے مسائل حل کرنے کے معنی خیز ریمارکس دیے ہیں، وہ نیب قانون میں ترمیم سے متعلق ایک درخواست ہے جو تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کا لارجر بنچ یہی طے نہیں کر سکا کہ موجودہ حالات میں اسے قانون سازی کے معاملات پارلیمنٹ کی صوابدید پر چھوڑ کر دیگر اہم امور نمٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر سماعت پر بنچ میں شامل ارکان اپنی سیاسی تفہیم کے مطابق ریمارکس دے کر میڈیا مباحث کے لئے مواد تو ضرور فراہم کرتے ہیں لیکن ایسی کوئی رہنمائی ابھی تک سامنے نہیں آ سکی جس سے یہ طے ہو جائے کہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی اپنا اختیار اور طاقت بہر حال ملکی پارلیمنٹ سے حاصل کرتی ہے اور خود کو اس سے بالا تر نہیں سمجھتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف حکومتی وفد آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم اور بجلی و گیس پر دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں پیچیدہ اور مشکل فیصلے کرنے میں مصروف تھا تو دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج سبسڈی دینے اور بلوں پر سرچارج ختم کرنے کا حکم جاری کر رہے تھے۔ جب یہی طے نہ کیا جا سکے کہ کوئی خاص فیصلہ کرنے کا اصل اختیار درحقیقت کس کے پاس ہے تو ایسی ہی صورت حال دیکھنے میں آتی ہے۔

اسی لئے سپریم کورٹ کے فاضل جج حضرات غور تو نیب قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر کر رہے ہیں لیکن سوال یہ زیر غور آتا ہے کہ پارلیمنٹ غیر فعال ہے یا اس میں نصف ارکان موجود نہیں ہیں، اس لئے اس کے فیصلے متنازعہ ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کیوں کر یہ فیصلہ صادر کر سکتی ہے کہ کسی پارلیمنٹ کے چند یا زیادہ ارکان سیاسی بنیاد پر استعفیٰ دیتے ہیں یا انہیں واپس لیتے ہیں، اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہیں یا اس میں حاضر ہوتے ہیں تو یہ درست طرز عمل ہے یا اس پر گرفت کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا اس مسئلہ کا حل چیف جسٹس کے اپنے فرمان کے مطابق عوام کو کرنے کا حق حاصل نہیں ہے؟ اگر یہ اصول ہی معتبر اور بالادست ہے تو عدالت پارلیمانی معاملات کو عدالتی ریمارکس و مباحث کا حصہ بنا کر کیوں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے؟

اب تو چیف جسٹس کو اس بات پر بھی پریشانی لاحق ہے کہ عمران خان پارلیمنٹ سے استعفے دے کر ضمنی انتخاب میں کیوں حصہ لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے خود ہی استفسار کیا ہے کہ کیوں نہ انہیں طلب کر کے اس سوال کا جواب پوچھا جائے۔ کیا چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا ایسا طریقہ ملک کے آئینی پارلیمانی نظام کو براہ راست ٹارگٹ کرنے کے مترادف نہیں ہو گا۔ اس ملک نے ماضی میں اعلیٰ عدلیہ کی متعدد غلطیوں کا خمیازہ بھگتا ہے اور جوڈیشل ایکٹوازم کے نام پر بہت سے غلط فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ کیا عدالت عظمی کے فاضل ججوں کو واقعی ملک و قوم کو درپیش غیر معمولی صورت حال کا اندازہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ریمارکس یا فیصلوں سے مزید انتشار پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ اور فوج سمیت ملک کے بیشتر ادارے اس وقت ضعف کا شکار ہیں، اس سے پیدا ہونے والے خلا میں سپریم کورٹ کو غیر معمولی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔ لیکن اس طاقت کا غلط استعمال ملکی بحران میں کمی کی بجائے اس میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ موجودہ چیف جسٹس ہی کی سربراہی میں حال ہی میں کیے جانے والے دو فیصلوں نے موجودہ سیاسی بحران پیدا کرنے یا اسے سنگین بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

پہلا فیصلہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کر کے اسمبلی توڑنے کے صدارتی فرمان کو غیر آئینی قرار دینا تھا۔ حیرت انگیز طور پر یہ تاریخ ساز حکم صادر کرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے صدر مملکت سمیت ان عہدیداروں کے خلاف آئین کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی کارروائی کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ صدر، وزیر اعظم یا ڈپٹی اسپیکر کو غیر آئینی اقدام کا ذمہ دار قرار دے کر ملکی سیاسی نظام کو تو تہ و بالا کر دیا گیا لیکن مستقبل میں اس قسم کی کسی کارروائی کی روک تھام کے لئے واضح اصول متعین کرنے اور ذمہ داروں کی جواب دہی کا کوئی طریقہ تلاش کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

ایسے میں چیف جسٹس سمیت ان کا ساتھ دینے والے تمام ججوں کو یہ جواب بہر حال دینا ہو گا کہ بنیادی حقوق کی نگہبانی کے لئے سو موٹو اختیار کو پارلیمانی فیصلوں پر کیوں منطبق کیا گیا۔ حالانکہ بنیادی حقوق کا تعین کرنا تو بجائے خود پارلیمنٹ ہی کا کام ہے، کجا ملک کی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ میں کیے جانے والے ایک فیصلہ کے بارے میں داد رسی کی کسی درخواست کے بغیر ہی عدالتی کارروائی کرتے ہوئے تبدیلی حکومت کا راستہ ہموار کیا۔ بعد از وقت سامنے آنے والی متعدد معلومات کی روشن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیوں عمران خان کی حکومت تبدیل کرنا ضروری سمجھا گیا تھا اور یہ فیصلے درحقیقت کہاں ہو رہے تھے۔ ان معلومات کی روشنی میں بھی عدالت عظمی کے فاضل ججوں کو ماضی قریب میں کیے گئے اس فیصلہ پر ’خود احتسابی‘ کے نقطہ نظر سے ضرور غور کرنا چاہیے۔

موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں آئین کی شق 63 اے کے بارے میں ماورائے آئین تشریح کرتے ہوئے کیا جانے والے فیصلے نے بھی موجودہ بحران کو سنگین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور سے اس فیصلہ کی روشنی میں پنجاب میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بارے میں بھی سپریم کورٹ نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی اور ایسے حکم صادر کیے جن کے باعث ملک میں سیاسی تصادم کی فضا میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ایسے میں عدالت عظمی کے جج اپنی اونچی کرسیوں پر فروکش ہو کر محض دوسروں کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دے کر سرخرو نہیں ہوسکتے۔ جب نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تو کوئی ایک منظم ادارہ ضرور اسے استحکام دینے میں معاونت کر سکتا ہے۔ دریں حالات عدالت عظمیٰ کو سوچنا ہو گا کہ کیا وہ یہ کردار ادا کر رہی ہے یا محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali