مرد افضل ہے: پدر سری ذہنیت کی مخرب الاخلاق خوش فہمی


مردانہ فضیلت کے خود اعزازی تمغے کو چیلنج ہوئے چونکہ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری لہذا اس تمغے کی چمک ابھی بھی بہت جگہ پوری آب وتاب سے موجود ہے۔ اور فضیلت پر ایمان جہاں جتنا زیادہ ہے وہیں بدمعاشی، خوف و ہراس، استحصال، اور تشدد بھی اتنا ہی آب و تاب سے جلوہ گر ہے۔
پدر سری ذہنیت پر کسی ایک صنف کی اجارہ داری نہیں۔ یہ ایک قدیم حیوانی ذہنیت ہے جو اب بھی ہمارے شعور اور لاشعور دونوں کا حصہ ہے۔ اس کا ظہور انسانی معاشروں میں طاقت، مال و دولت یا  صرف مرتبے  کے بل پہ محبت، عزت اور احترام سمیٹنے کی صورت میں نظر آتا ہے اور ناکامی کی صورت میں یہ  ذہنیت تشدد، استحصال، تنقید اور تضحیک  سے ایک خوف و تشدد کی فضا قائم کرنے کی صورت میں نظر آتی ہے۔ متاثرین کے مصلحتاً خاموش رہنے یا خوف سے دب جانے کو یہ ذہنیت عزت و احترام سے ممثل کر کے اپنی انا کی تسکین کرتی ہے۔
فضیلت کسی بہتر جسمانی یا ذہنی صلاحیت کی محض موجودگی نہیں ہوتی، بلکہ کوئی خوبی فضل اسی صورت میں کہلائی جا سکتی ہے جب اس کا استعمال انسانی فلاح و بہبود کے لئے کیا جائے۔
حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں فضیلت کا اعزاز جن قصے، کہانیوں پر مبنی ہے  ان کا نشان نہ تو مستند مذہبی روایات میں اور نہ ہی منطق سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔
قرآن کریم کی جن آیات کو اس مردانہ  فضیلت کے حق میں سب سے پہلے استعمال كيا جاتا ہے وہ النساء کی آیت 34 ہے۔ کیا وہاں واضح، واشگاف الفاظ میں اعلان ہے کہ  الرجال افضل من النساء  وہاں تو بس اتنا کہا گیا ہے کہ بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔  بات ابہام کے انداز میں اس لئے فرمائی گئی ہے کیونکہ مرد اور عورت، دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے۔ تو اس ابہام کو یہ اتنے واضح معنی کس نے دیے۔ ظاہر ہے جب روایتی تفاسیر لکھنے والے سو فیصد الرجال ہی ہوں، تو اپنی صنف کے قصیدے لکھنا کیا مشکل ہے۔ اگر دونوں کا ہی صاحب فضیلت ہونے کا ذکر ہے تو انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ عورت کی شان فضیلت پر بھی حوصلہ کر کہ ایک آدھ جملہ لکھ دیا جاتا مگر روایتی تفاسیر میں صرف مرد کی طاقت، عقل و فہم اور حکمت کے فضائل گنوائے گئے ہیں۔ کیا آج کی عورت جو علم وحکمت اورحکومت میں تو کامیاب ہو ہی رہی، میدان جنگ میں ٹینک اور ھوائی جہاز بھی سنھبال سکتی ہے، وہ مرد کے یہ فضائل کیسے ہضم کرے۔ دوسرے کومحض طاقت سے خوف ذدہ کرنا یا بچھاڑنا حيوانی فضیلت تو ہو سکتی ہے انسانی نہیں۔  انسانی طاقت کی فضیلت تو اسے عقل اور اخلاقی اقدار کے تابع رکھنے میں ہے۔ گاما پہلوان ساجے پہلوان سے طاقتور تو کہلایا جا سکتا ہے افضل نہیں۔

چونکہ مرد کو بچے کی پیدائش کے کٹھن، صبر آزما  اور جان گسل مرحلوں سے مکمل مکتی دی گئی ہے توقدرت کی اس فیاضی سے مستفید ہوتے ہوۓ مرد نے بچہ پالنے کا بھی مکمل کام عورت کے حوالے کر دیا۔ مرد کی فضیلت یہ ہے کہ اس کے پاس ‘وقت’ کی پیش قیمت دولت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ جسے وہ مادی دولت، تحقیق اورعلم کے حصول پربے دریغ خرچ کرتا رہا ہے۔ چونکہ بچہ پیدا کرنے کا معجزاتی کرشمہ وقت اور جسم  کی قربانی مانگتا ہے تو قدرت نے عورت کو تو ایک جسمانی گھڑی سے باندھ رکھا ہے مگر جسمانی گھڑی سے آزادی نے مرد کو وقت کی بے پایاں دولت سے نوازا ہے۔ اور اگر بے پایاں وقت کی یہی فضلیت ہرعورت کے پاس ہو تو وہ بھی محض دنیا کی آبادی میں اضافہ کرنے کے بہت کچھ کر سکتی ہے۔ اگر عورت کے جسم اور انتھک قربانی کا تقاضا کرنے والے کردار کی تحقیرو تضحیک ‘صرف بچے پیدا کرنے والی مشین، ‘  بے چاری گھریلو عورت’،  ‘سارا دن گھر میں فارغ ‘کہہ کر کی جاتی رہے گی تو اس کا پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ پھر وہ وقت کی یہی فضیلت حاصل کرے، بچے اور گھریلو کاموں کے جھنجٹ سے آزادی حاصل کرے اور اپنے آپ کو اور اپنی صلاحیتوں کو منواۓ اور عزت اپنی ذہنی صلاحیتوں کے بل پر حاصل کرے نہ کی خاوند کے مال یا بیٹوں کی تعداد پر۔ اور اب  وہ یہ کر رہی ہے اور اسی لئے پدر سری ذہنیت کے حامل خواتین و حضرات کو انتہائی بری طرح کھٹک رہی ہے۔
پھر اکثربی بی حوا کو سیدنا آدم  کی پسلی سے پیدا ہونے کو مردانہ فضیلت کی ٹوپی کا بیش قیمت پر قرار دیا جاتا ہے- عورت پر ترس کھانے کے بعد پسلی اور اس کی ٹیڑھ کے فضائل بیان کۓ جاتے ہیں، اور پسلی کی دل سے قربت ثابت کر کے  عورت کو کرہ ارض کی سیکنڈ کلاس سیٹزن شپ کو اپنی قسمت سمجھ کر راضی رہنے کی تلقین کی جاتی ہے! اس سنے سنائے قصے کو قرآنی آیات کی من مانی تشریحات کے ساتھ اتنا راسخ کیا جاتا ہے تاکہ جو روز اس دیدۂ بینا کے سامنے اس فاضل مرد کی آمد عورت کے جنوبی علاقے سے ہو رہی ہے اس سے اس کی فضیلت کے بیانیئے پر کوئی حرف نہ آۓ۔  ایک حوا کی پسلی سے پیدائش پر جو تمام  مرد برادری اعزاز لینے کو لائن حاضر قطار میں موجود نظر آتی ہے وہ  ان  تمام خواتین کو جو روز و شب آنکھوں کے سامنے جنوب سے مرد پیدا کر رہی ہے اس فضیلت  و عزت،احترام کی اعزازی ڈگری دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں، ماسوائے اپنی ایک والدہ کے عظیم کارنامے کے!  باقی تمام خواتین  کو تو وہ محض گالم گلوچ کا ذخیرہ الفاظ سمھجتے ہیں!
پچھلے دنوں ایک محفل میں ایک خاتون کو گلہ تھا کہ ان کی بہو کو امریکہ میں نوکری مل گئی تو بیروزگار بیٹا ماں باپ کو چھوڑ کر بیوی کے ہمراہ ہو لیا۔ گلہ مگر یہ تھا کہ آج کل کی لڑکیوں کو یہ احساس نہیں کہ چاہے نوکری بھی کر لیں بہرحال مرد کا درجہ پھر بھی بلند ہے۔  اس بات پر بھی تاسف تھا کہ آج کل کے (مہذب) لڑکے بھی اپنے بلند رتبے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جب ان سے پوچھا گیا یہ بلند درجے کی کہانی کہاں ہے تو فرمایا گیا قرآن میں صاف تو لکھا ہے۔ پھر ان کو واضح کیا گیا کہ یہ آیت  محض اس  atomistic approach یعنی جز کو کُل سے علیحدہ کر کے دیکھنے کا شاخسانہ ہے جو عورت کو دبانے کے لئے ایک پرتشدد  مسلم  معاشرے میں آخری پتے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔  یعنی جس آیت بقرہ 228 کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف  طلاق کے معاملات کے بارے میں ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ’  اُن کے شوہر اگر معاملات کی اصلاح چاہیں تو اِس (عدت کے) دوران میں زیادہ حق دار ہیں کہ اُنھیں لوٹا لیں’۔ علیھن میں ھن کی ضمیر استعمال ہوئی ہے مطلب جس مطلقہ کا ذکر پیچھے ہو رہا ہے اس پر شوہر کا حق/ درجہ زیادہ ہے اگر وہ دونوں صلح کرنا چاہیں۔  مگر روایتی تفاسیر میں اسے کُل عالم کے مردوں کا درجہ کُل عالم کی عورتوں پر قرار دے کرخوب قصیدہ گوئی کی گئ ہے۔ یہ فہم کی غلطی ہو تو قابل معافی ہے مگر اگر قصدًا کی گئی ہے تو قرآن کے ساتھ اس سے بڑی گستاخی اور بد دیانتی ممکن نہیں۔
پھر ایک شادی کی تقریب میں درس سننے کا اتفاق ہوا جس میں بچی کو ہی برداشت اور صبر کی تلقین کے ساتھ یہ یاد دہانی کرائی گئی کہ شوہر کا درجہ اتنا بلند ہے کہ اگر سجدے کا حکم  ہوتا تو بیوی کا شوہر کو ہوتا! جس پر کسی نے پوچھا کہ اگر حکم لاگو ہو جاتا تو سجدے کا موزوں وقت کیا ہوتا۔ کیا کنٹڑیکٹ کے کاغذ پر دستخط کرتے ہی وہ اس رتبے پر فائز ہو جائے گا، یا کچھ سالوں کی عمدہ کفالت کے بعد اسے یہ درجہ ملنا چاہیے اور اگر سجدوں کے بعد طلاق کی نوبت آ جائے تو سجدے کیسے لوٹائے جا سکتے ہیں۔ والدین کو سجدہ کہا جاتا تواس کی کوئی منطق بھی تھی، جو ایک دوجے کا لباس ٹھہرے وہاں کیسی درجہ بندی۔  ایک  کامیاب شادی مرد اور عورت دونوں کی قربانی سے ہی ممکن ہے۔ مگر عورت کی قربانیوں کی فہرست بہرحال مرد سے کہیں طویل ہے۔ تو مرد کس بنا پر مسجود النساء کے رتبے کے قابل سمھجا جاتا ہے، جب کہ وہ تو جنما بھی ایک عورت سے  ہی ہے۔  جوان بچیوں کے سوال تو بہت فکر انگیز تھے مگر جواب استغفار کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یعنی جب لایعنی قصوں کو منطق اور دلیل سے ثابت نہ کیا جا سکے تو استغفار ہی کیا جا سکتا ہے۔ افسوس تو یہ تھا کہ لڑکے کے لئے ایسے کسی درس کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا جہاں اسے صرف اس کی فضیلت کا ہی احساس نہ دلایا جائے بلکہ اسے آنے والی کے عزت، احترام اور محبت کا درس دیا جائے۔
اس ذہنیت کا اثر محض گھروں تک محدود نہیں رہا۔ وکٹوریہ بیٹمین کی کتاب ‘ دی سیکس فیکٹر’ اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ آج کی گلوبل ظالمانہ اقتصادی پالیسیوں کی وجہ مرد کا اقتصادیات پر حاوی ہونا اور عورت کو اس سے مکمل بےدخل رکھنا ہے۔ مرد نے اپنے ہر کام کا تو معاوضہ طلب کیا مگر عورت کے کام کی تحقیر کر کہ ہمیشہ مفت مشقت کروائی۔
ذeco feminism کی اصطلاح بھی اسی لۓ وجود پذیر ہوئی  کہ جب مرد نے عورت کو گھر بند کر کے خود کو پیسہ بنانے والی مشین تصور کر لیا تو اس پیسہ کمانے کی دوڑ میں نہ صرف اس نے عورت کا استحصال کیا بلکہ ماحولیاتی استحصال اور تباہی کا بھی باعث بنا۔
دنیا  پدرانہ خود غرضی  کےنتائج تو دیکھ رہی ہے جس کے لئے صرف اپنا اور اپنی اولاد کا ہی بھلا  اہم ہوتا ہے مگر اس کرہ ارض کو اب شفیق اور بے غرض ممتا کی ضرورت ہے جو صرف اپنے اور اپنی اولاد کے لئے ہی با عزت اور آرام دہ زندگی کے لۓ لوٹ کھسوٹ نہ کرے بلکہ تمام دنیا کو اپنا گھر اور تمام انسانوں کو اپنا کنبہ سمجھے۔

Facebook Comments HS