کھلاؤ سونے کا نوالہ، رکھو شیر کی نظر
بچپن سے یہ کہاوت مختلف مقامات پر سنتی آئی مگر کبھی سمجھ نہ آ سکا یا سمجھنے کی کوشش نہ کی یا یوں کہہ لیں جس جس سے جس کے بارے میں سنی کچھ اچھا تاثر نہ ملا۔ کبھی کسی کے شوہر کے لیے ایسا سنا کہ بیوی کو کھلاتا سونے کا نوالہ ہے مگر ہے شیر کی نظر اس لیے بیوی خوش نہیں ہے، تو کبھی ساس کے بارے میں سنا کہ بہو پہ شیر کی نظر رکھی ہے اللّٰہ کا دیا سب کچھ ہے پھر بھی لڑکی خوش نہیں ہے۔ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہی یہ تھی کہ جب سب کچھ میسر ہو تو انسان خوش نہ ہو یہ تو سراسر ناشکری کی بات ہوئی۔ لیکن آج ایک کہانی کسی سے سنی اس کہانی کا مقصد یا پس منظر میں ہرگز بھی اس کہاوت کا گزر نہیں تھا بلکہ وہ آج کل کہ روز و شب سے متاثر ایک مثال تھی جو ہم پہ گزر رہی ہے۔ یہ کہاوت تو میں نے اپنے آپ اس قصے سے منسلک کرلی گویا کہانی سن کہ اس کہاوت کا مطلب بھی سمجھ آ گیا اور کہانی کا بھی۔ کہانی کچھ یوں تھی؛
ایک گاؤں میں ایک چرواہا کو درویش بنے کی سوجھی اس نے اپنے نومولود بھیڑ کے بچے گاؤں میں موجود باقی چرواہوں کو بطورِ امانت دیے کہ میں عبادت کے غرض سے دنیاوی معاملات سے دور جا رہا ہوں میرے مویشیوں کا خیال رکھنا لیکن یاد رہے کہ یہ امانت ہیں جس حال میں دیے جا رہا ہوں اسی حال میں واپس چاہیں۔ نہ ان کا قد بڑھے، نہ حجم نہ اور کوئی تبدیلی رونما ہو تمام چرواہے متذبذب کا شکار ہوئے ایک آدھ نے سوال پوچھنے کی جسارت بھی کی مگر کارگر ثابت نہ ہوئی یہ بھی نہ کہہ سکے کہ ان کو زندہ رکھنے کے لیے رقم درکار ہوگی اور ہماری اتنی گنجائش نہیں کہ ان کی دیکھ بھال کر سکیں بلکہ ہر سوال پہ امانت، صداقت، ہمت کا درس ملتا رہا۔ بچارے مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق چپ چاپ خاموشی سے ایک ایک بھیڑ رکھ لی اور اپنی اپنی سمجھ کہ مطابق ان پہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے جس سے وہ اسی حالات میں زندہ رہیں۔
دو سال بعد درویش واپس آیا اور ایک ایک کر کے اپنی بھیڑیں طلب کی تو معلوم ہوا کہ کسی نے پانی کم دیا کی وہ بڑی نہ ہو جائیں تو کسی نے چارا نہ دیا کہ وزن نہ بڑھ جائے اور یوں ایک ایک کر کے کچھ بھیڑیں ہفتے اور کچھ مہینے میں دم توڑ گئیں۔ ایک آخری مویشی سے دریافت کیا تو پتا چلا اس کہ پاس بھیڑ موجود ہے اور زندہ بھی ہے اور اسی حالت میں ہے جس حالت میں اسے سونپی گئی تھی۔ درویش بہت حیران ہوا، پوچھا تم نے ایسا کیا کیا کہ یہ بھیڑ زندہ اسی قد، وزن اور دیگر جسمانی خواص کے ساتھ موجود ہے؟ مویشی نے کہا میں نے اس کو سب کچھ دیا پانی بھی، چارا بھی اور جو بھی اجزاء اس کو زندہ رکھنے کے لیے درکار تھے لیکن اس کو ایک پنجرے میں قید کر کے ایک بھیڑیا اس کے سامنے کھلا چھوڑ دیا جس نے اس کو بڑھنے نا دیا۔
خوف اور قید ایسے عناصر ہیں جو کسی جاندار کی نشو و نما کو نہ صرف جسمانی طور پر محدود کر دیتے ہیں بلکہ ذہنی سوچ پر بھی تالے لگا دیتے ہیں۔ پس یہی حال انسان کا بھی ہے اگر اسے سونے کا نوالہ بھی دیا جائے لیکن بھروسا، آزادی بولنے کی، سوچنے کی اور سوچ پر عمل پیرا ہونے کا سکون نہ دیا جائے تو انسان زندہ تو شاید رہے گا اور اس زندگی کو امانت سمجھ کر جب تک چلے گی چلا بھی لے گا مگر نہ کبھی خوش ہو گا اور نہ کوئی تخلیقی کام کر سکے گا۔ یہ خوف اس کو نہ ذہنی طور پہ بڑھنے دے گا نا جسمانی طور پہ۔
انگریزی میں اس کہاوت کو کیا کہتے ہیں مجھے پتا نہیں لیکن ایک لفظ ”مائیکرو مینیجمنٹ“ (micromanagement) شاید اس کہاوت کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے کافی ہے۔
بقول شاعر؛
اس قدر زندان میں آزادی میسر ہے مجھے
جس قدر دور میرے پاؤں کی بیڑی جائے


