ہماری قوم اور حاجی کی رائے


حاجی صاحب سارے رستے اسی خیال سے اپنی آتما کلپاتے رہے کہ دنیا سے آدمیت رخصت ہو چکی ہے۔ کیسا بے شرم شخص ہے کہ بار بار کی تکرار کے باوجود قرض چکانے کو تیار ہی نہیں۔ انہیں یہ دھڑکا بھی لاحق تھا کہ ایسے بے آبرو شخص کا کیا بھروسا جو گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی بچے سے جھوٹ کہلوا بھیجے اور اس جان سوز گرمی میں میرا آنا رائیگاں جائے۔ خلاف توقع، حاجی صاحب کی پہلی دستک پہ مقروض بھاگتا چلا آ یا اور بڑی خندہ پیشانی سے حاجی صاحب سے بغل گیر ہوا۔ آداب و تسلیمات کے بعد بیٹھنے کے لئے حاجی صاحب کو چوبی کرسی پیش کی۔ بتی کی عدم دستیابی کے باوجود حاجی صاحب کے لئے فرشی پنکھے کا سوئچ ساکٹ میں نصب کیا۔

حاجی صاحب نے دل میں سوچا، بندہ تو بھلا معلوم ہوتا ہے، ضرور کوئی مجبوری رہی ہوگی جو قرض نہ لوٹا سکا۔ پسینے میں شرابور حاجی صاحب خشک گلے کے ساتھ اس انتظار میں تھے کہ اب کچھ مہمان داری ہو جائے تو بات شروع کروں۔ میزبان کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ نہ ملنے پہ حاجی صاحب نے دل میں اسے کوستے ہوئے کہا، وہ شخص کیسے خوب ہو سکتا ہے جو آداب میزبانی سے ہی نا آشنا ہو۔ یہ بندہ تو انتہائی برا ہے۔

پیاس سے نڈھال، حاجی صاحب نے مہمانانہ تکلف ملحوظ رکھتے ہوئے ایک گلاس آب سادہ کی فرمائش کر دی۔ میزبان خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا اور واپسی پہ ہاتھ میں سکنجبین کا ایک بڑا سا جگ تھامے برآمد ہوا۔ میزبان نے تاخیر کی وضاحت بیان کرتے ہوئے کہا، کہ گھر میں برف موجود نہ تھی جس کے لئے بچے کو دکان پہ بھیجنا پڑا ذرا دیر ہو گئی، میں اس کے لئے تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں

حاجی صاحب نے دل میں سوچا، بندہ تو بہت اچھا ہے، مجھ سے ہی خطا ہوئی جو پہچان نہ پایا۔ جگ میں موجود ٹھنڈی سکنجبین کے نظارے سے ہی حاجی صاحب کی پیاس دو آتشہ ہو گئی۔ لبالب گلاس، ایک ہی سانس میں، حلق میں انڈیل ڈالا۔ شیریں سکنجبین کے ابہام میں، جب ترش لیموؤں کا عرق حاجی صاحب کی آنتیں جلاتا ہوا معدہ تک پہنچا تو وہ بلبلا اٹھے، بڑبڑاتے ہوئے بولے، کیسا کنجوس و منحوس ہے کہ ذرا برابر بھی شکر ملانے کی توفیق نہ ہوئی اس کو۔ اتنا ترش گویا کہ ’آب آخرت‘ ہی پلا ڈالا ہو مجھے۔

میزبان، مہمان کے چہرے پہ آ ثار بد دیکھ کے سخت تشویش سے دوچار ہوا اور معذرت کرتے ہوئے بولا، میں بتانا بھول گیا چینی وافر مقدار میں، میں ساتھ لایا تھا تا کہ آپ حسب ضرورت استعمال کر سکیں۔ حاجی صاحب ایک بار پھر جھینپ سے گئے اور دل میں سوچنے لگے۔ بندہ تو اچھا ہے یار۔ مجھے ہی غلط فہمی ہوئی۔

مشرف کی موت پر ہماری قوم کی رائے سکنجبین والے حاجی صاحب سے مختلف نہیں۔ ہمارے پروفیسر صاحب کہتے ہیں، بہت اچھا تھا، یونیورسٹیاں بنا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں بہت برا تھا، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بیچ گیا۔ انجینئر صاحب فرماتے ہیں بہت اچھا تھا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑا کام کیا۔ مولوی صاحب کہتے ہیں بہت برا تھا۔ اسلامی تشخص کو بہت نقصان پہنچایا۔ پاکستان میں بسنے والا ہجوم، نصف، پرویز مشرف کی بخشش میں حائل رکاوٹیں اپنی دعاؤں سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور نصف اس کی لاش کو پھانسی پہ لٹکانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ پرویز مشرف کا ہی نہیں ہماری قومی اتفاق رائے کا بھی جنازہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں درست کون ہے؟

قرآن پاک، سورہ ابراہیم میں یہ کسوٹی پیش کرتا ہے کہ اگر اصول پامال ہو جائے تو باقی سب رائیگاں ہے۔ اس کے بعد کسی نیکی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ پرویز مشرف کی تعریفوں کے پل باندھنے والوں سے میرا یہ سوال ہے، کیا مشرف نے اصول پامال کیا؟ اگر ہاں تو پھر اس کے سارے کارنامے صفر سے ضرب کھا چکے ہیں۔ آپ آٹھ گھڑی چونسٹھ پہر اس کی تعریفوں میں زمیں و آسمان کے قلابے ملاتے رہیں اور تحریریں لکھتے رہیں تو بھی تاریخ کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔

 

Facebook Comments HS