بوسنیا کی چشم دید کیانی 29


میں گاڑی کی روانگی سے کوئی آدھا گھنٹہ قبل اسٹیشن پر پہنچا۔ گاڑی پلیٹ فارم پر تیار کھڑی تھی۔ یہ زغرب تا بڈاپسٹ چلنے والی ریل گاڑی کی تقریباً ہم شکل و ہم ساخت تھی۔ مجھے جس کیبن میں جگہ ملی وہاں پہلے سے ایک مسافر موجود تھا۔ اُس کا نام زاہد تھا۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور تعلق ایران سے تھا۔ پراگ میں آباد تھا۔ تعلیم بھی وہیں حاصل کی تھی، شادی بھی وہیں رچائی تھی۔ اس کے ساتھ گُھلنے ملنے میں دیر نہ لگی۔ گاڑی اپنے مقررہ وقت پر منزل کی طرف چل پڑی۔

ہماری گپ شپ جاری رہی۔ وہ انقلاب ایران کے فوراً بعد پراگ چلا آیا تھا۔ اس کے بعد ایران کبھی نہیں گیا تھا۔ وہ انقلاب کے بارے میں کوئی مثبت رائے نہیں رکھتا تھا اور اُس کے خیال میں ایران میں شخصی آزادی کا حال آج بھی ویسا ہی ہے جیسا انقلاب سے قبل تھا۔ لہٰذا معاملہ ”طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی“ والا تھا۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ پھر اپنی اپنی سیٹوں پر لمبی تان کر سو گئے۔ ہمارے آرام میں خلل اس وقت پیدا ہوا جب گاڑی نے جمہوریہ سلواکیہ کی سرحد عبور کی اور کسٹمز کا عملہ سامان اور پاسپورٹ کی پڑتال کے لیے گاڑی میں داخل ہوا۔ ہم نے حالتِ غنودگی میں جلدی جلدی پاسپورٹ چیک کروائے اور ایک بار پھر سو گئے۔ اب کے نیند ابھی کچی ہی تھی کہ جمہوریہ چیک کا کسٹمز کا عملہ سر پر آن کھڑا ہوا۔ میرے پاسپورٹ پر چیک کا ویزہ نہ پا کر کسٹمز افسر نے حیرت کا اظہار کیا۔ میں نے اُسے بتایا کہ سرکاری پاسپورٹ کی صورت میں دونوں ممالک کے شہریوں کو اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس نے اپنے ایک اور ساتھی سے اس سلسلے میں رابطہ کیا۔ اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک کتاب نکالی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ پھر ایک صفحہ پر تھوڑی دیر نظر جمانے کے بعد اثبات میں سر ہلایا۔ میرے پاسپورٹ پر داخلہ مہر ثبت کر کے مسکراہٹ کے ساتھ اسے میرے حوالے کر دیا۔ مجھ پر نیند کا کچھ ایسا غلبہ تھا کہ میں جوابی مسکراہٹ کا اخلاقی تقاضا بھی پورا نہ کر سکا اور سیٹ پر ڈھیر ہو گیا۔ اب کی بار آنکھ تب کھلی جب گاڑی پراگ کے اسٹیشن میں داخل ہونے کو تھی۔

پراگ ریلوے اسٹیشن کے چہار اطراف گنبدوں سے آراستہ قدیم عمارت کے نیچے جدید طرز کی عمارت اس انداز سے تعمیر کی گئی ہے کہ پلیٹ فارم پر اتر کر آپ سیڑھیوں کی مدد سے مرکزی حصے تک پہنچتے ہیں۔ یہاں مسافروں کی سہولت کا ہر انتظام موجود ہے۔ ادھر یورپ کے مختلف شہروں سے آنے جانے والے مسافروں کی ایک بھیڑ لگی ہوتی ہے۔ جانے والے مسافر یا تو ریستورانوں میں بیٹھے ہوتے ہیں یا پھر ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے وقفے وقفے سے تبدیل ہونے والے ریل گاڑیوں کے نظام الاوقات کی نشان دہی کرنے والے ایک بڑے بورڈ کو گھورتے رہتے ہیں۔ یوں وہ باری باری مختلف پلیٹ فارموں کا رخ کرتے ہیں۔ آنے والے مسافروں کا رُخ یا تو بینکوں کی طرف یا پھر رہائش کا انتظام کرنے والے دفاتر کی طرف ہوتا ہے۔ پراگ کے ریلوے اسٹیشن پر واقع یہ دفاتر دوسرے شہروں کی طرح رہائش کے بارے میں صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ یہاں بکنگ بھی کی جاتی ہے۔

مقامی کرنسی کے حصول اور پھر ناشتے کے بعد میں نے ایسے ہی ایک دفتر سے رابطہ کیا۔ ہمیشہ کی طرح سستی رہائش کی نشان دہی کی فرمائش کی۔ کاؤنٹر پر موجود صاحب نے کمپیوٹر سے کچھ چھیڑ خانی کی پھر بتایا کہ 12 ڈالر یومیہ کے حساب سے یوتھ ہاسٹل میں رہائش دستیاب ہے۔ معلومات حوصلہ افزا تھیں، چنانچہ میں نے دو یوم کے اخراجات ادا کیے جس کی رسید دیتے ہوئے نقشے کی مدد سے مجھے اپنے ٹھکانے تک رسائی کی ترکیب بھی سمجھا دی گئی۔ یہ ہاسٹل شہر کے مرکز میں واقع تھا جہاں تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اپنے منجی بستر پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد تیار ہو کر پھر شہر کی سیر کو نکل پڑوں گا۔ لیکن ہاسٹل پہنچنے پر پتہ چلا کہ اس خواہش کی تکمیل میں کوئی دو گھنٹے کا انتظار حائل ہے کیوں کہ یہ وقت صفائی کا ہے، ابھی استقبالیہ سے آ گے جانا منع ہے۔

دو گھنٹے بعد مجھے ہاسٹل کے جس حصہ میں جگہ ملی اس میں ہر رہائش دو کمروں پر مشتمل تھی۔ ہر کمرے میں آٹھ بستر تھے اور ایک باتھ روم۔ میں نے جلدی جلدی تیاری کی۔ پھر ترو تازہ ہو کر اس ہجوم کا حصہ بن گیا جو محوِ تماشائے پراگ تھا۔

ولاٹاوا، ایک بڑی ندی سا دریا اپنے اندر چھوٹے چھوٹے جزیرے بناتا ہوا پراگ کے وسط میں بہتا ہے۔ اس پر پھیلے ہوئے آبی پرندوں کی چہچہاہٹ دریا کے شور سے ہم آہنگ ہو کر فضا میں موسیقیت بکھیرتی چلی جاتی ہے۔ شہر میں یورپ کے روایتی فنِ تعمیر کی جلوہ نمائی کے ساتھ ساتھ قدیم عمارتیں دریا کے دونوں جانب ہر مسافر کی چشم حیران کا مرکز ہوتی ہیں۔ اس ماحول کے سحر کو بڑھانے کے لیے شہر کے دونوں حصوں کو ملانے والا شعبدہ تعمیر، چارلس برج، فسوں کار ثابت ہوتا ہے۔ میں دن بھر ولاٹاوا کے آر پار پھیلی ہوئی قدیم عمارتوں کا نظارہ کرنے کے بعد شام ڈھلے سنٹر واپس لوٹا۔ میں کافی تھک چکا تھا لہٰذا سینٹر میں دونوں جانب قطار میں لگے ہوئے درختوں کے زیرِ سایہ بنے ہوئے سیمنٹ کے بنچوں میں سے ایک پر بیٹھ کر سستانے لگا۔

پراگ کے سینٹر کی رات اس کے دن سے کچھ کم روشن نہ تھی۔ موسم میں خنکی کے باوجود ہر طرف چہل پہل تھی۔ اچانک میری نظر کچھ فاصلے پر ایک دکان کے شوکیس کے برابر کھڑی دو لڑکیوں پر پڑی۔ اُن کی حرکات سے بازاری پن عیاں تھا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ابھی تک میں نے یورپ کے جن جن شہروں کا دورہ کیا تھا اُن میں بڈاپسٹ میں جنسی رغبت کے اشتہارات کی شکل میں صلائے عام کے باوجود، یوں سربازار کھلی دعوت دیتی ہوئی لڑکیاں کہیں نہیں دیکھی تھیں۔ اب جو میں نے سینٹر کے کچھ دوسرے حصوں کی طرف توجہ دی تو اس طرح کے کچھ اور مناظر سے بھی نظریں دو چار ہوئیں۔ اس کے ساتھ زغرب میں جمہوریہ چیک کے سفارت خانے کے افسر کے الفاظ میرے کانوں میں گونجے ”خیال کیجیے گا پراگ میں آپ کے ایمان کے امتحان کا اور بھی بہت سا سامان ہے“ ۔ یہ امتحان نہ صرف سینٹر میں جا بہ جا ٹہلتی ہوئی اُن لڑکیوں کی شکل میں موجود تھا جن کی ہر ادا یہ نقارہ پیٹ رہی تھی

میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو

بلکہ شہر میں جگہ جگہ لڑکے لڑکیاں ٹولیوں کی شکل میں رات ہو یا دن ایسے اشتہارات بانٹتے ہوئے ملتے تھے جن کا مقصد آپ کو شہر کی جنسی رنگینیوں کی طرف راغب کرنا ہوتا تھا۔

پراگ میں تماش بینی کی اضافی دل چسپیوں سے قطع نظر اس شہر کی بڑی دل چسپی اس کا قدیم ہونا ہے۔ میرے قیام کے دونوں دن بھی اسی دل چسپی کی نذر ہوئے۔ یوں تو اس کے ہر قدیم حصے میں مسافروں کا ایک میلہ لگا ہوتا ہے لیکن شہرِ قدیم کے چوک (Old Town Square) میں کچھ ایسا ہجوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود سیاح کو ایسے ہی تنگ محسوس ہوتا ہے جیسے مجنوں کو صحرا۔ یہ ایک کھلا مقام ہے جس کے ارد گرد پرانی عمارتیں خصوصی طور پر گرجا گھر Catholic، Ranaissance Barouque & Rucoco اندازِ تعمیر کے نمونے لیے اپنے اونچے میناروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان گرجا گھروں کے سامنے وہ مشہور فلکیاتی گھنٹہ گھر ہے جو پراگ کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور سیاحوں کی توجہ کا خصوصی مرکز ہوتا ہے۔ یہ 1410 ء میں تعمیر کیا گیا۔ یہ گھڑیال چاند کے گھٹنے بڑھنے کے ایام، موسم کی تبدیلیوں اور مذہبی تہواروں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہر گھنٹے کے گزرنے کے بعد فضا میں ٹن ٹن کی آواز گونجتی ہے۔ اس میں بنے ہوئے دو دروازے وا ہوتے ہیں۔ ان دروازوں میں سے حضرت عیسیٰؑ کے بارہ حواریوں کے مجسمے برآمد ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گھڑیال کے نچلے حصہ میں لٹکتے ہوئے چار بُت محوِ رقص ہو جاتے ہیں۔ اس گھڑیال کا معمار Master Hanus نامی شخص تھا جسے اپنے فن کی داد اپنی بینائی سے ہاتھ دھونے کی شکل میں ملی۔ روایت کے مطابق میونسپل کونسل کے اراکین نے یہ فیصلہ کیا کہ گھڑیال کی یکتائی کو برقرار رکھنے کی خاطر اس کے معمار کو اندھا کر دیا جائے۔ سو ایسا کر دیا گیا اور ہانس نے ایک دن اسی گھڑیالی مینار سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی

ع۔ نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

ولاٹاوا کے دائیں کنارے پر چارلس برج سے گزر کر آپ اس پہاڑی پر پہنچتے ہیں جہاں Prazsky Hrad یعنی قلعہ پراگ واقع ہے۔ یہ قلعہ پہاڑی کے ارد گرد بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ایک حصہ میں صدرِ جمہوریہ کی رہائش گاہ ہے۔ یہ بے شمار کمروں، گرجوں، میناروں اور باغات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں ایک ایسا گرجا بھی موجود ہے جس کی تکمیل کو چھ صدیاں لگیں

پراگ سے واپسی بھی اُسی انداز میں ہونی تھی جس طرح یہاں کے لیے بڈاپسٹ سے روانگی ہوئی تھی۔ رات گیارہ بجے بڈاپسٹ کے لیے روانہ ہونے والی ریل گاڑی پر میری سیٹ پہلے سے محفوظ تھی۔ دو دن کی سیاحت کے بعد پراگ اب میرے لیے ہرگز اجنبی نہ رہا تھا۔ اس کے اہم مقامات کو جانے والے راستے اب مجھے ازبر تھے۔ میں نے ہاسٹل کے قواعد کے مطابق کمرہ دن گیارہ بجے ہی خالی کر دیا تھا۔ لیکن سامان رات تک کے لیے استقبالیہ میں جمع کروا دیا تھا۔ میں نے رات دس بجے کے قریب ہاسٹل پہنچ کر اپنا بیگ اُٹھایا اور پیدل پراگ کے سینٹر سے ہوتا ہوا ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑا۔ اپنی ہنگامہ پسند طبیعت کو پراگ کی رونقیں کچھ ایسی بھائی تھیں کہ اب وقتِ رخصت دل کھنچ سا رہا تھا۔ میں نے اسٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے اپنی رفتار نہایت سست رکھی اور پیچھے ہٹتے ہوئے مناظر کے نقش سمیٹتا گیا

منظر کی زندگی ہے فقط ایک ثانیہ
لمحہ گزر گیا تو زمانے گزر گئے

میں پراگ سے بڈاپسٹ علی الصبح ہی پہنچ گیا۔ یہاں سے زغرب جانے والی پہلی گاڑی دن تین بجے روانہ ہونا تھی۔ اپنا سامان اسٹیشن کے محافظ خانے میں جمع کروانے کے بعد میں دن تین بجے تک کا وقت گزارنے شہر کی طرف چل پڑا

کچھ آوارہ گردی اور کچھ خریداری کرتے ہوئے یہ وقت گزر گیا۔ شام تین بجے میں نے بڈاپسٹ کو یہ کہتے ہوئے ”دووے جینا“ یعنی الوداع کہا

ع۔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا
رات زغرب میں ولیکا گوریسہ بستی میں گزارنے کے بعد اگلی صبح میں بذریعہ بس سٹولک کے لیے روانہ ہوا اور شام سے کچھ پہلے اپنی منزل پر پہنچ گیا۔

Facebook Comments HS