سعودی پکوان میں چاولوں کے پکوان کی اہمیت

پوری دنیا میں کسی بھی خطے یا ملک میں جو کھانا مقامی طور پر روایتی یا ملکی پکوان ہو گا، اس کا تعلق اصولاً وہاں کے مقامی یا زرعی پیداوار یا مصنوعات کی بنیاد پر ہوتا ہے، جیسے پنجاب میں گندم اور جو، کشمیر و جنوبی انڈیا میں مقامی طور پر ناریل اور چاول ان کے مقامی کھانوں کا لازمی جزو ہو گا، سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ آپ کو خلیجی ریاستوں جیسے سعودی عرب، امارات، عمان، بحرین، قطر اور کویت میں سب سے زیادہ کھانے والے معروف پکوان میں گوشت کے ساتھ چاول ملیں گے۔ ویسے چاول کبھی بھی قدیم عہد سے عرب کا حصہ نہیں رہا، خلیجی ممالک میں چاول کے لئے عمومی بول چال میں لفظ ”الرُّزُّ“ استعمال ہوتا ہے اور عراق میں اسے ”التمان“ کہتے ہیں۔
چاول جزیرہ نمائے عرب میں کیسے آیا اور سعودی عرب بالخصوص نجد و ریاض میں جہاں سے آج کی موجودہ سعودی ریاست کے وجود کا آغاز ہوا تھا، یہاں کے مقامی لوگوں کی خوراک میں گندم، گیہوں، جو، کھجور اور دوسری طرح کی فصلوں پر گزارا ہوتا تھا، ماسوائے مالدار افراد کے، اور وہ بھی اسے عراق یا ہندوستان سے لاتے تھے، اور آج پورے خلیجی دسترخوان میں روزانہ کی بنیاد پر اس کا ہونا لازمی عنصر ہے۔
سعودی عرب کے معروف محقق پروفیسر جواد علی کی کتاب ”المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام“ (قبل از اسلام عرب کی تاریخ) میں اس کا تذکرہ یوں ملتا ہے کہ
”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چاول حجاز یا جزیرہ نما عرب کے دوسرے مقامات پر جانے والے اناج میں سے نہیں تھا۔ یہ شہری کھانا ہے۔ لوگ غربت اور تنگدستی کے سالوں میں اس کے بجائے دوسرے اناج جیسے گندم، جو اور مکئی کے استعمال کے عادی ہو چکے ہیں“ ۔
ایک اور عرب اسکالر شیخ حمد الجاسر اپنی کتاب ”سوانح الذکریات“ میں لکھتے ہیں کہ:
چاول کا تعلق نجد کے کسانوں میں پچھلی صدی کے وسط تک نہیں ہوا تھا، حالانکہ یہ الاحساء میں کاشت کی گئی تھی، اور سب سے پہلی چیز جو اس کے بارے میں معلوم ہوئی وہ ایک قسم تھی جو عراق سے آئی تھی، اس پر کھردرا چھلکا ہوتا تھا، جسے الھبیش کہا جاتا تھا، کچھ مقامی افراد اسے اسے ”التمن“ بھی کہتے تھے۔
ویسے نجد و ریاض سے ماسواء یا الحساء میں اس کی کاشت سے بھی ہٹ کر اگر خطہ حجازکا ذکر کیا جائے تو وہاں پر وسط ایشیا اور برصغیر کے حجاج چاول لے کر آتے تھے، قدرتی طور پر حجاز چاول کی آشنائی کے حوالے سے نجد سے زیادہ قدیم تاریخ رکھتا ہے۔
تمام عرب نہیں، صرف سعودی عرب میں اگر کسی بھی کھانے کا ذکر ہو گا تو کبسہ کا ذکر لازمی ہو گا، کبسہ جسے، مکبوس، مجبوس، یا مطبق بھی کہا جاتا ہے، ویسے سعودی عرب میں اس کا معروف نام کبسہ ہی ہے، کبسہ گوشت سے بھرے پکوان کا نام ہے، جو سعودی عرب کی ہر دعوت اجتماع، ضیافت اور کسی بھی خوشی کے موقع پر آپ کو سعودی کبسہ بطور ڈش لازمی ملے گا، چاہے عید الفطر ہو یا عیدالاضحی یا پھر عام چھٹی کے دن آپ کو تمام سعودی گھروں میں یہ ڈش ضرور ملتی ہے۔ آج دنیا بھر میں کبسہ کو سعودی عرب کا روایتی اور سب سے مشہور کھانا مانا جاتا ہے، اس پکوان میں بہت سے مصالحہ جات جیسے دار چینی، الائچی، ادرک، زعفران اور دیگر مصالحوں کے ساتھ اس میں لازمی لمبے دانے والے چاول ہوتے ہیں، زیادہ تر باسمتی چاول ہی استعمال ہوتے ہیں، باقی گوشت میں مرغی، بکرے کے گوشت کے علاوہ بھیڑ کا بچہ بھی ڈالا جاتا ہے۔
اسے پکانے میں بھی مختلف طریقہ کار مستعمل ہیں جیسے عام چولہے کے علاوہ یہ کوئلوں اور تندور میں بھی پکایا جاتا ہے، اور تمام خلیجی ملکوں میں کبسہ بطور پکوان ہونے کے یہ ایک ملک سے دوسرے ملک سے اس میں شامل مصالحے کی قسم اور چاولوں کے رنگ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ مکہ و مدینہ سے مسلمانوں کی مقدس حیثیت و تعلق کی وجہ سے وسطی ایشیائی اور ہندوستان سے کئی تاجر اور زائرین کچھ صدیوں سے حجاز میں چاول کی نقل و حمل میں حصہ ڈالتے رہے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ عربی مشروبات میں ”سوبیا“ جس کا ایک اہم عنصر املی ہے، جسے ہندوستان کی نسبت سے ”تمر الھندی“ یعنی ہندوستانی کھجور کہا جاتا ہے، وہ بھی ہندوستان سے ہی آئی ہے، بلکہ سوبیا کے علاوہ خالص تمر الھندی کا علیحدہ سے مشروب بھی کافی معروف ہے۔ حجاز نے مختلف ثقافتوں کے ساتھ مختلف عہد اور نسلوں میں ایک بھرپور اور جمالیاتی جہت کا اضافہ کیا، لہذا یہ تمام کھانے اب حجازی پکوان بن گئے ہیں، سعودی عرب میں پکوانوں کی بہرحال ثقافتی سطح پر کراس فرٹیلائزیشن موجود ہے۔
پچھلے چھ دہائیوں سے چاول خلیجی ملکوں کے دسترخوان کا اہم اور خاص طور پر سعودی عرب کی ایک اہم ڈش بن چکا ہے۔ بلکہ کئی لوگ کبسہ کو سعودی عرب کی قومی ڈش سمجھتے ہیں، بلکہ مقامی سعودیوں کی طرح ان کے معاشی عروج سے پہلے کئی لوگ یہی سمجھتے تھے کہ کبسہ خالصتاً سعودی ہے پکوان ہے، حالانکہ اس کے چاول کی پکوائی کو کابلی چاول جو سعودی عرب میں اب بھی اسی نام سے بھی ملتے ہیں کہا جاسکتا ہے۔ یہ کابلی چاول افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مقامی چاول کی ڈش کے نام سے منسوب ہے۔
اس کے علاوہ جو دوسرا معروف چاول کا پکوان یہاں بخاری چاول کے نام سے ہے وہ ملک ازبکستان میں بخارا کے علاقے سے منسوب ہے، جب ساٹھ اور ستر کی دہائی میں سعودی معاشی ترقی بڑھی تو تعمیراتی مزدوروں کی آمد کے ساتھ سعودی عرب میں بخاری چاول کے ریستوران کا جال پھیلا۔ (حالانکہ ایک دو بے وقوفوں نے مجھے یہاں یہ بھی سمجھایا کہ ان ریستورانوں کا نام ”صحیح البخاری“ کے مصنف حدیث امام بخاری کے نام سے ہے ) ۔ ویسے بخاری ریستوران عام طور پر صرف متوسط طبقے اور اس سے نیچے کے طبقے کے علاوہ ایشین مزدور غیرملکیوں کے ہے ایک نعمت کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سال سعودی عرب نے باقاعدہ سرکاری طور پر ”جریش“ کو اپنا قومی پکوان نامزد کر دیا ہے، قریب تین دہائیوں سے زائد عرصے سے، سعودی عرب ان پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے جو سالانہ چاول درآمد کرتے ہیں، اور سنۂ 2017 کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق، چاول کی اوسط سعودی فی کس کھپت تقریباً 47 کلوگرام سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔
آج کل سعودی عرب میں مقبول و معروف ریستوران ہوں یا نچلے طبقے کے ریستوران ان سب کے مقبول کھانوں میں کبسہ یا چاولوں کی کئی کثیر نوع کے پکوان موجود ہیں۔ جیسے مکہ و طائف میں سلیق مشہور ہے۔ نجد کے معروف کھانوں میں جریش اور قرصان معروف ہیں، سعودی کھانوں میں حضرمی بھی بہت معروف ہے، اس کے علاوہ چاولوں کی کئی معروف ڈشز میں المندی، والمضبی، الحنیذ، مدفون، مضغوط۔ شامل ہیں، ان سب میں میرا پسندیدہ چاول کا پکوان مضغوط ہے، جو حاشی یعنی اونٹ کے گوشت میں بھی پکتا ہے، جس میں بنیادی طور پر چاول، مرغی یا گوشت ہوتا ہے، جو تمام خلیجی ممالک میں یکساں مشہور ہے مگر اس کا اصل وطن یمن ہے۔ اسے بھی سعودی عرب کے اہم کھانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اس پکوان کو پکانے کے لیے پریشر ککر استعمال کرنا ضروری ہے، اسے گوشت کی یخنی میں مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ المثلوثة بھی ایک معروف پکوان ہے، اس میں سبزیوں کا بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔
ریفرنسز :
1۔ ترکی الدخیل ”سعودی سفارتکار کے الشرق الاوسط کے مضمون کی مدد سے لکھا گیا۔
2۔ ”سوانح الذکریات“ از شیخ حمد الجاسر
3۔ ”المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام“ از پروفیسر جواد علی
4۔ العقلات از محقق پروفیسر عبد اللطیف الوہبی

