ترکیہ میں زلزلہ: چھتیں رکوع میں ہیں اور مکان روتا ہے


پہیے کی ایجاد سے انسان نے ترقی کے جو زینے تیز رفتاری سے طے کیے اس نے انسان کے لئے چاند پر قدم رکھنے کی راہ ہموار کی جسے 50 برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دوسرے ستاروں، سیاروں اور سیارچوں کے بارے میں آدمی کا خلائی سفر اب چاند سے آگے بڑھ چکا ہے۔ وہ نئے جہان کی تلاش تو کر رہا ہے۔ مگر زمین کے مسئلوں سے مکمل نمٹنے پر اسے قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ اسے آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ زلزلہ کب آئے گا؟

ترکیہ اور شام میں زلزلے کے آنے والے پے درپے دو بڑے جھٹکے 7.8 اور 7.6 درجے کے تھے۔ ان میں سے پہلے جھٹکے سے ہزاروں عمارتیں گر گئیں اور ہزاروں لڑکھڑا گئیں۔ دوسرے جھٹکے میں لڑکھڑا نے والی ہزاروں عمارتیں پیوند زمین ہو گئیں۔ ترکیہ کا حالیہ زلزلہ اس علاقے میں آیا جسے کردستان کہا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تباہی ترکیہ اور اس سے متصل شام کے کرد علاقوں میں ہوئی، اسی طرح شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں جو شامی کردستان سے متصل ہے تباہی ہوئی حلب کا تاریخی قلعہ بھی تباہ ہو گیا۔ یہ علاقہ ماضی میں بھی بہت سے ان گنت تباہ کن زلزلے بھگت چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زلزلہ ان سب میں شدید ترین تھا۔

اس زلزلے کی ان گنت وڈیوز ہیں، ایک خاندان کے تو 24 افراد مارے گئے۔ ترکی کے زلزلے کے حوالے سے ایک ڈچ سائنس دان فرینک ہوگر کی پیش گوئی بہت مشہور ہوئی، جو تین دن پہلے کی گئی اور تین دن بعد زلزلہ آ گیا۔ لوگ حیران ہیں کہ زلزلے کی اتنی ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کیسے ممکن ہو گئی۔ حالانکہ اصلاً ان کی پیشگوئی یہ تھی کہ اناطولیہ میں جلد یا بدیر، کوئی نہ کوئی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے اس پیشگوئی میں جلد یا بدیر کے واضح الفاظ موجود ہیں۔ اناطولیہ کا جزیرہ نما ترکی کا 90 فیصد بنتا ہے، ہمیشہ سے بڑے زلزلوں کی سرزمین رہی ہے۔ کوئی بھی چاہے تو ایک نئی پیش گوئی کر سکتا ہے کہ اناطولیہ میں ایک اور زلزلہ آئے گا۔ سائنس اب تک تو زلزلوں کی پیشگی خبر دینے سے عاری ہے، آنے والے دور میں اس بات کی پیشین گوئی کرنے کے قابل ہو سکتی ہے یا نہیں یہ مستقبل ہی بتائے گا، ابھی تک سائنس دانوں کا یہی خیال ہے کہ ہمیں ایسی عمارتیں تعمیر کرنی چاہئیں جن کا بھونچال کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ گویا دنیا کو ابھی مزید حوصلے سے کام لینا ہو گا:

جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

ہر بڑے زلزلے کی طرح اس بڑے انسانی المیے نے ان گنت دردناک کہانیاں رقم کیں۔ ایک باپ بیٹے کی وڈیو بنانے والا کیمرہ کام کرتا رہا جو ملبے میں پھنس گئے تھے، صرف ان کے سر اور کندھے باہر تھے، باقی جسم کنکریٹ کے بلاکوں میں کچلا گیا۔ وہ خاصی دیر زندہ رہے، موت بالکل قریب آ گئی تو آخری دفعہ ایک دوسرے کو پیار کیا اور موت کی آغوش میں اُتر گئے۔ ایک تین سالہ بچی بارہ گھنٹے بعد ملبے سے صحیح سلامت نکال لی گئی۔ ترکیہ کی حکومت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے مسلمان ملکوں میں جب آفات آئیں فوری امدادی کارروائیاں کیں۔ اس لئے بین الاقوامی ادارے ترکیہ کی طرف رواں دواں ہیں۔

زلزلوں اور آفات کا یہ سلسلہ نیا نہیں، گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا میں کئی مہلک ترین زلزلے آئے۔
*حالیہ زلزلہ جو وسطی ترکی اور شمال مغربی شام میں آیا اس میں اب تک 21 ہزار افراد سے زیادہ ہلاک ہوئے۔

* 14 اگست 2021 کو جنوبی ہیٹی میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں 2، 200 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً 13000 مکانات کو تباہ ہوئے۔

* 28 ستمبر 2018 کو انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں 7.5 شدت کے زلزلے سے 1.5 میٹر سونامی پیدا ہوا اور 4،300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

* 12 نومبر 2017 کو ایران کے مشرقی علاقے کرمان شاہ میں 7.3 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 400 سے زائد افراد اور پڑوسی ملک عراق میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

* 19 ستمبر 2017 کو وسطی میکسیکو میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا جس میں کم از کم 369 افراد ہلاک اور دارالحکومت کو 1985 کے زلزلے کے بعد سے زیادہ نقصان پہنچا جس میں ہزاروں چاول کے کھیت تباہ ہوئے۔

* 24 اگست 2016 روم کے مشرق وسطی اٹلی میں ایک پہاڑی گاؤں میں 6.2 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

* 16 اپریل، 2016 کو ایکواڈور میں 7.8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ملک کے بحرالکاہل کے ساحل پر 650 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

* 26 اکتوبر 2015 کو شمال مشرقی افغانستان میں 7.8 شدت کے زلزلے سے افغانستان اور شمالی پاکستان میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے۔

* 25 اپریل 2015 کو نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 9000 افراد ہلاک اور 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں درہم برہم ہو گئیں۔

* 3 اگست 2014 کو جنوب مغربی چین میں 6.3 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی، دور افتادہ صوبہ یونان میں کم از کم 600 افراد ہلاک ہوئے۔

* 24 ستمبر 2013 کو جنوب مغربی بلوچستان میں 7.7 اور 6.8 شدت کے دو زلزلوں سے کم از کم 825 افراد ہلاک ہوئے۔

* 11 اگست 2012 کو شمال مغربی ایران میں تبریز شہر کے قریب بالترتیب 6.4 اور 6.3 کی شدت کے دو شدید زلزلوں کے نتیجے میں کم از کم 300 افراد ہلاک ہوئے۔

* 23 اکتوبر 2011 کو جنوب مشرقی ترکی میں 7.2 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا ہے جس میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

* 11 مارچ، 2011 کو شمال مشرقی جاپان میں 9.0 شدت کے زلزلے اور سونامی سے تقریباً 15، 690 افراد ہلاک اور 5، 700 زخمی ہوئے۔ اس زلزلے نے 1986 میں چرنوبل کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی تباہی بھی کی۔

* 22 فروری، 2011 کو نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں 6.3 شدت کے زلزلے کے بعد کم از کم 180 افراد ہلاک ہوئے۔

* 27 فروری 2010 کو چلی میں 8.8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں آنے والے سونامی میں 500 سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر، شاہراہیں اور پل تباہ ہو گئے۔

* 13 جنوری 2010 کو ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں 7.0 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی، جس میں تقریباً 316،000 افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ تھا کہ پورٹ او پرنس اور آس پاس کے علاقوں میں 80000 عمارتیں تباہ ہوئیں۔

* 12 مئی 2008 کو چین کے صوبہ سیچوان میں 7.8 شدت کے زلزلے سے تقریباً 87،600 افراد ہلاک ہوئے۔

* 26 دسمبر 2004 کو سماٹرا کے ساحل پر 9.15 کی شدت کا زلزلہ آیا، جس سے انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ہندوستان، سری لنکا اور خطے کے کئی دوسرے ممالک میں سونامی آیا، گاؤں اور سیاحتی جزیروں کو تباہ کر دیا اور تقریباً 230،000 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔

* 8 اکتوبر 2005 کو اسلام آباد پاکستان کے شمال مشرق میں 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد کم از کم 73،000 افراد ہلاک ہوئے۔ اس زلزلے نے کشمیر، بھارت کو بھی ہلا کر رکھ دیا، وہاں بھی 1، 244 افراد ہلاک ہوئے۔

* 26 دسمبر 2003 کو ایران کے جنوب مشرقی صوبے کرمان میں 6.6 شدت کا زلزلہ آیا جس سے بام شہر تباہ اور 31000 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تو دنیا کا احوال ہوا خود ترکیہ میں زلزلے آتے رہے ہیں البتہ گزشتہ سوا سو سال میں یہ دوسرا موقع ہے جب اتنی شدت کا زلزلہ ترکی میں آیا ہے۔ 6 فروری، 2023 سے قبل 26 دسمبر، 1939 کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کی وجہ سے 32، 700 لوگوں کو جانیں گنوانی پڑی تھیں۔ جانوں کے اتلاف کی بنیاد پر بڑے زلزلوں کی بات کی جائے تو ترکی میں زلزلوں کی جو معلوم تاریخ کے مطابق،

پہلا بڑا زلزلہ 13 دسمبر 115 کو آیا تھا۔ اس کی وجہ سے 260000 لوگوں کو جانیں گنوانی پڑی تھیں۔
19 مئی، 526 کو آئے زلزلہ میں 250000 لوگوں کی جانوں کا اتلاف ہوا۔

1268 کے زلزلہ میں 60000 اور 10 ستمبر 1509 کے زلزلہ میں 10000 لوگوں کی جانیں تلف ہوئی تھیں۔ 17 اگست، 1668 میں آئے زلزلے میں 8000 اور 10 جولائی 1688 کے زلزلے میں 16000 لوگوں نے جانیں گنوائیں۔ 5000 سے 10000 کے درمیان لوگ 23 جولائی 1784 کے زلزلہ میں جان سے گئے تھے۔ 2 جولائی، 1840 کے زلزلے کی وجہ سے 10000 اور 2 جون، 1899 کے زلزلے کی وجہ سے 15000 لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ 3 اپریل 1881 کا زلزلہ 7، 866 لوگوں کے لیے موت کا پیغام بن کر آیا، اس کے بعد 1939 اور 17 اگست، 1999 کا زلزلے بھی بڑی تباہی لے کر آئے۔ 1999 کے زلزلے میں 17، 127 لوگوں کی جانوں کا اتلاف ہوا تھا۔ اس کے بعد موجودہ زلزلہ سب سے بھیانک ہے۔

اس زلزلے سے قبل پرندوں اور جانوروں کی پریشانی کی وڈیوز سامنے آئی ہیں۔ جرمنی کے ایک سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر مارٹن جو جرمنی میں ”ڈپارٹمنٹ آف مائیگریشن آف دی میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر“ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرندے اپنے سینسر نیٹورک کے ذریعے محسوس کر کے ہجرت کرتے ہیں۔ اٹلی کا مشرقی علاقہ ’جہاں کثرت سے زلزلے آتے ہیں‘ ڈاکٹر مارٹن نے وہاں کچھ گائیں، بھیڑیں اور کتے رکھے۔ زلزلے سے 20 گھنٹے پہلے ان کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ وہ ڈر کر اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اس کے بعد 4.0 شدت کے زلزلے آیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جانوروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسے سینسر لگائے ہیں جن کے ذریعے وہ مختلف ویوز کا کھوج لگا سکتے ہیں۔ اگر 20 گھنٹے قبل آگاہی مل جائے تو حکومتیں بھت سے حفاظتی اقدامات کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے اگر حکومتیں زلزلے کے رینج والے علاقوں میں چڑیا گھر بنا دیں اور ان چڑیا گھروں میں زلزلے سے متعلق ایک سنٹر بنایا جائے جو جانوروں کے رویے پر نظر رکھے۔ اور ان جانوروں کے غیر معمولی رویے پر زلزلے کی وارننگ جاری کرے تو نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو امریکی ہارپ نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے زلزلے کی باتیں کی جا رہی ہیں ’وہ محض جہالت کا شاخسانہ ہیں۔ یہ تھیوری ہمارے ہاں کچھ برس پہلے بھی زلزلے اور سیلاب کے حوالے سے گردش کرتی رہی، ایسی کسی ٹیکنالوجی سے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

ترکیہ اور شام کے زلزلے کی جس پیشگوئی کا چرچا ہے ’وہ محض ایک اتفاق ہے۔ کوئی ٹھوس سائنسی ریسرچ نہیں ہے۔ زلزلے قدرتی آفات میں سے ہیں‘ ان سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات تو کیے جا سکتے ہیں مگر ان کو روکنا ممکن نہیں۔

سوال یہ ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی سے نکل کر ترکی زلزلے سے انسانوں کی حفاظت کے لیے اس پر ریسرچ کے کاموں کو آگے بڑھائے گا؟ کیا ترک سائنسداں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ زلزلہ آنے کے اصلی وقت کی پیش گوئی کیسے کی جائے؟ جاپان میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اتنی شدت کے زلزلے جو دیگر ملکوں میں تباہی مچا کر رکھ دیں، جاپان میں تباہی نہیں مچا پاتے، وہ معمولی زلزلے لگتے ہیں، کیوں کہ جاپانیوں نے زلزلے سے حفاظت کا خیال کرتے ہوئے عمارتوں کی تعمیر پر توجہ دی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ دنیا کی تمام عمارتوں کو مسمار کر کے اسی طرح کی عمارتیں بنائی جائیں لیکن نئی عمارتیں بناتے وقت یہ خیال رکھا جانا چاہیے، تبھی زلزلہ آنے پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS