کیا دنیا مذہب کو الوداع کہہ رہی ہے؟


کچھ عرصہ قبل "ہم سب ” پر دو تحریریں شائع ہوئیں  جن کا موضوع یہ تھا کہ آج کا نوجوان مذہب سے بیزار کیوں ہے؟  ان میں سے ایک تحریر  میرے محترم  عبدالستار صاحب کی تھی ۔ انہوں نے بہت عمدگی سے مذہبی دنیا کے مختلف المیوں کی نشاندہی کی ۔مجھے ان کی تحریر کے اکثر حصوں سے اتفاق ہے۔اسی طرح مکرم زین العابدین صاحب نے بھی بہت عمدہ طریق سے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ آج کا نوجوان مذہب سے بیزار ہو رہا ہے کیونکہ اس دور کے علماء ان کے سوالاے کا جواب دینے کی بجائے  ان کے سوالات سن کر محض توبہ استغفار میں مشغول ہیں۔انہوں نے بجا طورپر لکھا کہ  اگر مذہب کے تصور کو قائم رہنا ہے تو   ضروری ہے کہ  ہر چیز کو منطقی اعتبار سے دکھایا جائے ۔

خاکسار  کے اس کالم کا مقصد اس  بحث کے ایک اور پہلو کو پیش کرنا ہے۔ آج ماضی کی نسبت  شماریات کا علم کافی ترقی  کر چکا ہے۔ بڑھتے اور کم ہوتے ہوئے رجحانات کو پرکھ کر  یہ حساب کتاب لگایا جاتا ہے  کہ مستقبل میں کیا  منظر   ہوگا۔ پیو ریسرچ انسٹیٹیوٹ   (Pew Research Institute) نام کا ادارہ اس قسم کی عالمی تحقیقات   میں ایک نمایاں  مقام رکھتا ہے۔ 2010 میں  انہوں نے ایک عالمی تحقیق کی کہ اس وقت دنیا میں  کتنی فیصد آبادی  کون کون سے مذاہب سے وابستہ ہے اور کتنے لوگ اپنے آپ کو کسی مذہب سے وابستہ نہیں سمجھتے ۔ اور پھر  رجحانات کو دیکھ  کر حساب کتاب لگایا کہ 2050 تک دنیا کی کتنی فیصد آبادی  کون  کون سے مذاہب سے وابستہ ہو گی اور کتنی آبادی اپنے آپ کو کسی مذاہب سے وابستہ نہیں قرار دے گی ۔ ان میں دہریہ حضرات بھی آ جاتے ہیں  جو کہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے اور Agnosticطبقہ بھی آجاتا ہے جن کا کہنا ہے ہم یہ جان ہی نہیں سکتے کہ خدا موجود ہے کہ نہیں ہے۔

سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ 2010 میں جب یہ تحقیق جاری کی گئی تو  مذہب کے اعتبار سے دنیا  کا کیا منظر تھا؟ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ لوگ یعنی 31.4%مسیحی مذہب سے وابستہ تھے ۔ دوسرے نمبر پر دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان پائے جاتے تھے  جو کہ 23.2%تھے ۔ تیسرے نمبر پر وہ لوگ تھے جو کہ  کسی مذہب سے وابستہ نہیں ہیں ۔عالمی آبادی میں 16.4%ایسے لوگوں پر مشتمل تھا ۔اس کے بعد ہندو مت سے وابستہ حضرات  تھے جو کہ پندرہ  فیصد تھے ۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ اس تحقیق کے مطابق 2050 میں کیا صورت حال متوقع ہے ۔مختلف  گرافوں اور تحقیقات کے تجزیے کے بعد  انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس صدی کے نصف پر مسیحی احباب حسب سابق دنیا کی آبادی کا 31.4%ہی ہوں گے ۔ لیکن حیران کن پہلو یہ تھا کہ اس تحقیق کے مطابق  دنیا کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب بڑھ کر 29.7فیصد  ہو چکا ہوگا ۔جو کہ تقریباََ مسیحی  آبادی کے برابر ہوگا۔دوسرا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ تیسرے نمبر  وہ لوگ نہیں ہوں گے جو کہ کسی مذہب سے وابستہ نہیں بلکہ ہندو آبادی ہو گی جو کہ  تقریباََ پندرہ فیصد ہی ہوگی۔ اور وہ لوگ جو کہ کسی مذہب سے وابستہ نہیں  وہ کم ہو کر 13.2%رہ جائیں گے ۔ اس اعتبار سے یہ طبقہ  فیصد کے حساب سےبڑھ نہیں رہا  بلکہ کم ہو رہا ہے۔ اسی طرح  فیصد کے اعتبار سے ان چار دہائیوں میں بدھ مت سے وابستہ کہلانے والے لوگوں  میں بھی کمی آئے گی۔

اس تبدیلی کا  سبب صرف یہ نہیں ہوگا  کہ ایک مذہب یا عقیدہ کو چھوڑ کر  لوگ دوسرے مذہب میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو گی کہ  مختلف گروہوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح  مختلف ہے ۔ بعض مذاہب سے وابستہ لوگ زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں اور دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگ کم بچے پیدا کر رہے ہیں۔ اور اگر فیصد کے اعتبار سے 2050 تک  کسی گروہ میں کمی ہوئی ہے تو یہ ضروری نہیں کہ  ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ  ان کی تعدادبڑھی تو ہے لیکن  اتنی نہیں بڑھی جتنی دوسرے گروہوں کی بڑھی ہے۔2010 میں دنیا کی آبادی چھ ارب  نوے لاکھ تھی ۔ آج یہ آبادی بڑھ کر  سات ارب  اٹھاسی کروڑ ہو چکی ہے۔ اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 میں دنیا کی آبادی  نو ارب تیس کروڑ ہوگی۔ توقع یہ  ہے کہ ان چالیس سالوں میں مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد  اضافہ ہوگا۔مسیحی آبادی میں  35 فیصد اضافہ ہوگا ، ہندو  حضرات  کی تعداد میں 34 فیصد  اور یہودی حضرات کی تعداد میں 16 فیصد  اور جو لوگ اپنے آپ کو کسی مذہب سے وابستہ نہیں سمجھتے  ان کی تعداد میں 9 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔بدھ مت وہ واحد مذہب ہوگا جس کی تعداد  بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہوگی۔

یہ پہلو قابل ذکر ہے کہ  یورپ اور شمالی امریکہ  میں ان لوگوں کے تناسب میں  کافی اضافہ کی توقع ہے جو کہ کسی مذہب سے وابستہ نہیں ہیں۔ مثال کے  طور پر یہ غیر وابستہ احباب اس وقت امریکہ میں 16 فیصد ہیں اور   2050 میں متوقع طور پر  26 فیصد ہو چکے ہوں گے ۔لیکن ان نظریات کے لوگ جن علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں  یعنی    شمالی امریکہ، یوروپ ، جاپان اور چین ، ان علاقوں  میں بالعموم جوڑے کم بچے پیدا کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے  دنیا کی آبادی میں ان کا تناسب کم ہو سکتا ہے۔صحارا سے جنوب میں واقعہ افریقہ  میں مسیحی اور مسلمان آبادی میں اضافہ ہوگا۔

یہ ایک تخمینہ ہے ۔ ضروری نہیں  کہ 2050 میں بالکل یہی صورت حال  نظر آئے۔ البتہ ہم یہ جائزہ لے سکتے ہیں 2010 سے اب تک کیا تبدیلی رونما ہو سکی ہے۔ بعض اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اب دنیا میں مسلمانوں کا تناسب بڑھ کر  24.9فیصد ہوچکا ہے۔ مسیحی مذہب کا تناسب 31 فیصد ہی ہے اور  ایسے لوگ جو  کسی مذہب سے وابستہ نہیں کچھ کم ہو کر  ساڑھے پندرہ فیصد پر آگئے ہیں ۔ ہندو احباب بدستور  پندرہ فیصد پر ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اب تک یہ رجحان اسی طرف جا رہا ہے ، جس کی نشاندہی 2010 میں ہونے والی تحقیق  کی گئی تھی۔

ایک سوال شاید کئی ذہنوں میں ہو کہ کس سال میں مسلمان  دنیا کا سب سے بڑا گروہ بن جائیں گے۔  تو اس تحقیق کے مطابق 2070 تک  مسلمانوں کی تعداد مسیحی  آبادی سے بڑھ جائے گی۔گذشتہ صدی میں   کمیونزم کے فروغ کے ساتھ دنیا  کے کئی ممالک  میں عملی طور پر حکومتی سطح پر دہریت کو فروغ دینے پر کام شروع ہوا اور مذاہب پر مختلف پابندیاں بھی لگائی گئیں لیکن  یہ نظام بڑی حد تک  ختم ہو گیا اور ان ممالک میں ایک   مرتبہ پھر  مذہبی رجحانات  میں کم از کم کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ شاید اس کی وجہ  وہی غلطیاں تھیں جو مذہب کے نام پر ایک طبقہ کرتا ہے ۔ کمیونسٹ ممالک میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے  سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا  اور  سوالات اٹھانے والوں کو غدار اور عوام دشمن قرار  دے کر جیلوں میں ٹھوسنا شروع کر دیا۔ اور منطقی انداز میں قائل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ایسے طریق کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

Facebook Comments HS