نواز شریف حکومتوں کے کچھ اچھے کام


آج کے دور میں نواز شریف کے بارے میں کوئی مثبت بات کہنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ لیکن جب ہر طرف سے ایک ہی طرح کی آوازیں آ رہی ہوں تو کسی کو تو تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھانا چاہیے۔ نواز شریف کوئی دودھ سے دھلے نہیں۔ لیکن ان کے بارے میں متوازن رائے صرف اس ہی وقت قائم ہو سکتی ہے جب ان کی موافقت اور مخالفت میں کی جانے والی باتیں سن کر فیصلہ کیا جائے۔

نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں 1990 میں عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا۔ جواباً امریکہ اور اتحادیوں نے کویت اور سعودی عرب کی حفاظت کے نام پر عراق پر چڑھائی کر دی۔ اس وقت پاکستان میں نہایت جذباتی فضا بنی ہوئی تھی۔ عوام کی اکثریت عراق کی حمایت کر رہی تھی اور چاہتی تھی کہ پاکستان بھی عراق کے شانہ بشانہ غیر ملکی افواج سے مقابلہ کرے۔ وہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کا دور نہیں تھا بلکہ ریڈیو اور اخبارات ہی عوام کی رجحان سازی کیا کرتے تھے۔ اس زمانے کے پاکستانی زبانوں کے تقریباً تمام اخبار اس ہی رجحان کو بڑھاوا دے رہے تھے۔ حتٰی کہ پاکستان کے فوجی سربراہ اسلم بیگ صاحب بھی اس ہی خیال سے متفق تھے۔ لیکن نواز شریف حکومت نے اس کے برعکس فیصلہ کیا اور اس جنگ میں عراق کے بجائے سعودی عرب کا ساتھ دیا۔ آج تیس بتیس سال بعد اس فیصلے کی درستی کا احساس ہو تا ہے۔ وگرنہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے تعلقات میں تلخی نہ جانے کب تک ہمیں تکلیف دیتی۔

پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن 8 مئی 1998 ہے جب انڈیا کی کج فہمی نے پاکستان کو ایک تسلیم شدہ ایٹمی قوت بنا دیا۔ اس بارے میں نواز شریف کے مخالفین کہتے ہیں کہ نواز شریف جوابی ایٹمی تجربوں کے حق میں نہیں تھے لیکن عوامی دباؤ نے انہیں اس امر پہ مجبور کر دیا۔ ویسے تو غیب کا علم تو صرف مالکِ کائنات کو ہی ہے۔ لیکن قیاس یہ کہتا ہے کہ اس معاملے میں نواز شریف اور ان کی حکومت انتہائی ذہانت سے صورتحال سے عہدہ برا ہوئی۔ انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب جوابی ایٹمی تجربے کی بات آئی تو پہلا سوال یہ اٹھا کہ پاکستان نے اب تک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ’کولڈ ٹیسٹ‘ کیے تھے۔ لیکن کیا یہ بات یقینی ہے کہ پاکستانی ماہرین ’لائیو ٹیسٹ‘ کر سکیں گے؟ یہ بہت اہم سوال تھا کیونکہ خدانخواستہ اگر پاکستان کے ایٹمی ٹیسٹ ناکام ہو جاتے تو پاکستان کے لئے دنیا کا سیاسی نقشہ مزید خوفناک ہو سکتا تھا۔ انڈیا کے کامیاب اور پاکستان کے ناکام ایٹمی ٹیسٹ کے بعد انڈیا کو سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے سے کوئی بھی نہ روک سکتا (سلام ہے عبدالقدیر خان صاحب اور ٹیم کو جنہوں نے انڈیا کے عزائم خاک میں ملا دیے ) ۔ اور پاکستان پر ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے لئے عالمی دباؤ بھی بڑھ جاتا۔ لہٰذا سب سے پہلے اس امر کی تصدیق کی گئی کہ پاکستانی سائنسدان ایٹمی ٹیسٹ کے لئے تیار اور پر اعتماد ہیں۔

پھر دوسرا مسئلہ وقت کا تھا۔ پاکستان نے چاغی کے غاروں میں ایٹم بم تیار کر کے نہیں رکھے تھے کہ وزیر اعظم کی ایک فون کال پر دھماکے کر دیے جاتے۔ ایٹمی ہتھیاروں کو اسمبل کرنا، انہیں ٹیسٹ سینٹر پہنچانا، اور دوسری ضروری تیاریوں کے لئے وقت درکار تھا۔ لیکن پوری دنیا پاکستان پر ایٹمی تجربے نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی تھی۔ اس وقت نواز شریف حکومت نے انتہائی سیاسی مہارت کا ثبوت دیا۔ سب کو لگ رہا تھا کہ پاکستانی حکومت گو مگو کا شکار ہے۔ لیکن نواز شریف حکومت نے ایک طرف امریکی اور یورپی حکومتوں کو انگیج کیے رکھا اور ساتھ ہی ایٹمی تجربے کے لئے عوامی دباؤ کا سامنا بھی کرتی رہی۔ مگر اپنی فوج اور سائنسدانوں کو وہ ’وقت‘ مہیا کیا جس کی ان تجربوں کے لئے ضرورت تھی۔ نواز حکومت نے یہ کام اس قدر مہارت سے کیا کہ دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیز پاکستانی حکومت کے ارادوں کو بھانپنے میں ناکام رہیں اور پاکستان کے جوابی ایٹمی تجربوں سے امریکہ، یورپ اور انڈیا ششدر رہ گئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ نواز شریف حکومت کی سیاسی زندگی کی بہترین اور مثبت سیاسی چال تھی جس پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔

نواز شریف نے اپنے پہلے دونوں ادوار میں خلیجی ممالک سے تعلقات استوار رکھے۔ جس سے انہیں بعد میں فائدہ بھی ہوا جب وہ مشرف دور میں کافی عرصے سعودی عرب میں مقیم رہے۔ لیکن جب ان کے تیسرے دورِ حکومت میں 2015 میں سعودی یمن جنگ کا موقع آیا تو انہوں نے سعودیہ عرب کے احسانات کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود پاکستان کو اس جنگ میں جھونکنے سے انکار کر دیا۔ ایک بار پھر ان کی حکومت کا فیصلہ صحیح ثابت ہوا کیونکہ اس جنگ میں سعودی عرب کو ہزیمت کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔

نواز شریف کی اور پالیسی بھی کسی نہ کسی طرح پاکستان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ انہوں نے کسی بھی فوجی سربراہ کی مدتِ سالاری کی توسیع نہیں کی۔ شروع میں بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نواز شریف کی بے جا ضد ہے یا فوج سے بغض ہے۔ لیکن اب اندازہ ہو رہا ہے کہ فوجی سربراہوں کی ملازمت میں توسیع پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کس قدر نقصان پہنچا رہی ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں باجوہ صاحب کو توسیع دی گئی، جس میں مسلم لیگ نون نے بھی حسبِ توفیق حصہ بٹایا۔ یہ شاید پہلا موقع تھا کہ مسلم لیگ نون نے اپنی پالیسی کے برخلاف فیصلہ کیا۔ لیکن آج اس فیصلے سے براہِ راست فیضیاب ہونے والے بھی اس غلطی پر پشیمان ہیں اور باجوہ صاحب پر لعن طعن کر رہے ہیں۔ لہٰذا نواز شریف کی سپہ سالاروں کو توسیع نہ دینے کی پالیسی کی افادیت کو وقت نے ثابت کر دیا۔

بہرحال اس مضمون کا مقصد نواز شریف کا قصیدہ لکھنا نہیں تھا کیونکہ نواز شریف حکومت کی غلطیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ ہمیں تو بس یہ سمجھنا ہے کہ کوئی بھی رہنما نہ تو شیطان ہوتا ہے نہ فرشتہ۔ وہ کچھ کام صحیح کرتا ہے اور کچھ غلط۔ ہمیں انصاف سے کام لے کر اپنے رہنماؤں کے اچھے کاموں کی تعریف کرنی چاہیے اور برے کاموں پر تنقید۔

Facebook Comments HS