سیاستداں ہوش کے ناخن لیں


آج وطن عزیز میں اداروں کی بے توقیری ہو رہی ہے یہ ملک کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اگر اس ملک کو کچھ ہو جاتا ہے تو نہ نواز شریف کی سیاست بچے گی اور نہ ہی عمران خان کی۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں وطن عزیز کے مفادات کو پس پشت ڈال رہے ہیں

ملکی مفاد کا تقاضا تو یہ تھا کے ساری سیاسی پارٹیاں مل بیٹھ کے موجودہ معاشی بحران کا کوئی حل نکالنے کوشش کرتiN جس کا حل نہ موجودہ حکومت کے پاس ہے اور نا آنے والی حکومت کے پاس ہو گا۔ عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں کا سامنا ہے اور ہمارے سیاستداں ان مہنگائی سے تنگ آئے لوگوں کو حقیقی آزادی کا خواب دیکھا رہے ہیں۔ کوئی ان سیاستدانوں سے پوچھے حقیقی آزادی کا مطلب کیا ہے۔ اگر ان کا مطلب افغانستان جیسی حقیقی آزادی ہے تو اپ افغان عوام سے اس آزادی کا مطلب پوچھ لیں جس کی وجہ سے والدین اپنی اولاد کو جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے بیچنے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف جہاد کرنے والوں سے میرا سوال ہے کے ملک ریاض جیسے کرپٹ ترین شخص کی پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت اگر برطانیہ واپس کرے تو کیا ہم جہاد پر عمل کرتے ہوئے یہ لوٹا ہوا پیسہ اسی کو واپس کر دیں اور میڈیا کو پابند کر دیں کے اس پر کوئی سوال نہ کریں۔ یہ کون سا جہاد ہے یہ لکھاری آج تک سمجھنے سے قاصر ہے۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ لیڈر بنتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان پاپولر ٹی کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے یا ان کی جگہ دوسرے لوگ لے لیتے ہیں لیکن وطن عزیز اور اس کے عوام تو اپنی جگہ رہیں گے۔ خدارا اس ملک اور عوام کا سوچیں اپنی اپنی انا پرستی کو چھوڑیں کہیں ایسا نہ ہو کے اپ کے غلط فیصلوں سے ملک میں جو لولی لنگڑی جمہوریت ہے وہ ڈی ریل نہ ہو جائے اور ملک پر ایک مرتبہ پھر اگلے دس سالوں کے لیے فوجی آمریت کے شکنجے میں نا جکڑ جائے۔ اگلے دس سال میں یہ بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کے اس وقت نا نواز شریف ہوں گے اور نا عمران خان اور اگر زندہ بھی رہ گئے تو سیاست کے قابل نہ ہوں گے لیکن ان کے آج کے غلط فیصلوں کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا ہو گا۔

Facebook Comments HS