نوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاں!


ابتدائے آفرینش سے ہی ابن آدم کا بنیادی مسئلہ اس کی مادی بقاء اور سلامتی رہا ہے۔ گندم اور انسان کا ازلی ساتھ ہے اور اسی شجر ممنوعہ نے ”نکلنا خلد سے آدم کا“ جیسی صورت حال کو جنم دیا تھا۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو اس کی جمالیاتی حس پیدا ہوتی ہے اور تسکین کا مطالبہ کرتی ہے۔ آسودگی کے بعد اس میں اخلاق اور روحانی احساس جنم لیتا ہے اور اسے مذہب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں دو ایسے ہارمون پائے جاتے ہیں جو بھوک اور شکم سیری کے ذمہ دار ہیں۔ پہلا ہارمون گھریلین (Ghrelin) اور دوسرالیپٹن (Leptin) کہلاتا ہے۔ بھوک کی صورت میں انسانی جسم میں گلوکوز کی مقدار گھٹتی جاتی ہے جس کے باعث اس میں چڑچڑا پن اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین نے انسان کی اس کیفیت کو بھوک (Hunger) اور غصہ (Anger) کے ملاپ سے (Hungry) کا نام دیا ہے۔ بھوک اور افلاس انسان کو جھگڑے، فساد، کشت و خون اور بغاوت تک پر اکسادیتا ہے۔

ایک عظیم زرعی ملک ہونے کے باوجود مملکت پاکستان میں بنیادی فصل گندم اور اس کے آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ملک کی آبادی کی روزمرہ خوراک گندم کی روٹی پر مشتمل ہے جو بدترین مہنگائی کے باعث عوام الناس کی دسترس سے دن بدن باہر ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے باعث آبادی کی اکثریت ایک وقت کے کھانے تک محدود، کم خوراکی اور فاقہ کشی کی نوبت پر پہنچ چکی ہے۔ غربت، افلاس اور بے روز گاری انسان کو ہر قسم کے جرائم کے ارتکاب پر مجبور کرتے ہیں۔ ملک بھر میں چوری چکاری، دھوکہ بازی، جعلسازی، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کی وارداتوں کے پیچھے یہی عنصر کارفرما ہے۔ اسی لئے انبیاء کرام نے بھی غربت، افلاس ا ور تنگدستی سے اللہ کی پناہ مانگی ہے کیونکہ فقر انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔ اسی لئے ایک مشہور محاورہ ہے کہ سب بات کھوٹی۔ پہلے دال روٹی

بدقسمتی سے پاکستانی معیشت ہمیشہ مدوجزر کا شکار رہی ہے۔ نالائق حکمرانوں کی ناقص اور غیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک اپنی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ سیاسی عدم استحکام، ناقص پالیسیوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی طاقتوں سے قرض در قرض کے قومی رجحان، برآمدات و در آمدات میں شدید عدم توازن، تجارتی خسارہ کے باوجودعمال حکومت اور اشرافیہ اور نو دولتئیے طبقہ کی جانب سنگین کرپشن، ٹیکس چوری، فضول خرچیوں اور پر تعیش طرز زندگی کے باعث ملک میں عالمی تجارت کی بین الاقوامی کرنسی امریکی ڈالر کی قیمت ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے۔ کراچی لاہور اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں گیس، بجلی اور خام مال کی قیمتوں میں آئے دن کے ہوشرباء اضافوں اور سرمایہ کی قلت کے باعث ہزاروں چھوٹے کارخانے اورصنعتیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں اور پیداوار نہ ہونے کے باعث لاکھوں محنت کشوں کو کام سے فارغ کیا جا رہا ہے۔

ایسے میں سب سے شرمناک صورت حال یہ ہے کہ ایک خود مختار ملک ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود ہماری ریاست عالمی ساہوکار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے در پر ایک بھکاری بن کر کھڑی ہے اوربھاری قرضوں کی بازادائیگی اور شرائط میں نرمی کے لئے اس کی منت سماجت کرنے میں مصروف ہے۔ دوسری جانب حکومت موجودہ سنگین اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے ترسی ہوئی نظروں سے دوست ممالک کی جانب سے خیرات اور مالی امداد کی ہ متمنی ہے۔ سنگین معاشی گرداب کے باعث پاکستانی کرنسی روپیہ دن بدن اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ ملک کا دیوالیہ آج نکلا کہ کل نکلا۔ لیکن افسوس صد افسوس ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک کو درپیش اس گمبھیر صورت حال کے ادراک سے قطعی لاتعلق نظر آتے ہیں اور بڑھ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ عوام الناس کے نام پر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے آپس میں سر بہ گریبان ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ انقلاب فرانس کا ایک سبب ملک میں بدترین اقتصادی بدحالی بھی تھی۔ جب جنگ آزادی امریکہ میں امریکہ کی اعانت کرنے سے فرانس کا خزانہ خالی ہو گیا تھا اور مملکت کی مالی حالت سخت ابتر ہو گئی تھی اور حکومت سرکاری خزانہ کے اس دیوالیہ پن کو ختم کرنے سے قاصر رہی تھی۔ دو دہائیوں کی ناقص فصلوں، مسلسل خشک سالی، مویشیوں میں متعدی بیماری پھوٹنے، عوام الناس پر بھاری ٹیکسوں اور روٹی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کسان اور غریب عوام میں حکومت کے خلاف سخت نفرت کی ایک چنگاری بھڑکادی تھی۔ اس نازک صورت حال میں فرانس کی آخری اور شاہ خرچ ملکہ میری انتونیت کے اساطیری جملہ ”غریب لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تو کیک کھالیں“ نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ ملکہ کا یہ جملہ حکمراں طبقہ کی جانب سے مفلس عوام الناس کو درپیش مسائل سے یکسر لاتعلقی ظاہر کرتا تھا۔ جو بالآخر 1792 ء میں انقلاب فرانس کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ آج ہمارا معاشرہ بھی تقریباً اسی ابتر اور بھیانک معاشی صورت حال سے دو چار ہے اور عوام الناس کی بنیادی خوراک روٹی اور دیگر اشیائے ضرورت کی دن بدن بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ملک انقلاب کے دہانہ تک پہنچ گیا ہے۔

شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کائنات کی روحانی تعبیر کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے کافی عرصہ قبل مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے نام ایک خط میں روٹی کو برصغیر کے مسلمانوں کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا۔ ان کے خیال میں وہی جماعت اہل اسلام کی قیادت کی مستحق ہوگی جو اس کا کوئی حل پیش کرے گی۔ چنانچہ اقبال اپنے مکتوب میں رقمطراز ہیں۔ ”نئے آئین کے تحت بڑی بڑی اسامیاں امراء کے بیٹوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ ان کے نچلے درجہ کی اسامیوں پر ان کے رشتہ دار اور دوست متعین ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دوسرے معاملات میں بھی ہمارے سیاسی اداروں نے عام مسلمانوں کی حالت سدھارنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ روٹی کا مسئلہ دن بدن مزید گمبھیر ہوتا چلا جا رہا ہے اور مسلمان تو یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کی گزشتہ دو سو برسوں سے ان کی قسمت کا ستارہ تنزل کی جانب گرتا چلا جا رہا ہے۔“

(یکے از مکتوب اقبال بنام محمد علی جناح 28 مئی 1937 ء) لیکن افسوس صد افسوس آج آزادی کے 75 برس گزرنے کے بعد بھی مملکت پاکستان کے کروڑوں محب وطن عوام الناس باعزت طور سے اپنی دال روٹی کے لئے جدوجہد کرنے کے باوجود نان شبینہ کے لئے محتاج ہیں اور دوسری جانب نا اہل اور مفاد پرست حکمراں انہیں آج بھی ترقی اور خوشحالی کے سبز باغ دکھانے میں مصروف ہیں۔

ملک میں روٹی جیسی بنیادی خوراک کی عام آدمی کی پہنچ سے دوری پر برصغیر کے معروف عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی کی شہرہ آفاق نظم ”روٹیاں“ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں
پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں
سینے پر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں
جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا
کرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا
دیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیا
ٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سوا
سو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاں
جس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہے
خالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے
چولہے کے آگے آنچ جو جلتی حضور ہے
جتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہے
اس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں
آوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نام
یا چکی چولہے کے جہاں گلزار ہوں تمام
واں سر جھکا کے کیجیے ڈنڈوت اور سلام
اس واسطہ کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقام
پہلے انہی مکانوں میں آتی ہیں روٹیاں

ان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بور
آٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نور
پیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چور
ہر گز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنور
اس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاں
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہرو ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تویہ نظر آتی ہیں روٹیاں
پھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیا
اس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیا
وہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیا
کشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا
جتنے ہیں کشف یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئے
گلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئے
وہ تر نوالے پیٹ میں جب آکے ڈھل گئے
چودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے
یہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہو
بھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہو
سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو
ا اللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں
اب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیں
پورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیں
اور جن کے آگے روغنی اور شیر مال ہیں
عارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیں
پکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاں
کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
جتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھا
سوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگا
گھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتا
اور اس سوا جوغور سے دیکھا تو جا بہ بجا
سو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑے
کچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتے
یہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لے
گھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زیہنار اسے
اس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاں
اشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیں
سچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیں
کہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیں
6
اشراف سب میں کہئے تواب نان بائی ہیں
جن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاں
دنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہے
یا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے
کوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہے
سب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہے
نوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاں
روٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیر
روکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیر
یا پتلی ہووے موٹی خمیری ہویا فطیر
گیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیر
ہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں

Facebook Comments HS