یہ ہے اسلام کا معاشی نظام


گزشتہ سے پیوستہ کالم میں، مَیں نے ایک مہربان کالم نگار کے ایک کالم کہ اسلام کا کوئی معاشی نظام ہی نہیں ہے، کے جواب میں یہ لکھا تھا کہ اس وقت جدید معیشت کے تین بنیادی مسائل ہیں اور انھی مسائل کو حل کرنے کے لیے تین اصول وضع کیے گئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ تین بنیادی مسائل اور اصول جنھیں معیشت کے باب میں نئی دریافت سمجھا جاتا ہے، کوئی نئے اصول نہیں بلکہ نبی کریمﷺ نے انھیں کم و بیش چودہ سو سال پہلے ہی ریاست مدینہ میں متعارف کرا دیا تھا بھلے اس وقت ان تینوں اصولوں کا نام کوئی بھی رہا ہو۔ اس بات سے آج کا جدید مفکر بھی انکار نہیں کر سکتا۔ اس ضمن میں پہلے بنیادی مسئلے اور اس کے حل کا تذکرہ میں نے پہلے کالم میں کیا تھا۔ اب دوسرے مسئلے اور دوسرے اصول کی جانب بڑھتے ہیں۔

جدید اقتصادیات کے مطابق معیشت کا دوسرا اہم مسئلہ ”How to produce“ ہے اور اس کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا دوسرا اہم اصول ”Allocation of resources“ بھی بیان ہوا ہے جسے اردو میں ”ذرائع کی تخصیص“ کا نام دیا جاتا ہے۔ آج کی جدید معیشت میں ذرائع کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ سب سے پہلے نیچرل ریسورسز ہیں جنھیں قدرتی ذرائع بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جو قدرتی طور پر اس کائنات میں موجود ہیں اور جنھیں استعمال میں لا کر انسان اپنے خاندان یا ریاست کی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ میں صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا کہ اعتراض کرنا آسان ہے لیکن تحقیق کر کے کوئی رائے قائم کرنا اور پھر سوال اٹھانا خون جگر مانگتا ہے۔ نبی کریم نے ریاست مدینہ میں نہ صرف ایلوکیشن آف ریسورسز کی تخصیص کی بلکہ ان تینوں ذرائع کو ریاست مدینہ میں متعارف کرایا تھا۔

مثلاً اگر نیچرل ریسورسز کی بات کی جائے تو آپ نے جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو دیکھا کہ ریاست کے پاس کے پاس کافی زمین موجود ہے جسے آباد کرنے کے لیے ریاست کے مالی یا افرادی قوت موجود نہیں لیکن دوسری طرف کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو زمینیں آباد کرنا جانتے اور چاہتے بھی ہیں تو آپ نے اعلان فرمایا کہ جو کوئی بنجر زمین آباد کرے گا تو وہ اسی کی ملکیت ہو جائے گی۔ اس طرح آپ نے ایک طرف بنجر زمینوں کی آبادکاری سے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کیا تو دوسری طرف لوگوں کی انفرادی معیشت کو بھی سنبھالا دیا۔

دوسرے نمبر پر ”ہیومین میڈ ریسورسز“ یا انسان کے اپنے بنائے ایسے ذرائع ہیں جن سے وہ معیشت کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ بھلے آج کی جدید اور جدید مفکر یہ کہتا رہے کہ اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں یا یہ اصول جدید دریافت ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ اصول بھی نبی کریم ﷺ نے ریاست مدینہ میں متعارف کرایا تھا۔ مثلاً پچھلے کالم میں، میں نے سنن ابوداؤد ( 1641 ) ، ابن ماجہ ( 2198 ) اور ترمذی ( 1218 ) کی ایک حدیث کے حوالے سے ذکر کیا تھا کہ ایک انصاری سوالی بن کر حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اسے بھیک دینے کی بجائے اس سے دستیاب ذرائع کا پوچھا۔ یہ ایلوکیشن آف ریسورسز نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر آپ نے اس کے دستیاب دونوں ذرائع کو بیچ دیا اور اسے ایک کلہاڑا خرید کر دیا۔ کلہاڑا انسان کا اپنا ایجاد کردہ ایک ذریعہ ہے جسے اس انصاری نے اپنی معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جس کی تخصیص نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھی۔ یہ تھا ریاست مدینہ میں نبی کریمﷺ کا لاگو کیا گیا ہیومین میڈ ریسورسز کا اصول۔

تیسرے نمبر پر ہیومین ریسورسز ہیں جس میں انسان کا ہنر یا اس کی سکلز وغیرہ آتی ہیں یعنی انسان اپنی مہارت، ہنر یا فن سے اپنی معیشت کو بہتر بنائے۔ اس اصول کو بھی نبی کریم ﷺ نے ریاست مدینہ میں متعارف کرایا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے وہاں اس چیز کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن ایک ریاست میں عملی طور آپ ﷺ نے اسے سب سے پہلے متعارف کرایا ورنہ وہاں کسی نہ کسی طور یہ چیز پہلے بھی موجود تھی۔ انسان دو ہی طریقوں سے رزق کماتا ہے، کچھ انسان اپنی دولت انویسٹ کرتے ہیں اور جن کے پاس دولت نہیں ہوتی وہ اپنی سکلز کے بدلے دولت کماتے ہیں جیسا کہ مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ ؓ کے پاس دولت تھی لیکن وہ خود تجارت کرنے نہیں جاتی تھیں بلکہ کسی ماہر شخص کو خاص معاوضے کے بدلے خدمات حاصل کرتی تھیں۔ خود نبی کریمﷺ بھی ان کا سامان تجارت لے کر شام گئے۔

اسی طرح جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہاں انصار کام کرتے تھے لیکن کاروبار پر یہودی قابض تھے۔ یعنی ذرائع یا اثاثے انصار یا مدینے کے باسیوں کے تھے لیکن ان پر قبضہ یہودیوں کا تھا کیونکہ ان کے پاس ڈیلنگ سکلز یا بازاروں کی ملکیت تھی۔ لیکن دوسری طرف مہاجرین مکہ سے گئے تھے جسے قرآن نے بنجر زمین کا نام دیا ہے اور اسے وجہ سے مہاجرین تجارت کے پیشے میں ماہر تھے۔ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ گئے تو آپ نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا۔ اب صورتحال یہ ہوئی کہ اثاثے یا اجناس انصار کے تھے اور ڈیلنگ سکلز مہاجرین کی تھیں جنھوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔ یوں ہیومین میڈ ریسورسز کا اصول پہلی بار سرکاری طور نبی کریم نے ریاست مدینہ میں متعارف کرایا جس نے کچھ ہی دنوں میں وہاں کے بازاروں پر عرصہ دراز سے یہودی تسلط کو زمین بوس کر دیا جس کا بیان آئندہ کالموں میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمان مہاجرین کو بھی اسی معاشرے میں عزت سے جینے کا سامان میسر آیا۔

 

Facebook Comments HS