دائیں طرف
دائیں-طرف
کم عمر ہرن اکیلے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا اس سے بے خبر کہ تاریکی میں ڈوبے جنگل میں کس قدر خطرہ موجود ہے
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ پیچھے جھاڑیوں میں کچھ ہلچل ہونے لگی وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا یعنی شکاری شکار کے واسطے آ موجود ہوا۔ ایک لگڑ بگڑ جو ہرن ہی کی طرف دوڑا آ رہا تھا جسے دیکھ کر ہرن نے بھی اپنی رفتار تیز کی مگر طاقتور لگڑ بگڑ نے کمزور ہرن کی پچھلی ٹانگ پر اپنا جبڑا گاڑ دیا۔
درد کی شدت سے سے ہرن چیخنے لگا مگر مزاحمت ترک نہ کی اور خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرا کر پوری قوت سے آگے بڑھنے لگا لگڑ بگڑ اپنی مخصوص آواز (قہقہہ) نکالتا ہوا مسلسل اس کا تعاقب کرنے لگا زخمی ہرن ابھی زیادہ دور نہ جا پایا کہ لگڑبگڑ نے پھر اسے آ دبوچا۔ ڈرا سہما ہرن رک کر پھر سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے لگا مگر بے سود کہ وہ اس کے مقابل بہت کمزور تھا۔
لگڑبگڑ نے اپنے تیز دانتوں کے ذریعے اسی جگہ پر حملہ کیا جہاں اس سے پہلے وہ زخم لگا چکا تھا پھر وہ اپنی مخصوص آواز (قہقہہ) کو بار بار بلند کرتا ہوئے، ہرن کے گرد دائرے کی شکل میں چکر لگانے لگا اور جب موقع پاتا اس کے جسم کے مختلف حصوں پر کاٹتا جاتا۔ ہرن اب دوہرے عذاب میں گرفتار تھا پہلی لگڑبگڑ کی خوفناک آواز اور دوسرے اس کے خطرناک نوکیلے دانت جس کے پے در پے وار کی وجہ سے وہ بے بس ہو کر زمین پر گر پڑا تھا۔
لگڑبگڑ نیچے گرے زخمی نڈھال ہرن پر چھپٹ پڑا اب وہ پوری طرح اس کی دسترس میں تھا وہ بڑی تیزی کے ساتھ ہرن کے جسم سے گوشت کو نوچ کر کھا رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہرن کی ہمت ختم مزاحمت ختم اور پھر آہستہ آہستہ سانسیں بھی ختم ہوتی چلی گئیں۔
اپنے پیٹ کی بھوک مٹاتے مٹاتے اس نے ہرن کے وجود کو ہی مٹا ڈالا۔ وہاں اب محض ایک عدد ہڈیوں کا ڈھانچہ موجود تھا۔
بائیں۔ طرف
کم عمر لڑکی اکیلے ہی روڈ پر پیدل چلی جا رہی تھی اس بات سے بے پرواہ کہ ویران رستے میں کس قدر خطرہ موجود ہو سکتا ہے
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے اپنے پیچھے کچھ قدموں کی آہٹ محسوس ہونے لگی وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا یعنی شکاری شکار کے واسطے آ موجود ہوا۔ ایک بڑی عمر کا توانا شخص اسی کی سمت تیزی سے چلے آ رہا تھا۔ لڑکی تیز تیز قدموں کے ساتھ چلنے لگی مگر طاقتور شخص نے کمزور لڑکی کے کندھے پر زوردار ہاتھ رکھ کر اسے روک لیا۔
درد و خوف سے لڑکی چیخی اور اپنے کندھے کو جھٹک کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی وہ شخص ذرا پیچھے ہٹا اور زوردار قہقہہ لگایا (دل میں یہ گمان کہ کون تمہیں بچائے گا) لڑکی پھر سے چند قدم آگے بڑھتی ہے مگر یہ شخص تیزی سے اس کے پاس پہنچ کر اس سے موبائل فون اور پرس دونوں چھین لیتا ہے ڈری سہمی لڑکی رک کر اس شخص سے مقابلہ کی کوشش کرتی ہے مگر بے سود کہ وہ اس کے مقابل بہت کمزور ہے
وہ شخص لڑکی کے جسم پر مسلسل ہاتھ پھیرتا جاتا ہے پھر بار بار قہقہہ لگاتا اور دائرے کی شکل میں لڑکی کے گرد چکر لگانے لگا ساتھ ہی جب وہ موقع پاتا اس کے جسم سے کپڑوں کو بھی کھینچ کر پھاڑ ڈالتا۔ مزاحمت کے باوجود لڑکی خود کو برہنہ ہونے سے نہ بچا پائی۔ خوف زدہ لڑکی بے بسی کی تصویر بنی کھڑی تھی جب اس شخص نے اسے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔
وہ شخص نیچے گری زخمی نڈھال لڑکی پر چھپٹ پڑا۔ لڑکی نے خود کو چھڑانے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر لا حاصل کہ اس شخص نے اسے پوری طرح دبوچ رکھا تھا۔ لڑکی نے چیخنے چلانے کی کوشش کی تو اس شخص نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا اور اس کا ریپ کرنے لگا۔
اب لڑکی کی ہمت بالکل جواب دے گئی تھی مزاحمت ختم ہو گئی تھی آنکھوں سے گرتے لگاتار آنسو درد و تکلیف کی شدت کو ظاہر کر رہے تھے۔
ہوس میں مبتلا شخص اپنے حواس ہی کھو بیٹھا تھا اس شخص نے جسم کی بھوک کو ختم کرتے کرتے لڑکی کی سانسوں کو ہی ہمیشہ کے لئے ختم کر ڈالا۔ یہاں اب محض ایک بے جان سرد جسم موجود تھا۔


