کچھ بنگلہ دیش سے سبق سیکھ لیں


اللہ تعالی کسی انسان یا قوم کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا۔ یہ بات کل جس طرح سچ تھی آج بھی اسی طرح سچ ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو دوسرے انسان یا من حیث القوم کسی دوسری قوم کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے۔ آج پاکستان کے حالات اس کی بہترین مثال ہین۔

موجودہ پاکستان اور بنگلہ دیش جب اکٹھے تھے تو آپ غور کریں کہ پاکستان تمام تر سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود معاشی اور سماجی طور پر بہتر تھا اور ترقی کر رہا تھا۔ یہ تمام تر صورتحال 1969 تک برقرار رہی۔ بے شک اس دوران اس قوم نے بدترین فوجی آمریت کا منہ بھی دیکھا اور دو عدد جنگیں بھی لڑیں۔ جنگ جو قوموں کو معاشی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔

سابقہ سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے جو تمام تر فوجی طاقت کے باوجود افغان جنگ میں براہ راست حصہ لینے کی وجہ سے معاشی طور پر برباد ہو گیا۔ اپنا وجود تک برقرار نہ رکھ سکا۔ آج سوویت یونین درجن بھر سے زائد آزاد ریاستوں میں بٹ چکا ہے۔ آج پھر وہ یوکرین کے ساتھ براہ راست بر سر پیکار ہے۔ اس کا انجام کیا ہو گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

اس کے برخلاف چین جو اسی کی دہائی تک انتہائی پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور ملک تھا اس نے اپنی تمام تر توانائیاں اپنے ملک کے لوگوں پر صرف کیں۔ اپنے وسائل سے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔ براہ راست کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ سے گریز کی پالیسی نے اسے ایک معاشی اور فوجی طاقت کے طور پر دنیا میں ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان ہے جو ساتویں دہائی کے آغاز تک ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر موجود تھا۔ لیکن انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان کے اثر رسوخ میں بتدریج کمی واقع ہوئی اور پاکستان معاشی طور پر کمزور سے کمزور ہوتا گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ تمام تر وسائل کے ہوتے ہوئے وہ ڈیفالٹ کر چکا ہے بس رسمی اعلان باقی ہے۔

روپے کی قدر پچھلے ستر برسوں میں تین سو گناہ کم ہو چکی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ موجودہ پاکستان جسے کل مغربی پاکستان بھی کہتے تھے بنیادی طور پر ایک جاگیردار معاشرہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جاگیردار معاشروں میں جاگیردار اور اس کے خاندان کے علاوہ باقی تمام لوگ اس کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ جو بھی شخص جاگیردار کے حکم سے انکار کر دے اس کا معاشرے میں رہنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہے۔

پاکستان میں جاگیرداروں کے ساتھ کئی اور گروہ بھی طاقت اور اختیار میں حصہ دار ہیں۔ جن میں سول بیوروکریسی، عدلیہ اور سرمایہ دار بڑے حصہ دار ہیں۔ لیکن ان سب کے لگام ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ ملٹری بیوروکریسی کے پاس ان سب طاقتور لوگوں کی کمزوریاں بھی ہیں اور ان کو لگام دینے کے لیے طاقت بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کاروبار میں بھی شریک کار ہے۔ یوں ملٹری پاکستان کی سب سے بڑی زمینی حقیقت کے طور پر اپنا آپ منوا چکی ہے۔ جس کا منطقی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ ہم ایک سیکیورٹی سٹیٹ بن کر رہ گئے ہیں۔

جبکہ ہمارے نزدیک بھوکے ننگے بنگالی مغربی پاکستان کے جاگیردارانہ نظام سے چھٹکارا پانے کے بعد محض پچاس سالوں میں ایک اہم معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان پچاس سالوں میں انہوں نے بھی پچیس سال فوجی حکومتوں کو جھیلا ہے۔ لیکن بنگالیوں کی مزاحمت نے آخر کار سول سپریمیسی کو بنگلہ دیش میں نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ انہیں معاشی طور پر بھی مضبوط کیا۔ جبکہ مغربی پاکستان کے لوگوں کی خوئے غلامی نے پاکستان کی سول اور ملٹری اشرافیہ کو اس قدر طاقتور کر دیا ہے کہ آج پاکستان کی اشرافیہ تو بہت طاقتور ہے لیکن عوام آٹے دال کے لئے خوار ہو رہے ہیں۔ یہ خواری جب تک خوئے غلامی موجود ہے نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ مزید بڑھے گی۔

اللہ تعالی کسی انسان یا قوم کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا۔ یہ بات کل جس طرح سچ تھی آج بھی اسی طرح سچ ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو دوسرے انسان یا من حیث القوم کسی دوسری قوم کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے۔


2 thoughts on “کچھ بنگلہ دیش سے سبق سیکھ لیں”

  • 18/02/2023 at 11:41 صبح
    Permalink

    جی بالکل صحیح بات ہے اور یہی حقیقت ہے اللّٰہ تو انسان کی لگن محنت اور نیت سے اس کے حالات بدلتا ہے۔۔۔ اگر کوئی ظلم سہنے کا عادی ہو جائے تو ساری دنیا اس کے لئے ظالم بن جاتی ہے اگر کوئی ظلم کرنے کا عادی بن جائے تو ساری دنیا اسکو حقیر نظر آنے لگتی ہے اگر کوئی حق پر ڈت جائے تو دنیا اپنی حقیقت اس پر عیاں کر دیتی ہے۔۔۔ مگر کرتا انسان خود ہے اللّٰہ تو حق پرستوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔۔۔ اور یہی سچ ہے۔۔۔

  • 24/02/2023 at 8:52 شام
    Permalink

    جن لوگوں کے پاس بڑی بڑی جاگیریں ہیں اگر ملک کی باگ ڈور بھی انہی کے ہاتھ میں ہوگی تو ان کے نزدیک ترقی کا مطلب اچھے مزارعے پیدا کرنا ہے جو انہیں زیادہ سے زیادہ پیداوار دے سکیں ۔ جب تک ملک کا نظام عام لوگوں کے ہاتھ نہیں آئے گا تب تک عام لوگوں کے نزدیک ترقی کا جو مطلب ہوتا ہے وہ ترقی نہیں ہوگی۔

Comments are closed.