فخر ہند ،فاتح ہند اور فخر پاکستان

10 سال کے وقفے کے بعد فاتح ہند سلطان شہاب الدین غوری نے ایک بار پھر خاکسار کو اپنی آخری آرام گاہ پر حاضری کے لئے بلوا لیا۔ جس نے آج سے دس صدیاں قبل فخر ہند کا لقب رکھنے والے راجہ پرتھوی راج اور اس کے اتحادی 150 راجاؤں کو للکارا۔ اور پھر ان کی تین لاکھ فوج کو شکست دے کر ہندوستان میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ پہلی بار تو میں نے اس سلطان کو ہندوستان کا ایک روایتی عیاش مسلمان بادشاہ سمجھا اور قبر پر کی جانے والی اتفاقاً فاتحہ خوانی کو سلطان پر بہت بڑا احسان سمجھا۔
مگر بعد میں جب سلطان شہاب الدین غوری کی سوانح عمری اور کارنامے پڑھے تو احساس ہوا کہ یہ وہ سلطان ہے جو ساری عمر ہتھیار اٹھا کر دشمنان اسلام سے نبرد آزما رہا۔ جو خود تو تبلیغ نہیں کر سکا، مگر مبلغین اسلام اور اولیاء کرام کو ایک سازگار ماحول ضرور دیا۔ جس میں انہوں نے نبی آخرالزمان کی تعلیمات سے ہندوستان کے چپے چپے کو منور کر دیا۔ یوں دوسری بار خاص طور پر اور خالصتاً حاضری کی نیت سے چوہدری سلطان اکبر سیکھو صاحب اینڈ کمپنی کے ساتھ اذن سفر باندھا اور پہلی بار انجانے میں ہو جانے والی گستاخی پر معافی بھی مانگی۔
اس عظیم مجاہد کو تاریخ میں اس کے مرتبے کے مطابق کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ مگر بقول حضرت سلطان باہو
فقیر ناں تنہا دا باہو، قبر جنہاں دی جیوے ہو
مطلب خدا اپنے نام لیواؤں اور فقر کی راہ پر چلنے والوں کو کبھی مرنے نہیں دیتا۔ جس کی مثال سوہاوہ شہر سے 17 کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے دھمیاک نامی گمنام قصبے میں موجود اس مجاہد اسلام کی آخری آرام گاہ ہے۔ پوٹھوہار کے جنگل میں صدیوں عوام الناس کی نظروں سے اوجھل رہنے والی اس قبر کو خدا نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کے ذریعے زندہ کر دیا۔ جس نے نہ صرف اس مقام پر ایک انتہائی خوبصورت اور جدید طرز تعمیر پر مبنی ایک مقبرہ تعمیر کروایا، بلکہ انڈیا کے پرتھوی میزائل کے جواب میں شہرہ آفاق *غوری میزائل* بنا کر غور کے اس مسلمان سپہ سالار کو امر کر دیا۔
مستند تاریخی حوالوں کے مطابق برصغیر کے لٹیرے اور شراب و شباب کے دلدادہ مسلمان بادشاہوں کے برعکس اس مرد مجاہد نے اپنی زندگی عین اسلامی روایات کے مطابق گزاری۔ راجہ پتھورا سے جنگ سے پہلے اپنے قاصد رکن الدین سے سلطان کا مندرجہ ذیل مکالمہ اس کے عقائد کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔
(*** رکن الدین! ”سلطان گویا ہوا“ ہم تمہارے ذمے ایک اہم کام لگانا چاہتے ہیں۔ آج ہم صحابہ کر امؓ کی یاد تازہ کرنا چاہتے ہیں۔ ”
”میں سمجھا نہیں جہاں پناہ!“ وہ مستفسر ہوا۔
”رکن الدین! ہم راجہ پتھورا اور اس کے حامیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا چاہتے ہیں کیونکہ صحابہ کر امؓ بھی کفار سے جنگ کرنے سے پہلے ایسا ہی کرتے تھے۔ ہم نے اس عظیم کام کے لیے تمہیں منتخب کیا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر کے بعد تمہیں ہمارا مراسلہ مل جائے گا۔“
”میں جہاں پناہ کا ممنون ہوں کہ اس عظیم کام کے لیے اس خادم کا انتخاب کیا گیا ہے“ رکن الدین نے پرمسرت انداز میں جواب دیا ”آپ کا مکتوب ملتے ہی میں یہاں سے روانہ ہو جاؤں گا۔“
پھر اسی روز رکن الدین حمزہ سلطان شہاب الدین غوری کا مکتوب لے کر اجمیر کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھا کیونکہ سلطان نے اسے دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا اور یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں تھی۔
جس وقت رکن الدین حمزہ سلطان شہاب الدین غوری کا مکتوب لے کر راجہ پتھورا کے دربار میں داخل ہوا اس وقت ہندوستان کے تقریباً ڈیڑھ سو راجے راجہ پتھورا کے دربار میں حسب مراتب بیٹھے ہوئے تھے۔ اہل دربار استہزائیہ انداز میں رکن الدین حمزہ کو دیکھ رہے تھے لیکن وہ انہیں نظرانداز کرتا ہوا راجہ پتھورا کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔ اس کے چہرے پر نہ تو کسی پریشانی کے آثار تھے اور نہ ہی مرعوبیت کے بلکہ وہ غیر معمولی طور پر مسرور و مطمئن نظر آ رہا تھا۔ اہل دربار اس کا یہ نڈر انداز دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔
راجہ پتھورا کا اشارہ پا کر رکن الدین حمزہ نے سلطان شہاب الدین غوری کا مکتوب جیب سے نکال کر شاہی مترجم کے حوالے کر دیا۔ مترجم نے مکتوب کھول کر پڑھا اور پھر سر اٹھا کر جواب طلب انداز میں راجہ پتھورا کی طرف دیکھنے لگا۔ مترجم کے چہرے پر خوف اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت تھی جسے راجہ اور اہل دربار نے بھی دیکھ لیا تھا۔
”مکتوب کا ترجمہ سنایا جائے“ راجہ پتھورا نے متکبرانہ انداز میں حکم دیا۔
”مہاراج!“ مترجم ڈرے ڈرے انداز میں بولا ”سلطان شہاب الدین غوری نے آپ کو اور دیگر راجگان ہند کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔“
”مکتوب میں کیا لکھا ہے؟“ راجہ پتھورا نے گرج کر پوچھا۔
”مہاراج! سلطان شہاب الدین غوری نے لکھا ہے کہ اگر آپ اور آپ کے حامی اسلام قبول کر لیں تو مسلمان بغیر جنگ کیے واپس لوٹ جائیں گے“ مترجم نے سہمے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
”اس بدبخت کی یہ جرات“ راجہ پتھورا مترجم کا جواب سن کر چلا کر بولا ”کہ وہ ہمیں یعنی فخر ہند کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دے اور وہ بھی ہماری سر زمین پر آ کر ، بھگوان کی سوگند، وہ یہاں سے زندہ بچ کر واپس نہیں جا سکے گا۔ ہم اس کے ایک ایک سپاہی کا سر تن سے جدا کر دیں گے۔“
اتنا کہہ کر وہ رکن الدین حمزہ کی طرف متوجہ ہو گیا ”جاؤ اور جا کر اپنے لٹیرے بادشاہ سے کہہ دو کہ ہم دریائے سرستی کے کنارے اس کا انتظار کریں گے۔ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس بار اسے جان بچا کر بھاگنے کا موقع نہیں دیں گے۔“
”خدا کی قسم! ہم بھی تمہیں مایوس نہیں کریں گے“ رکن الدین حمزہ نے بغیر مرعوب ہوئے جواب دیا۔ ”بہت جلد ہمارا اور تمہارا سامنا ہو گا اور پھر اہل ہند وہ نظارہ دیکھیں گے جو اس سے قبل ان کی آنکھوں نے نہیں دیکھا ہو گا۔“
”ادھر دیکھو بدبخت!“ راجہ نے گرج کر ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”یہ راجگان ہند ہیں۔ ان کی پیشانیوں پر لگے ہوئے تلک کے نشان تم لوگوں کی بربادی کی علامت ہیں۔ ان تمام راجاؤں نے اپنی اپنی پیشانی پر تلک لگا کر ہمیں یہ وچن دیا ہے کہ شہاب الدین غوری کی موت تک ان کی تلواریں میان میں نہیں جائیں گی۔“
”ہم انہیں زیادہ دیر تک انتظار کی کوفت میں مبتلا نہیں کریں گے“ رکن الدین حمزہ نے استہزائیہ انداز میں تمام راجاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ”سلطان خود بھی ان کے تلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔“
”کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہیں دھکے دے کر دربار سے نکال دیں“ راجہ اس کا اطمینان دیکھ کر چلایا ”اس سے پہلے کہ ہماری قوت برداشت جواب دے جائے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ فوراً یہاں سے دفع ہو جاؤ، اگر قاصد کا قتل جائز ہوتا تو تمہارا کٹا ہوا سر کب کا ہمارے چرنوں میں پڑا ہوتا۔“
راجہ کو آپے سے باہر ہوتے دیکھ کر رکن الدین حمزہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا دربار سے باہر نکل گیا۔)
اور پھر فتح کے بعد سلطان کے یہ احکامات اس کے اندر کے فقیر کے عکاس ہیں۔
(بعض مؤرخین یہ بیان کرتے ہیں کہ اس عظیم فتح کے دوسرے دن جب سلطان کی فوجیں فتح کا جشن منا رہی تھیں تو اچانک سلطان شاہی لباس میں وہاں پہنچ گیا۔ امراء اور عام سپاہی سلطان کو اپنے درمیان دیکھ کر پرجوش نعرے لگانے لگے لیکن سلطان نے خوش ہونے کی بجائے انہیں جھڑک دیا اور پھر قدرے بلند جگہ پر کھڑے ہو کر اپنے لشکریوں کو مخاطب کر کے بولا ”مسلمان فوج کو فتح کا جشن منانا زیب نہیں دیتا بلکہ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرو جس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اتنی عظیم فتح عطا فرمائی ہے۔
میرے نام کے نعرے لگانے کی بجائے اس معبود برحق کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاؤ جو حاکم الحاکمین ہے اور دلوں میں چھپے ہوئے بھید تک جانتا ہے۔ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ جس کے ہاتھ میں عزت بھی ہے اور ذلت بھی۔ جو شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنانے پر قادر ہے اور جس کی بادشاہی کو زوال نہیں ہے۔ میں تو اس شہنشاہ کا ایک ادنیٰ سا غلام ہوں
” اتنا کہہ کر سلطان لمحہ بھر کے لیے متوقف ہوا اور پھر دوبارہ گویا ہوا“ میرے دوستو اور رفیقو! آج میں تم سب کے سامنے اس راز پر سے پردہ اٹھانے لگا ہوں جو اس سے پہلے صرف مجھے ہی معلوم تھا۔ ترائین کی پہلی جنگ میں شکست کھانے کے بعد میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک اس شکست کا بدلہ نہیں لے لوں گا نہ اپنی بیوی کی شکل دیکھوں گا اور نہ ہی یہ خون آلود لباس تبدیل کروں گا۔ آج میری قسم پوری ہو چکی ہے اس لیے میں وہ بوسیدہ لباس اتار دینا چاہتا ہوں۔ ”
اس کے بعد سلطان نے تمام لشکریوں کے سامنے زرق برق شاہی لباس اتار دیا اور پھر مارے حیرت کے تمام حاضرین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سلطان کے بدن پر ایک بوسیدہ اور خاک آلود لباس کے چیتھڑے لٹک رہے تھے۔ یہ پرانا لباس بمشکل سلطان کی ستر پوشی قائم رکھے ہوئے تھا۔
تاریخ کے دامن میں آج بھی یہ واقعہ محفوظ ہے اور رہتی دنیا تک محفوظ ہی رہے گا۔
فتح کے دوسرے دن فخر ہند راجہ پتھورا اپنے ساتھیوں سمیت دگرگوں حالت میں سلطان شہاب الدین غوری کے سامنے سر جھکائے ہوئے کھڑا تھا۔ اس کے عروج کا سورج دیکھتے ہی دیکھتے غروب ہو چکا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ کبھی ہند کا سب سے طاقت ور، سنگدل اور مغرور راجہ تھا۔
سلطان شہاب الدین غوری نے راجہ پتھورا اور اس کے ساتھیوں پرایک قہر آلود نگاہ ڈالی اور پھر قدرے توقف سے گویا ہوا ”فخر ہند راجہ پتھورا! کہاں گئے تیرے وہ دعوے؟ بدبخت تو اسلام کو مٹانے چلا تھا۔ اس آفاقی دین کو جس کے علم برداروں نے قیصر و کسریٰ کے تاج بھی اپنے پیروں تلے روند ڈالے تھے۔ ***)
تاریخ کے مطابق سلطان شہاب الدین غوری ایک بار اپنے مختصر سے قافلے کے ساتھ واپس افغانستان کی طرف روانہ تھا کہ اپنی جائے مقتل پر اس نے آرام کا فیصلہ کیا۔ رات کے اندھیرے میں جب یہ شہنشاہ اپنے خیمے میں رب کی بارگاہ میں حاضری دے رہا تھا کہ گھگھڑ قبیلے کے ایک لشکر نے دھوکے سے حملہ کر دیا جس میں یہ فاتح ہند اپنے تین محافظوں کے ہمراہ ابدی نیند سو گیا۔

