زرد موسم کی یادداشت
ضروری نہیں کہ ان کے پاس جاؤ، کبھی کبھی دور سے ہی ان کی خوشبو آتی ہے، یہ میٹھی خوشبو چھوٹے بڑے پرندوں کی طرح راستے میں آن لیتی ہے۔ یہ راستے عموماً ادھر ادھر سے آ کر ملتے ہیں، جہاں کہیں کہیں درخت پر مختلف رنگوں کے پھول کھلے ہیں، صبح بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ راستے سے گزرتے کسی کی یاد نے دل کا چھاگل بھر دیا۔ کوئی بہت یاد آیا ”
یہ اقتباس کتاب ”زرد موسم کی یادداشت“ سے لیا گیا ہے۔
جنوری کی خنک شاموں میں یہ کتاب ”زرد موسم کی یاداشت“ مجھے موصول ہوئی۔ سردیوں کی شامیں اداس بھی ہوتی ہیں اور رومان پرور بھی۔ یہ کتاب بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اداس لیکن romanticism سے بھر پور۔
زرد موسم کی یادداشت ایک علامتی خود نوشت ہے۔ ارشد رضوی صاحب نے بہت باکمال انداز میں اپنی زندگی کے کچھ واقعات اور ڈھیروں احساسات اس کتاب میں لکھ ڈالے ہیں۔ انداز بیان شاعرانہ ہے۔ ایسی نثر جس پر کبھی شاعری کا گمان ہوتا ہے تو کبھی پینٹنگ کا۔
جنگل کا خاکہ کھینچتے ہیں تو ہم اسی جنگل میں پہنچ جاتے ہیں، کسی جانور کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا اس قدر خوفناک خاکہ کھینچتے ہیں کہ اس سے خوف محسوس ہوتے لگتا ہے اور جس عورت کی تصویر کشی کرتے ہیں وہ دل کو بھلی بھلی محسوس ہوتی ہے۔
زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی اچھی بری یادیں عجب رنگ سے پیش کی ہیں کہ سمجھ بھی آ جائے اور کئی سوال بھی ذہن کے دریچوں میں دستک دینے لگیں۔
ارشد رضوی صاحب نے اپنا ڈیڑھ ماہ کا نواسہ کھویا اور اس سے جڑی بے پناہ محبت بھری یادیں اس کتاب میں سمو دیں۔
یہ کتاب ہونے حصار میں لینے کا ہنر جانتی ہے۔ آپ ارشد رضوی صاحب کے دکھ کے ساتھ دکھی ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ تخیل میں کھو جائیں گے۔ اس محبت میں مبتلا ہو جائیں گے جس میں وہ مبتلا ہو۔ چاند، تارے، آسمان، گھاس، پھول اور جگنو کی باتیں کرنے لگیں گے اور جنگل آپ کے من کو بھی بھانے لگے گا۔
کراچی شہر میں ادب کے حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ یہ کتاب ایک خود نوشت نہیں بلکہ ایک مکمل ناول ہے۔ تو صاحب اسے خود نوشت کے طور پر بھی پڑھیے اور ناول سمجھ کر بھی۔ یہ کتاب ہر بار پڑھنے پر ایک الگ اور منفرد تاثر ذہن پر چھوڑ جاتی ہے۔
کتاب مختصر چیپٹرز کی صورت میں چھاپی گئی ہے۔ کتاب سے سب سے بڑا سبق جو میں نے حاصل کیا وہ یہ ہے کہ اداسی آپ کو creative بنا سکتی ہے۔ اداسی کو جینے کا سلیقہ آ جائے تو زندگی مزید خوبصورت اور گہری ہو جاتی ہے۔ اداسی کو پالنا سیکھیے، اس کے ساتھ جینا سیکھیے اور اپنے اندر چھپے آرٹسٹ کو پا لیجیے۔
یہ کتاب رواں بکس کراچی نے شائع کی ہے۔ اس کی قیمت 800 روپے ہے۔



