پاکستانی مہا بھارت


سب سے خطرناک لڑائی وہ ہوتی ہے جس میں تمام فریقین خود کو فاتح سمجھ بیٹھتے ہیں مگر در حقیقت وہ سب کے سب آخر کار شکست خوردہ ٹھہرتے ہیں۔ انھیں بہت بعد میں جا کر جب اس بات کی سمجھ آتی ہے تب تک تاریخ اس قوم پر اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہوتی ہے۔ پاکستان میں آج کل ایسی ہی چومکھی لڑی جا رہی ہے۔ جیسے ڈبلیو ڈبلیو ای میں ایک چیلنج ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سے پہلوان حصہ لیتے ہیں اور آخر میں بچنے والا فاتح قرار پاتا ہے۔

پاکستان میں بھی ایسا ہی اکھاڑا سج چکا ہے۔ ایک طرف پرانے سیاستدان ہیں جنھیں قسمت نے ایک بریکٹ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ یہ گرگ ہائے باراں دیدہ پہلی بار خوفزدہ ہوئے ہیں اور اب دائرے میں ایک دوسرے سے پشت بھڑائے، تھوتھنیاں اٹھائے دانت نکوس رہے ہیں۔ انھیں اس بات کی اچھی طرح سمجھ آ چکی ہے کہ اقتدار کی چکنی مچھلی اس بار ان کے ہاتھ سے پھسل گئی تو دوبارہ ہاتھ آنا تو درکنار انھیں کہیں جائے امان نہیں ملے گی۔ ان کے لیے کرو یا مرو کی صورتحال ہے۔

اس لیے یہ کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اخلاقی اقدار سے قطعی فارغ اس ملک میں ان لوگوں نے اپنے مصنوعی منافقانہ لبادے اب اتار پھینکے ہیں اور کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ دوسری طرف میدان سیاست کے نو آموز کھلاڑی ہیں جنھیں قدم قدم پر نت نئی آزمائشوں سے پالا ہے۔ یہ ایک ایک کر کے ہر چیز سیکھ رہے ہیں مگر انھیں بالکل اندازہ نہیں کہ اگلی بار حملہ کس طرف سے ہو جائے۔

بھیڑیوں کے مقابلے میں ان کی مثال معصوم بے ضرر ہرنوں کی سی ہے جو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ہمہ وقت درندوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ انھیں یہ خوش فہمی ہے کہ تعداد کے بل بوتے پر اقتدار بھی حاصل کر لیں گے۔ مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ دراصل اقتدار حاصل کرنے اور پھر اسے برتنے اور برقرار رکھنے کے لیے جس وحشی جذبے اور عیاری کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کے ہاں مفقود ہے۔ البتہ ان کا لیڈر ایک ایسا بارہ سنگھا ہے جس میں اپنی جاتی کے دیگر جانداروں کے برعکس کسی ببر شیر کی روح حلول کر گئی ہے۔ وہ کسی صورت ہار ماننے اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے تا آنکہ خود ہی اپنے سینگ کہیں پھنسا لے۔ کوشش ٹل لگا کے ہو رہی ہے، ہر طرف سے جال پھینکے جا رہے ہیں مگر اس کے معصوم بہی خواہوں نے اس کے گرد حصار بن رکھا ہے۔

تیسرا فریق غیر مرئی ہے کیونکہ سامنے آئے بغیر ہر کام کرتا ہے۔ اسی لیے کبھی اسے خلائی مخلوق تو کبھی محکمہ زراعت کہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں لب کشائی کرنا خاصے دل گردے کا کام ہے۔ یہ خود نمائی کے بالکل قائل نہیں ہیں۔ ان کا ماٹو ہے ”خود کو چھپاؤ اور دوسروں کو ننگا کرو“ ۔ اب تک یہ بڑی کامیابی سے اس پر عمل پیرا رہے ہیں مگر اب معاملہ کچھ کچھ دگر ہونے لگا ہے بلکہ دگر گوں نہ ہو جائے کہیں۔ ایسی صورت میں یہ بھاری قدموں کی دھمک کے ساتھ کھل کر سامنے آ جاتے ہیں اور اپنے زور آور پنجوں کے دھپ مار مار کے سب کو سیدھا کر دیتے ہیں۔ کیا بھیڑیے اور کیا بارہ سنگھے سب ایک ہی پنجرے میں بند کر دیے جاتے ہیں۔

چوتھا گروہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بقیہ تینوں گروہوں کی شہ رگ گویا اس کی مٹھی میں ہے۔ انھیں اختیار حاصل ہے کہ جب چاہیں شکنجہ کس دیں۔ کوئی ان کے آگے پر نہیں مار سکتا۔ یہ برصغیر کی برہمن روایت کا ہی تسلسل ہے کہ مذہب کے معاملے میں اس گروہ کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ یہ بھلے ایک دوسرے کو گردن زدنی قرار دیں مگر کوئی غیر برہمن ان کی عملداری میں پاؤں رکھ کر تو دیکھے۔ یہ یکجان اور یک زبان ہو کر اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے اپنی حدود سے نکال باہر کرتے ہیں۔

مقتدرہ ہر چند عرصے کے بعد ان کی فرمائش پر مختلف نوعیت کے قوانین کا نفاذ عمل میں لاتی رہتی ہے جن میں بعض تو اس حد تک بچگانہ اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں کہ سن کر ہنسی آتی ہے۔ البتہ ایسے ہر قانون کے نفاذ کے ساتھ یہ مزید طاقتور اور ریاست کمزور تر ہوتی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی طاقت بے حد و بے حساب ہے مگر اس کا کیا کیجے کہ اس کے باوجود ان کی ایک قیمت ہے، یہ بے مول نہیں ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اسی لیے اس مہا بھارت میں ان کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے۔

اس کے علاوہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے اس دنگل کا سافٹ ویئر دساور سے بن کر آیا ہے اور ایک کردار وہ ہے جو ہاتھوں میں جوائے سٹک تھامے ہزاروں میل دور سے شطرنج کی یہ بازی کھیل رہا ہے۔ رہ گئی جنتا تو وہ آنکھوں پر کھوپے چڑھائے کولہو کے بیل کی طرح مشقت کی چکی پیس بھی رہی ہے اور اسی میں پس بھی رہی ہے۔ اس کے سوا کسی کام کا نہ اسے فہم ہے نہ ادراک اور یہ ملک اس شکست و ریخت کی طرف مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے جہاں کرچیوں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ اپنے محبوب وطن کو تباہی کے اس راستے پر گامزن دیکھ کر جی چاہتا ہے آنکھیں بند کر لیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments