ایک کہانی کچھ نئی کچھ پرانی (4)

رفتہ رفتہ حلقے والوں کے حق میں بات کرنا تو درکنار ان کا نام لینا بھی شجرِ ممنوعہ بن گیا۔ رانا صاحب کے دیہانت کے بعد بہت سے راجہ آئے اور گئے۔ سماج کی بہت سی قدریں بدل گئیں۔ ”مانَوّ ادھیکار“ کی بحثیں جا بجا زور شور سے ہوتیں مگر نہ پنڈت کے اثر رسوخ میں کوئی کمی آئی اور نہ ”ملیچھ ادھنّیم“ کے اس قانون کا بال بیکا ہوا۔ اس بحث کو آگے بڑھنے سے وہ یہ کہہ کر

Read more

ایک کہانی کچھ نئی کچھ پرانی (3)

جنتا نے ایک کان سے سنا دوسرے سے نکالا۔ بیشتر کو تو سمجھ ہی نا آ سکی معاملہ کیا ہے۔ دھارمک اکٹھ کے کرتا دھرتاؤں کے پیٹ میں کچھ دیر کے لیے ٹھنڈ پڑ گئی۔ حلقے والوں کے لیے البتہ ابتلاء اور آزمائش کا نیا دور شروع ہوا۔ رانا جی کی تانا شاہی میں ان کی پکڑ دھکڑ ہونے لگی۔ لوگ سنتے تو دانتوں میں انگلیاں داب لیتے، شبدوں میں بات کرنے پر پکڑا گیا تین سال قید، لباس پہن

Read more

امدادِ باہمی

یہ خطّہِ ارض جو اتفاق سے ہمارا وطن قرار پایا ہے اس بات یقیناً مستحق ہے کہ ہم یہاں زندگی کی ماہیت کا معروضی تجزیہ کر کے ان حقائق کا کھوج لگائیں جو معاشرے کے بظاہر نا ہموار رویّوں کے پسِ پردہ اپنی موجودگی کا احساس تو ضرور دلاتے ہیں مگر الفاظ کی صورت متشکل نہیں ہو پاتے۔ ساتھ ہی اس بات کا ادراک بھی لازم ہے کہ جو راستہ ہمارے لیے نا ہموار ہے ضروری نہیں باقیوں کی رائے

Read more

ریاست کے وہی ہتھکنڈے، وہی اپنی جگ ہنسائی

پچھلے دو سال سے ہم خواب دیکھنے والے جس خبط میں مبتلا تھے اس کا ایک تاریک پہلو ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل تھا یا ہم خود ہی اس پر نظر ڈالنے سے ہچکچا رہے تھے۔ اس عرصے میں ہم نے سوشل میڈیا کے طفیل تیز رفتار پیغام رسانی کی مدد سے شعور کے اس درجے تک رسائی حاصل کی جس نے 8۔ فروری کے انتخابات کو یکسر ایک نیا رخ دے دیا۔ آلکس کے مارے، سست الوجود اور

Read more

عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما (4)

ان وجوہات کا تعین کرنے کی خاطر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سمیت تین اعلیٰ ترین ججوں پر مشتمل ایک کمیشن آف انکوائری مقرر کی گئی۔ اپنی تفتیش اور تحقیق کے نتیجے کے طور پر کمیشن اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ محض ایک عسکری شکست نہ تھی بلکہ ایک عظیم سیاسی اور اخلاقی ہار تھی۔ دو مارشل لاؤں کے دوران پاکستان کے فوجی حکمران اخلاقی طور پہ اس قدر گر چکے تھے اور اتنے بدعنوان ہو چکے تھے

Read more

عبداللّٰہ حسین اور آج کا ڈیلیما : حصہ سوم

” یہ لمبی بات میں نے اس لیے آپ کے آگے کی ہے کہ آپ اس کے پاسدار رہیں۔ اور اگر پاسداری کرنے میں کچھ تکلیفیں آئیں جو آپ کی قوت برداشت سے باہر ہوں تو پھر آپ کم از کم ایک گواہ کی حیثیت سے تو زندہ رہیں گے“ ۔ ” جی بالکل، درست فرمایا“ چند آوازیں اٹھیں۔ ” یہ بھی کافی ہے“ اعجاز نے کہا۔ ” صرف گواہ کی حیثیت سے کیوں جناب، ہم سب کچھ کریں گے“

Read more

عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما ( حصہ دوم )

دوسری طرف سرفراز بھی مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور وہاں اپنے اعلیٰ اقدار کے حامل ادارے کے افسروں، جوانوں اور اعلیٰ افسروں کے مس کنڈکٹ کا بار اپنے سر پر اٹھائے پھرتا ہے۔ کچھ واقعات، کچھ مناظر، کچھ الفاظ، کچھ جملے گاہ ناگاہ اس کے ذہن کی سکرین پر جھلملانے لگتے ہیں اور وہ ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ قید سے واپسی پر اس کی منگیتر کے گھر بیچ میٹس کے گیٹ ٹو گیدر

Read more

عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما ( حصہ اول )

چار پانچ سال پہلے جب اچانک دل کا معاملہ سامنے آیا تھا اور صورتحال غیر یقینی اور ان جانی بن گئی تھی تو جن تازہ فوت شدہ متعلق انسانوں کے بارے میں لکھنا باقی رہ گیا تھا اور جس کا ملال اس حالت میں زندگی کا واحد ملال تھا، ان میں سے ایک نام عبداللہ حسین کا تھا۔ وہ تو خیر گزری، دل کی بند شریانیں بغیر کسی بڑے تردد کے تائید ایزدی کے توسل سے رواں ہو گئیں۔ مگر

Read more

ایک تھا شہزادہ

بے حد خوبصورت۔ دنیا اس پر مرتی تھی۔ خاص طور پر دس سے ستر برس کی نوجوان خواتین کے تو ماضی حال اور مستقبل کے خوابوں پر اس کی اجارہ داری تھی۔ شاہی مجالس میں وہ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا، بیگمات اس کے قرب کی متمنی رہتیں۔ شادی اس نے خاصی تاخیر سے کی اور جب تک نہیں کی سلطنت کے طول و عرض میں امید کے دیے ہر طرف روشن رہے۔ شادی کے بعد بھی اس کے پرستاروں میں

Read more

کمپنی کی حکومت اور انقلابی مڈل کلاس

ہر بار دھوکا، ہر بار سراب۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے انقلابیوں کا تذکرہ پڑھیں تو لگتا ہے بڑے ہی پڑھے لکھے لوگ تھے مگر تھے بے وقوف۔ شراب پی کر دم پر کھڑے چوہے کی طرح شیخیاں بگھارنے والے، جذباتی اور فاتر العقل۔ منزل کی طلب میں راستے سے بے خبر۔ خود کو بہت بڑا دانشور سمجھنے والے مگر زمینی حقائق سے بے بہرہ۔ انقلاب، انقلاب کے نعروں کی گونج میں آنکھیں بند کر کے اندھے کنویں میں

Read more

جناح ہاؤس۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

بیانیے کی تلاش میں سرگرداں، حیران و پریشاں پی ڈی ایم کی جماعتوں خاص طور پر نون لیگ کی دلی مراد بر آئی ہے۔ اس لیے گزشتہ چند روز سے ہمہ وقت یہی راگ الاپا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی لگ بھگ ساری قیادت کو ایک مہینے کے لیے پابند سلاسل کر کے، میڈیا کی کنپٹی پہ پستول رکھ کے، اکا دکا چینل کو ڈرا دھمکا کے آف ائر کر کے، رانا ثناءاللہ اور مریم اورنگزیب جیسے نابغوں

Read more

پاکستانی مہا بھارت

سب سے خطرناک لڑائی وہ ہوتی ہے جس میں تمام فریقین خود کو فاتح سمجھ بیٹھتے ہیں مگر در حقیقت وہ سب کے سب آخر کار شکست خوردہ ٹھہرتے ہیں۔ انھیں بہت بعد میں جا کر جب اس بات کی سمجھ آتی ہے تب تک تاریخ اس قوم پر اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہوتی ہے۔ پاکستان میں آج کل ایسی ہی چومکھی لڑی جا رہی ہے۔ جیسے ڈبلیو ڈبلیو ای میں ایک چیلنج ہوتا ہے جس میں بیک وقت

Read more

دو قومی نظریہ اور اکھنڈ بھارت

ہندوستان کی تقسیم اب کل کی بات نہیں رہی بلکہ گزشتہ صدی کا قصہ بن چکی ہے۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں وقت کی رفتار ناقابل یقین حد تک تیز ہے۔ وقت کا دھارا کافی آگے بڑھ چکا ہے اور عالمی منظر نامے میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان تبدیلیوں کی رفتار اور نوعیت حیران کن رہی ہے۔ یہ صنعتی انقلاب کے بعد تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن

Read more

ہمارے مائی باپ اور آئین کا مومی مجسمہ

شک تو پہلے بھی نہیں تھا مگر یقین محکم کی یہ کیفیت خواب و خیال میں بھی نہ تھی جو اب نصیب ہوئی ہے۔ ایک ”کتاب چہرہ“ دوست بہت یاد آ رہا ہے جو اکثر مطالعہ پاکستان کا طعنہ دے کر بات کرتا تھا اور میں جانتے بوجھتے اسے جھٹلانے پر تلا رہتا تھا۔ دل ہی نہیں مانتا تھا۔ بچپن سے ملی نغموں پر جھومنے والا دل بھلا کیسے مان لیتا۔ بھئی مانتے ہیں اس مرد قلندر کو جس کے

Read more

بت شکن عمران خان

ڈوب کر ابھرنا کوئی عمران خان سے سیکھے۔ ہر بار جب وہ ابھرتا ہے تو ہم جیسے پرانے فین ایک بار پھر اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں، پرانی محبت عود کر آتی ہے مگر جب وہ ڈگمگا رہا ہوتا ہے تو ہم بھی اسے کوسنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ہر بار وہ غلط ہو کر پھر صحیح ثابت ہو جاتا ہے اور ایسا متعدد مرتبہ ہو چکا ہے۔ ہم سے زیادہ کون اس بات سے واقف ہو

Read more

ایک کہانی کچھ نئی کچھ پرانی دوسرا حصہ

زندگی پھر اپنی ڈگر پر رواں دواں ہو گئی۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ زندگی بھی پانی کی طرح کبھی رکتی نہیں اپنا راستہ خود بناتی ہوئی آگے ہی آگے نکلتی جاتی ہے۔ حلقے والوں کے معمولات بھی وہی رہے اور عام پبلک کے ان سے متعلق رویے میں بھی کوئی خاص فرق واقع نہ ہوا۔ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ وہ جو پہلے انسان تھے، اب کیسے اچانک انسان نہ رہے تھے۔ شاید ان

Read more

ایک کہانی، کچھ نئی کچھ پرانی

جانے کون سے یگ کی بات ہے دور پہاڑوں میں ایک گاؤں آباد تھا۔ لوگ سادہ دل اور جفا کش تھے۔ زمین میں جو اگاتے اسی سے گزر بسر ہوتی۔ اگرچہ ان کے خون پسینے سے پکنے والی فصل کی بیشتر پیداوار پر زمیندار کا حق فائق تھا مگر انھیں بھی اتنا ضرور مل جاتا کہ جسم و جاں کو تازہ دم کر کے مشقت کی بھٹی میں جھونک سکیں۔ محنت مشقت ہی ان کی سب سے بڑی مصروفیت تھی

Read more

مذہب کے نام پر بربریت

مذہب کے مقدس نام پر جو بربریت اور دہشت گردی سیالکوٹ میں برپا ہوئی تھی اس نے وسیع پیمانے پر رائے عامہ کو متاثر کیا۔ اس ”حساس“ موضوع پر کھل کر بات ہوئی اور دہشت گرد بظاہر بیک فٹ پر جاتے نظر آئے۔ البتہ حکومت، ریاست اور ارباب اختیار نے بھی خود کو صرف تبصرہ نگاری تک محدود رکھا اور کوئی عملی قدم اٹھانے کا ارادہ تک ظاہر نہیں کیا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ اندھی اور بے مہار بربریت کا ایک

Read more

بازوں کی ہلاکت کو بھی قومی سانحہ سمجھا جائے

ایک خبر گزشتہ رات نشر ہوئی۔ اگرچہ آج صبح بروز بدھ مشہور اور معروف چینلوں کی ویب سائٹس پر یہ خبر موجود نہیں۔ البتہ اخبار میں تین چار سطری خبر موجود ہے۔ خبر یہ ہے کہ کراچی کسٹم کی تحویل میں ستر عدد باز پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے جنہیں عندالطلب عدالت میں پیش کرنے کے لیے فریزر میں ”محفوظ“ کر لیا گیا۔ ایک باز کی قیمت بیس لاکھ کے لگ بھگ بتائی گئی۔ جبکہ اخباری خبر کے مطابق

Read more

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: سردیوں میں موسم گرما کے برابر بجلی کا بل

پہلی بار بجلی کے بل نے حیران اور پریشان کیا۔ اگرچہ یہ واردات پچھلے مہینے بھی ڈالی گئی تھی۔ ہلکا سا ماتھا بھی ٹھنکا تھا ، نصرت جاوید صاحب کی تنبیہ بھی یاد آئی جو وہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں مگر جاتے ہوئے موسمِ گرما کے اثرات سمجھ کر زیادہ تردّد محسوس نہ کیا۔ لیکن اس مرتبہ معاملہ پہلے سے بھی دوچند ہو گیا حالانکہ یہ خالص موسمِ سرما کا بل تھا۔ بہت جھنجلاہٹ ہوئی۔ کچھ سمجھ میں

Read more

شہدائے سیاحت

پانچ دن مسلسل بارش برستی رہی۔ جل تھل ایک ہو گیا۔ بڑے عرصے بعد بارش کا اتنا لمبا سپیل دیکھنے کو ملا۔ سردیوں کی دھیمی متواتر برستی بارش کبھی ہمارے لیے رومانویت کا استعارہ ہوا کرتی تھی۔ لانگ ڈرائیو کا مزہ ہم لانگ واک سے پورا کر لیتے تھے۔ بارش سے دل بھرتا ہی نہیں تھا۔ پچ پچ کرتی سڑکوں پر برساتی اوڑھے چلتے جانا۔ بارش اب بھی بری نہیں لگتی مگر اس مرتبہ پانچویں دن بھی جب اسی یخ

Read more

مذہبی مدارس کا چیلنج اور ہمارا دانشور طبقہ

یہ کہنا شاید مکمل طور پر درست نہ ہو کہ مدرسوں میں صرف یتیم، یسیر، غریب اور بے آسرا بچے ہی پرورش پاتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ بہت سے خوشحال اور درمیانے طبقے کے لوگ بھی حفظ قرآن کی سعادت کے حصول کے لیے با رضا و رغبت اپنے بچوں کو مدرسے بھیج دیتے ہیں۔ مگر یہ بچے حفظ مکمل کر کے دوبارہ سکول میں داخل ہو کر عمومی تعلیمی دھارے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ البتہ غالب

Read more

پاکستان میں انتخابات (2)

ان بلدیاتی الیکشنوں کی ایک اور یاد وہ لڑائی ہے جو اسی نکڑ والے چوک میں لڑی گئی جہاں تین ایریوں کی حدود ایک دوسرے سے جدا ہوتی تھیں۔ چوہدری چاچے کا پھٹا ہوا کرتا اور بھولو پان والے کی ”ہندوستانی بہادری“ کا ایکٹ۔ پتہ نہیں ہوا کیا تھا مخالف پارٹی کیسے وہاں آ دھمکی اور لڑائی کیسے شروع ہو گئی؟ ہمارے امیدوار مجید احمد خان کے ہندوستانی سپورٹر باتوں کی تیر اندازی میں تو ید طولٰی رکھتے تھے مگر

Read more

پاکستان میں انتخابات (1)

انتخابات سے جڑی یادوں میں سب سے پہلی یاد 1977 کی ہے۔ ایک جیالا کلاس فیلو مجھے پیپلز پارٹی کا جھنڈا دلانے لے گیا تھا اور گیارہ ایریے کی لمبی دیوار پر ایک بہت لمبی ہل کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ جھنڈا دینے والوں نے مشکوک سمجھ کر مجھ سے سوال جواب کیے۔ پیپلز پارٹی کا زور تھا۔ بھٹو کے پاس اقتدار بھی تھا اور اختیار بھی۔ دوسری طرف پاکستان قومی اتحاد یعنی سب کے سب۔ نو ستارے چاندی دے۔

Read more