ماحولیاتی تبدیلیاں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز


وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بالعموم اور ریاست آزاد جموں و کشمیر میں بالخصوص ”ہاؤسنگ سوسائٹیز“ کے قیام میں جس قدر تیزی گزشتہ دس برس میں آئی ہے شاید اتنی گزشتہ پچاس برس میں نہ آئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید آبادی کی ایک بڑی تعداد کا شہروں کی جانب رخ کرنا ہے۔ نئے نئے شہر آباد ہو رہے ہیں اور شہروں کی حدود اتنی بڑھ چکی ہے کہ کئی گاؤں اب شہر کا حصہ بن چکے ہیں۔

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے یہ اعلان بھی تھا کہ ریئل اسٹیٹ میں کسی بھی انویسٹر سے اس کے پیسے سے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ ناقدین کے مطابق یہ اعلان کچھ لوگوں کو کالے پیسے کو سفید کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا جبکہ حامیوں کے مطابق اس اعلان کا مقصد کرونا کے دنوں میں اس انڈسٹری کو بڑھانا تھا تا کہ لوگوں کو روزگار مہیا رہے۔

پر جہاں شہر کی آبادکاری اور ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بہت سے مواقع فراہم کیے اور انسانی ترقی کی جانب سفر شروع کیا وہی اس کے نقصانات بھی سامنے آئے۔

ان نقصانات میں سب سے بڑا نقصان ”ماحولیاتی تبدیلی“ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کا شکار مظفرآباد شہر اپنی مثال آپ ہے۔

آج سے دس برس قبل شہر میں چاروں موسم (سردی، گرمی، بہار، خزاں ) کی موجودگی ہوا کرتی تھی مگر آج یا تو صرف شدید گرمی ہوتی ہے یا شدید سردی ہوتی ہے۔ اس ماحولیاتی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ 1280 کنال کا سرسبز علاقہ جو کہ، گاؤں لنگر پورہ کی زرعی زمین ہوا کرتی تھی، وہاں اب زمین خرید کر حکومت آزاد کشمیر ”ہاؤسنگ سوسائٹی“ بنانے کی جانب گامزن ہے۔ ایسی ہی حالت دریا نیلم کی کی گئی جس میں پانی کے بہاؤ کو موڑ کر نیلم جہلم پراجیکٹ میں استعمال کیا گیا، جس کا نتیجہ موسم کی شدت میں 3 سے 4 ڈگری کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے پہلے ایک ”سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹی“ کے لیے سنگڑی میرا گاؤں کی قدرتی خوبصورتی کو قربان کیا گیا۔ وہاں ہاؤسنگ سوسائٹی کا خواب تو شرمندہ تعبیر نہ ہوا پر قدرتی خوبصورتی کو تباہ کر ”ماحولیاتی آلودگی“ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا گیا۔

Facebook Comments HS