عمران خان صاحب کے غیرت مند مسلمان، خدا کی پناہ
جہاں تک قومی غیرت و حمیت کا تعلق ہے، یہ عمران خان صاحب کا پسندیدہ موضوع ہے۔ اور وہ بار بار اس بات کی تلقین کرتے رہے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک منصوبہ کے تحت پاکستانیوں کی غیرت و حمیت کو کچلا گیا ہے۔ ہمیں سب سے زیادہ اپنی غیرت و حمیت کو بحال کرنے پر توجہ کرنی چاہیے۔ چنانچہ غیرت مند معاشرے کی تلاش میں وزیر اعظم بننے سے قبل انہوں نے سابقہ قبائلی علاقہ کا دورہ کیا اور پھر ان کی اسلامی غیرت مندی سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک کتاب ’غیرت مند مسلمان‘ بھی تصنیف فرمائی۔
عمران خان صاحب کی کتاب کا عنوان ’پڑھ کر یہ خیال آیا تھا کہ اس کتاب میں یہ مضمون بیان ہو گا کہ ایک غیرت مند مسلمان کو کیسا ہونا چاہیے اور پھر یہ تفاصیل بیان کی جائیں گی کہ میں قبائلی علاقہ میں مثالی غیرت مند مسلمانوں کو بچشم خود دیکھ کر آیا ہوں۔ ان کی پیروی کرو۔ انہوں نے اپنی کتاب کے آغاز میں پشتونوں کے اوصاف گنوانے شروع کیے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں صدیوں سے پشتونوں کا نظام دنیا کے قدیم ترین جمہوری نظاموں میں سے ایک ہے۔ وہ اس جمہوری نظام کی پہلی خوبی یہ گنواتے ہیں
’صدیوں سے پٹھان حملہ آوری، لوٹ مار اور اغوا سے گزارا کرتے آئے ہیں۔ ‘
نہ معلوم وہ لوٹ مار کو جمہوری سمجھتے ہیں یا اسلامی سمجھتے ہیں یا پھر ان کا خیال ہے کہ یہ غیرت مندی کی اہم ترین علامت ہے۔ ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ کم از کم یہ عاجز تو پشتونوں جیسی قوم کے متعلق یہ گمان نہیں کر سکتا کہ ان اصل گزارا لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان جیسے کاموں سے ہی ہوتا تھا۔
بہر حال عمران خان صاحب اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں اصل میں اس علاقہ میں اچھی کھیتی باڑی نہیں ہوتی تھی، اس لئے یہ کاروبار اپنا لیا گیا۔ عرض ہے کہ دنیا کے سینکڑوں ایسے خطے ہیں جن کی زمین بنجر ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ نہیں نکلا کہ انہوں نے لوٹ مار اور اغوا کو ہی ذریعہ آمد بنا لیا ہو۔ سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان صاحب تعریف کر رہے ہیں کہ کردار کشی کا شوق پورا فرما رہے ہیں۔ بہر حال وہ غیرت مند مسلمان کی خوبیاں گنواتے ہوئے لکھتے ہیں
’وزیر ستان میں زندگی بہت کٹھن ہے۔ اکثر اوقات یہاں مردوں کو دو میں سے ایک راستہ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے یا تو وہ اپنے بیوی بچوں کو بھوکا مرتے دیکھیں یا زیریں علاقوں میں جا کر حملہ کر کے یا کسی کو اغوا کر کے ان کا پیٹ پالنے کا بندو بست کریں۔ ‘ (صفحہ 16 )
ملاحظہ فرمائیں اگر کسی غیور شخص کے بیوی بچے بھوکے مر رہے ہیں تو اس کو یہ خیال نہیں آتا کہ میدانی علاقہ میں جا کر محنت مزدوری کر لے یا کوئی کاروبار کر لے۔ اگر اس کے ذہن رسا میں کوئی تدبیر آتی ہے تو وہ یہ کہ لوٹ مار اور اغوا کا دھندا شروع کردے۔ ویسے عمران خان صاحب کا خیال غلط ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے ایسے علاقوں کے سینکڑوں لوگوں کو نہایت محنت اور دیانتداری سے کام کاج کرتے دیکھا ہے۔ بہر کیف مصنف اپنے خیالات کے گھوڑے پر سوار ہے۔ اس کے بعد وہ قبائلی علاقہ کے لوگوں کی خود داری کا ذکر الفاظ میں فرماتے ہیں
’ ایسی خود دار قوم کے لوگوں کی فطرت میں یہ بات شامل نہیں کہ بھیک مانگ کر گزارا کریں۔ جس کے نتیجہ میں لوٹ مار اور اغوا یہاں گزر اوقات کا ذریعہ اختیار کر گئے۔ ‘
واہ! کیا معیار ہے خود داری کا؟ معلوم نہیں کہ عمران خان صاحب کو خود داری کی یہ تعریف ایچی سن کالج میں پڑھائی گئی تھی یا آکسفورڈ میں۔ یا پھر انہوں نے اپنے وسیع مطالعہ کی بنا پر یہ عرق کشید فرمایا ہے۔ صاحب من! خود دار اسے کہتے ہیں جو کہ بھوکا مر جائے مگر کسی اور کہ حق پر ڈاکا نہ ڈالے۔ جو خود خالی پیٹ ہو مگر دوسرے کے منہ میں لقمہ ڈالے۔ یہ ذہن میں رہے کہ عمران خان صاحب نے یہ کتاب اس لئے تحریر فرمائی تھی تاکہ نئی نسل جان سکے کہ غیرت مند مسلمان کیسے ہوتے ہیں؟ اس کے بعد ان اوصاف حمیدہ و عجیبہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ موشگافی فرماتے ہیں
’قبائلی پٹھانوں نے حملہ آوری کو کبھی کوئی جرم نہیں سمجھا۔ ‘
یعنی ان کی نزدیک تو یہ کوئی جرم ہی نہیں کہ کسی معصوم پر حملہ کر کے اسے لوٹ لو۔ کیا مثالی اسلامی غیرت مند معاشرے کی یہی خوبیاں ہونی چاہئیں۔ پھر وہ ایک عالم وجد میں آ کر یہ شعر تحریر کرتے ہیں
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں ٓزاد منش انسانوں کے
یا تختہ جگہ آزادی کی یا تخت مقام آزادی کا
یعنی آزاد منش انسان کا یہی کام ہے کہ وہ ڈاکوں اور اغوا کا دھندا شروع کر دے۔ اسے محنت اور لکھنے پڑھنے سے کیا سروکار۔ ایک طرف تو وہ بار بار ذکر کر رہے ہیں کہ اس علاقے کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور اصل میں بہت نرم دل ہیں اور دوسری طرف وہ یہ بھی تحریر فرما رہے ہیں ہر وقت حکومت پاکستان کے مسلح بیس جوان میرے ہمراہ ہوتے تھے۔ اگر آپ کو ان کی مہمان نوازی پر اتنا ہی اعتماد تھا تو ان پہریداروں کے بغیر اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے۔ وہ اس نکتے پر بھی بار بار زور دیتے ہیں کہ یہ سب قبائلی پٹھان مستقل ایک دوسرے پر حملے کر کے اور ایک دوسرے کی زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے اپنے غیور ہونے کا ثبوت دیتے تھے۔ اس کے بعد وہ سوچ کے گہرے سمندر میں غوطہ لگا کر یہ موتی برآمد کرتے ہیں
’افغان جن میں سرحدی قبائل بھی شامل ہیں اپنی حمیت اسلامی شرافت ملی کی مہر ہر دور میں ثبت کرتے رہے ہیں۔ ‘
یہ جملہ صفحہ 18 پر لکھا ہے لیکن اس جملہ تک جو خوبیاں انہوں نے گنوائی ہیں، ان میں سے ایک کو بھی اسلامی خوبی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس کے فوری بعد مثالی غیرت مند اسلامی معاشرہ پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں
’باوجود اس کے کہ سرحدی قبائل سو فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا فقدان ایک جزو لاینفک کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ‘
بہت خوب یعنی ان کے نزدیک مثالی غیرت مند مسلمانوں کا معاشرہ ایسا ہے کہ جس میں اسلامی تعلیمات کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ اس کے بعد ہمارے سابق وزیر اعظم ان الفاظ میں نہلے پر دہلا مارتے ہیں
’بہادر جنگجو بننے کی تربیت تو دی جاتی ہے۔ لیکن خدا پرست مجاہد بننے کی تعلیم کا کہیں پر وجود نظر نہیں آتا۔‘ (صفحہ 18 )
پھر وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایسے غیرت مند ہیں کہ دشمن کو معاف کرنا تو ایک طرف رہا اس کے بیوی بچوں کو بھی مار دیتے ہیں اور ان کی طبیعت میں کینہ بھی پایا جاتا ہے۔ کتاب کا عنوان تھا ’غیرت مند مسلمان‘ لیکن صفحہ 20 پر وہ غیرت مند مسلمانوں کا یہ کارنامہ بیان کرتے ہیں
’کشمیر کو آزاد کرنے کے لئے کشمیریوں کی عزت و ناموس اور جان و مال ہی کو ہدف بنا لیا گیا تھا۔‘
یعنی غیرت مند مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کو آزادی دلانے کے لئے گئے تھے اور انہی کی عزت و ناموس اور اموال کو لوٹ کر واپس آ گئے۔ اور اس معاشرے کو عمران خان صاحب غیرت مندی کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ غیرت مندی کی بات ہو اور کسی عورت کو قتل نہ کیا جائے چنانچہ اس کتاب میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ انگریزوں کے زمانے میں ایک صاحب کو شک ہوا کہ ان کی زوجہ محترمہ کی کسی مرد سے دوستی ہے انہوں نے فوری طور پر اس کو قتل کر کے اپنی غیرت کا ثبوت دیا۔ انگریزوں نے اس غیرت مند کو انڈیمان بھجوا دیا تو وہاں ایک انگریز گزرا اس غیرت مند نے اس انگریز کو بھی قتل کر دیا۔ اگرچہ اس انگریز پر کسی خاتون سے دوستی کا شک نہیں تھا۔ میں اس پر تبصرہ سے گریز کروں گا۔ پڑھنے والے خود فیصلہ فرما لیں۔
یہ سب کچھ لکھنے کے بعد وہ یہ نتیجہ اخذ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کا احترام اور شائستگی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ عمران خان صاحب تو شاید بیس مسلح باڈی گارڈز کی موجودگی میں اتنا حیران نہ ہوئے ہوں مگر کم از یہ عاجز ان کی کتاب کو پڑھ کر نہ صرف حیران بلکہ پریشان بھی ہو گیا ہے کہ یہ صاحب اگر دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو پاکستان میں کس قسم کا معاشرہ بنانے کے لئے دن رات ایک کریں گے۔
اگر کسی پڑھنے والے کو علم نہیں تو یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ نور ولی محسود صاحب آج کل پاکستانی طالبان کے سربراہ ہیں اور ملک میں جو اس وقت دہشت گردی زور پکڑ رہی ہے اس کے محرک بھی یہی صاحب ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ’انقلاب محسود‘ میں سب سے زیادہ عمران خان صاحب کی اس کتاب کے حوالے دیے ہیں۔ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو۔
اگر ملک کے وزیر اعظم اس قسم کی کتابوں کو تحریر کر کے شائع کریں گے تو ملک میں دہشت گردی اور بد امنی بڑھے گی یا امن و امان کا دور دورہ ہو گا؟ اگر نوجوانوں کو غیرت کے نام پر یہ زہریلے پیالے پلائے جایں گے تو دہشت گردی نہیں بڑھے گی تو اور کیا ہو گا؟
نوٹ: اس علاقہ کے لوگوں کے بارے میں یہ خیالات غیرت مند خان معاف کیجئے گا میرا مطلب ہے عمران خان صاحب کے ہیں کہ کالم نگار کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

