امدادی معیشت!
پاکستان کی معیشت کا انحصار 1950 سے دوسروں کی لڑائی میں فریق بن کر دفاعی امداد پر رہا ہے یہ چاہے کمیونزم کے خلاف سیٹو اگریمنٹ ہو یا روس کی افغانستان میں مداخلت کے بعد امریکا کی جنگ کو اپنی جنگ کہہ کر افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف پراکسی وار ہو یا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا ہو۔
ہر پاکستانی حکومت خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ نے مغرب اور امریکا سے اپنی خدمات کے بدلے اربوں ڈالر وصول کیے ہیں اور پاکستانی معیشت کسی طرح چلتی رہی ہے اب چونکہ ہم کسی ایسی پراکسی وار کا حصہ نہیں بن سکتے لہٰذا ہم ایسی کسی امداد سے محروم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ہماری معیشت کا یہ حال ہوا ہے اس بیرونی امداد کی وجہ سے نہ ہمارے حکمرانوں نے ملک میں صنعتی انقلاب لانے کی کوشش کی نہ ہے زرعی ریفارم لانے کی کوشش کی۔
آج انڈین پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار پاکستانی پنجاب سے دگنی ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے میں ہم بری طرح ناکام رہے ہیں، بنگلہ دیش کی شرح پیدائش 1.2% ہے اور ہماری 3.2 % ہے اگر ہماری آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو 2050 تک پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔
دوسری طرف ضیاء الحق کے بعد بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے لوگوں کو افقی سمت میں سو چنے کے بجائے عمودی سمت میں دیکھنے پر مائل کر دیا ہے یعنی بغیر جدوجہد کے دعاؤں سے ہر چیز کا حصول۔ اسی مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ملک کی 51% آبادی یعنی عورتوں کا معیشت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بنگلہ دیش کی معیشت میں خواتین کا حصہ 30% تک ہے۔
ایک ایسا ملک جس کی آبادی میں تیزی سے بڑھ رہی ہو جہاں وسائل کی کمی ہو جس کی معیشت کا انحصار بیرونی امداد پر ہو جہاں 51 % آبادی کا ملک کی معیشت میں کوئی حصہ نہ ہو وہاں صرف حکمرانوں کی تبدیلی سے کچھ نہیں بدلے گا جب تک عوام خود اپنی سوچ نہیں بدلتے خاص طور پر آبادی میں اضافہ، مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل صرف حکومت نہیں عوام ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ہماری حکومتوں کو بھی ملک کو ٹھوس معاشی پالیسیز دینے کی ضرورت ہے جس میں غیر ملکی امداد پر کم سے کم انحصار اور ملکی پیداوار میں اضافہ کا روڈ میپ ہو


