پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت عام کارکن سے دور کیوں؟


آج کل ایک بار پھر سے احتجاجی سیاست عروج پر ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی پارٹیوں کو احتجاجی سیاست کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ کارکنوں کو جگاتی ہیں۔ پارٹیوں کو اپنے ورکروں کی ضرورت مشکل حالات میں ہوتی ہے، جب وہ اقتدار میں ہوتی ہیں تو کارکن بے چارے کہیں نظر نہیں آ رہے ہوتے۔ سیاسی کارکن ہر سیاسی جماعت میں سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن جماعتیں انہیں صرف استعمال کرتی ہیں۔

میرے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس میں اپنے جیالوں کی کچھ قدر و اہمیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ جیالے دہائیوں سے اپنی قیادت اور پارٹی کے لئے قربانیاں دیتے آ رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں یہ خوبی نہیں ہے ان کا ساتھ دینے اور اپنی قیادت سے محبت کرنے والے ورکروں سے ویسا سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں پارٹی ورکرز اور نیچے کی لیڈر شپ کی قدر نہیں کی جاتی ہے اور کارکنوں کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی جو دیگر جماعتوں میں کارکنوں کو دی جاتی ہے بلکہ صرف ذاتی وفاداروں کو اہمیت ملتی ہے۔ مالی فائدے، مراعات اور ملازمتیں بھی ان ہی کا مقدر بنی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے بعض رہنما کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں یا مایوس ہو کر کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب میاں صاحبان کو ضرورت پڑی تو کارکنوں نے اس طرح قربانیاں دینے کی کوشش نہیں کی۔ جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں میں کارکن قربانی دیتے ہیں۔

اگر ہم دیکھیں تو حال ہی میں محترمہ مریم نواز صاحبہ بطور پارٹی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر کے طور پر لندن سے پاکستان آئیں لیکن ان کا استقبال اس طریقہ سے نہیں ہوا جیسا پارٹی قیادت نے سوچا تھا اور اس کی صرف اور صرف اک ہی وجہ ہے کہ پارٹی قیادت کارکن سے بہت دوری رکھتی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کارکن اس طرح سے چارج نہیں ہوتا جیسے دیگر جماعتوں میں کارکن میں جوش و ولولہ پایا جاتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم لیگ نون کے گڑھ لاہور سے عوام اتنے جوش و خروش سے نکلتے کہ سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ جاتے اور بھول جاتے لاڑکانہ۔ افسوس پارٹی کارکن اس اندازے سے بھی کم استقبال کے لئے پہنچے جو مخالفین نے لگائے ہوئے تھے۔ یہ سب اس لئے ہے کیونکہ پارٹی قیادت کارکنوں اور رہنماؤں کو اس طرح کی عزت نہیں دیتی ہے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب کی جلاوطنی، ان کی وطن واپسی اور پھر جلاوطنی اور سزا کے دوران کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے کارکن یا کوئی بڑا لیڈر احتجاج کے لئے سڑکوں پر آیا ہو۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے پارٹی ورکرز کو نظر انداز کیے جانے کے شکوے اور کارکنوں کے ساتھ بے اعتنائی برتنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اب تو خود سے متفق نہ ہونے اور حکم کی تعمیل نہ ہونے پر پارٹی کے اہم رہنماؤں کو بھی اپنے قائدین کی نظروں سے گرنا یا خوار ہونا پڑتا ہے۔ جس کی ایک مثال جاوید ہاشمی بھی ہیں جنہوں اپنی قیادت کی جلاوطنی میں نہ صرف مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھا بلکہ جنرل پرویز مشرف کی مخالفت کا انتقامی نشانہ بن کر جیلوں میں طویل سزائیں اور صعوبتیں برداشت کیں مگر انہیں جواب میں کیا ملا، یہ تو دنیا نے دیکھا مگر انہیں جو شکایتیں اپنی قیادت سے تھیں ان کا ازالہ یا شکایتیں رفع کرنا تو دور کی بات انہیں بلا کر پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا گیا کہ انہیں کیا شکایت تھی اور یہی صورتحال میرے ساتھ اور مجھ جیسے بہت سے کارکنوں سے بھی روا رکھی گئی ہیں۔

اس سب کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی توقع ہوتی ہے کہ اس کے ہر آڑے وقت میں کارکن ان کے کام آئے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قیادت نے اپنا نقصان کر کے کبھی کسی کارکن کو کچھ دیا ہو یا عہدے سے نوازا ہو۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ہم جیسے عشروں سے وفاداریاں نبھانے اور قربانیاں دینے والے رہنماؤں پر نئے آنے والوں اور خوشامدیوں کو ترجیح ملی ہوئی ہے جب کہ ناپسندیدہ رفیقوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ مرضی کے خلاف کی گئی بات قیادت سے برداشت نہیں کیونکہ ان کے کان صرف پسندیدہ اور خوشامدانہ باتوں اور قصیدوں کے عادی ہیں۔ جہاں اہم رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک ہوتے ہیں ہوں وہاں معمولی کارکنوں کو کون پوچھے گا، وہ جلیں یا خود کشی کریں، مرنا ہی ان کا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS