احیائے خلافت عثمانیہ و ترکیہ


کرہ ارض کی تباہ کن جنگوں میں پہلی جنگ عظیم انتہائی تباہ کن جنگ تھی۔ جو دو مختلف اتحادیوں ممالک کے درمیان لڑی گئی۔ جس میں ایک طرف کے اتحادی ممالک اٹلی، برطانیہ، فرانس، روس اور ان کے زیر نگیں کالونیوں کے علاوہ دوران جنگ امریکہ بھی 1917 ء میں اس جنگ عظیم میں کود پڑا۔ دوسری جانب مرکزی طاقتوں کا اتحاد جو کہ بنیادی طور پر جرمنی، آسٹریا۔ ہنگری اور خلافت عثمانیہ پر مشتمل تھا۔ یہ جنگ یورپ، مشرق وسطٰی، پیسیفک اور ایشیا کے بعض حصوں میں پھیل گئی۔

اس میں 90 لاکھ فوجی، 50 لاکھ عوام الناس جان بحق ہوئے تو ساتھ ہی 250 لاکھ افراد زخمی ہوئے۔ متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ کا ہرجا ہوا۔ یہ بدقسمت جنگ آسٹریا کے ایک آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننس کے قتل کے باعث شروع ہوئی جو پھیلتی چلی گئی اور مختلف براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لیتی چلی گئی۔ ویسے بھی پورے یورپ میں جنگ کے مہیب سائے لہرا رہے تھے خصوصاً یورپ کے جنوب مشرقی خطے جن کو بلقان کی ریاستیں کہا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ڈھانچے اتنے مضبوط نہ تھے۔

آسٹریا۔ ہنگری سلطنت کے آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننس کو ان کی اہلیہ صوفی سمیت سربئن قدامت پسندگیوریلو پرنسپ نے 29 جون 1914 ء کو قتل کر دیا۔ یہ قدامت پرست گروپ کا حصہ تھا جو اس مملکت کی عملداری بوسنیا اور ہرزیگووینا پر خاتمہ کے لئے لگے ہوئے تھے۔ اس بات نے تیل پر جلتی کام کیا اور دوسرے ملکوں نے بھی سربئن حکومت کو ان قدامت پرستوں کی بیخ کنی کا کہا۔ اس دوران اس حکومت کی پشت پر ایک طرف روس تو دوسری جانب جرمنی بھی خم  ٹھونک کر آ گیا اور بات بڑھتے بڑھتے پہلی جنگ عظیم کی طرف گامزن ہوئی۔

خلافت عثمانیہ ان دنوں ایک طاقت سمجھی جاتی تھی جس نے جرمنی آسٹریا۔ ہنگری کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ جنگ عظیم 28 جولائی 1914 ء سے شروع ہو کر 11 نومبر 1918 ء کو اختتام پذیر ہوئی۔ جس میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ خلافت عثمانیہ کیونکہ اس جنگ میں جرمنی کا اتحادی تھی لہذا جرمنی کی طرح اسے بھی دوسری اتحادی فوج کی کڑی شرائط ماننا پڑیں اور 24 جولائی 1923 ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوازین میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کی روح سے ایک صدی یعنی 2023 ء تک ترکیہ کو ان شرائط کا تابع رہنا پڑے گا۔

عرف عام اسے معاہدہ لوازین بھی کہا جاتا ہے۔ اسی سال 13 اکتوبر میں انقرہ کو ملکی دارالخلافہ بناتے ہوئے 29 اکتوبر کو اسے جمہوری ملک قرار دیتے ہوئے مصطفٰی کمال کو پہلا صدر منتخب کر دیا گیا اور اسی کے ساتھ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ اس معاہدہ کے روح سے جدید ترکیہ کی سرحدوں کو تسلیم کیا گیا جس کے بدلے میں یہ نہ صرف اپنے عرب علاقوں سے دستبردار ہوا بلکہ قبرص پر برطانیہ کا قبضہ تسلیم کیا اسی کے ساتھ اٹلی کا بعض علاقوں کی حاکمیت کو بھی تسلیم کر لیا۔ اس کے علاوہ ترکی نے سوڈان، لیبیا، مصر، اردن، عراق اور سسلی کی لونٹ ریاست سے دستبرداری اختیار کی۔

مراکش کے شہر کاسابلانکا میں برطانوی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے دنیا، بالخصوص یورپ کی سرحد بندی کو نئے سرے سے تشکیل کی منظوری دی۔ اس معاہدہ کی روح سے برطانیہ کی فوجیں استنبول سے جس کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا سے 23 اگست 1923 ء اور 4 اکتوبر 1923 ء کو تمام ملکی حدود سے نکل گئیں۔ ترکی 1923 ء سے قبل خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ جو مشرق وسطٰی، وسطی ایشیاء، افریقہ اور جنوب مشرقی یورپ پر حکمرانی کر رہے تھے۔ جب کہ اس خلافت کے ٹوٹل رقبے کے عین درمیان میں ترکی واقع تھا جس کا پرانا نام ترکیہ ہے۔

گو کہ ترکی دوسری جنگ عظیم میں ابتدائی طور پر لا تعلق رہا اور کسی کا ساتھ نہ دیا لیکن اسے مجبوراً یکم مارچ کو جرمنی کے خلاف اتحادی فوجوں کا ساتھ دینا پڑا کیونکہ اسے اقوام متحدہ کی نشست کی اشد ضرورت تھی۔ لوازین معاہدہ میں اس کی خفیہ شقوں کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا ترکیہ کو اپنی قدرتی کانکنی کا حق حاصل ہے کہ نہیں۔ لیکن ترکیہ کی حکومت معاہدہ غیر محصر ہونے کے بعد بورون گیس اور پٹرولیم کی تلاش کا کام زور و شور سے تلاش کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ ملک 2023 ء سے یورپین یونین میں نہ صرف شامل ہونے کا خواہاں ہے بلکہ اس کی ریجنل اقتصادی و سیکورٹی سرگرمیوں میں سرگرمی کے ساتھ شراکت داری کا بھی خواہاں ہے۔ ترکیہ کبھی بھی اس بات کو نہیں بھولا کہ لوازین معاہدے کے تحت اس کی سرحدوں میں تحریف کی گئی اور اس کے کئی علاقوں کو اس کی عملداری سے نکال دیا گیا۔ اب اس سال معاہدے کی مدت پوری ہونے کو ہے اور ترکیہ اپنے دو سمندروں بحیرہ اسود اور بحیرہ مارمرس کو ایک ٹنل کے ذریعے ملانے جس سے فاصلوں کا سمٹنا اور ذرائع آمدن میں اضافہ، تیل کے کنووں کی تلاش ترجیع بنیاد پر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترکیہ کی قیادت معاہدہ لوازین کے خاتمے پر اپنے اہداف مقرر کیے ہوئے ہے۔ جس میں اپنی معاشی نمو کو دنیا کی پہلے دس نمبروں کی اکانومی پہ لانا، پیداوار کو ایک ملین ڈالر سے بڑھا کر دو ملین ڈالر تک لے کر جانا، فی کس آمدن پچیس ہزار ڈالر، برآمدات کو پانچ سو بلین ڈالر تک بڑھانا، ملازمتوں کی شرح میں اضافہ، اور تجارت کوایک ٹریلین ڈالر تک لے جانا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکیہ دوبارہ نئی جدید خلافت عثمانیہ کا احیاء کرے گی؟

کیا دنیا ایک نئی خلافت عثمانیہ کی طرف لوٹے گی اور موجودہ بڑی طاقتیں اس کو کس تناظر میں دیکھیں گی۔ یہ ترکیہ کی قیادت اور عوام کے لئے امتحان ہو گا۔ اپنے اہداف مقرر کر لینا اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچنا قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ دور اندیش قیادت ایسے فیصلے کر سکتی ہے جو عوام کے امنگوں کی ترجمان ہو۔ کاش مملکت پاکستان کی قیادت میں بھی ایسی جرآت و استقامت ہو جو چیلنجز سے مستقل مزاجی سے نبرد آزما ہو۔

ہم نیوکلیائی طاقت تو بن گئے لیکن اپنی سمت درست کرنے میں سنگین کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ آئیں عہد کریں ہم اس عظیم ملک کی آبیاری میں اپنا تن من نچھاور کر دیں گے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا ہو گا۔ تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دیں سکیں جس کا خواب ہماری پاکستان بنانے والی قیادت نے دیکھا تھا۔ ترکیہ اور گرد و نواح میں زلزلے کی تباہ کاریوں میں ہم اپنے برادر ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کی اس قیامت خیز گھڑی میں مدد فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS