سماجی انصاف


دنیا کے بہت سارے ممالک میں غربت اور عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی قدرتی آفات اور سرحدی سیاسی تنازعات کے بعد دنیا میں معاشی اور سماجی بحران بڑھنے لگا ہے۔ ان حالات نے ترقی کے بین الاقوامی وعدوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اختلافات اور عدم اعتماد کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔

یہ سماجی ترقی اور سماجی انصاف ہے جو اقوام کے اندر اور ان کے باہم امن، خوشحالی اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے۔ سماجی انصاف یہ ہے کہ ہر شخص وہ کچھ کر سکے جو کچھ وہ کرنے کے قابل ہے۔ سب لوگوں کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ ہر بچہ جو اس دنیا میں جنم لیتا ہے اسے خواب دیکھنے کا حق ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا پس منظر کیا ہے؟ اس کی زبان کیا ہے؟ اس کا رنگ کیا ہے؟ اس کی جنس کیا ہے؟ اور اس کا مذہب کیا ہے؟

سماجی انصاف کے پانچ بنیادی اصول ہیں ؛ وسائل تک رسائی، مساوات، شرکت، تنوع اور انسانی حقوق۔

’وسائل تک رسائی‘ سماجی انصاف کا سب سے اہم اصول ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مختلف سماجی و معاشی طبقات کو خوراک، رہائش، صحت، تعلیم، روزگار اور تفریحی کی سہولیات تک یکساں رسائی حاصل ہو۔ یہ ہر ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

’مساوات‘ سماجی انصاف کا دوسرا اہم اصول ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو کسی ماضی کی نا انصافی یا سسٹم کے امتیازی سلوک کے باوجود کامیابی کے حصول کے لیے یکساں مواقع حاصل ہونے چاہیں۔ وسائل کو اس طریقے سے تقسیم کیا جائے کہ محروم طبقات کی مخصوص ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ مساوات کا اصول ان رکاوٹوں کو دور کرتا ہے جو کسی بھی سماج اور نظام کا حصہ ہوتی ہیں اور جو عام آدمی کو مراعات یافتہ طبقے کا مقابلہ نہیں کرنے دیتیں۔ اس کے لیے ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو نظام اور سماج میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے میں معاون ہوں۔

سماجی انصاف کا تیسرا اہم اصول ’شرکت‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو ہر اس فیصلہ سازی سے متعلق اپنی رائے اور خدشات کے اظہار کا حق حاصل ہو جو اس کے ذریعہ معاش اور معیار زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہو۔ بہت سے معاشروں میں عوامی پالیسیاں طاقتور لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ سے تشکیل پاتی ہیں۔

سماجی انصاف کا چوتھا اصول ’تنوع‘ ہے۔ حکومت اور رہنماؤں کو ان طبقات کا وسیع پیمانے پر نمائندہ ہونا چاہیے جن کی وہ خدمت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تنوع کے اصول کے مطابق اقتدار کے عہدوں پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور اقلیتی برادریوں کو یکساں نمائندگی دی جانی چاہیے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کچھ گروہوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ رنگ، نسل، جنس، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ملازمتوں اور عہدوں میں فرق عام ہے۔

سماجی انصاف کا پانچواں اہم اصول ’انسانی حقوق‘ ہے۔ انسانی حقوق دراصل سماجی انصاف کی بنیاد ہیں۔ سماجی انصاف کا تصور انسانی حقوق کے بغیر ناممکن ہے۔ اس میں سیاسی حقوق کے علاوہ ضمیر کی آزادی، پولیس کی بدسلوکی کا خاتمہ اور تولیدی حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔

جدید معاشیات سرمائے اور محنت کو اس طرح تقسیم کرنے کے تصور کے گرد گھومتی ہے کہ سب لوگ بہتر زندگی گزار سکیں۔ لہٰذا، معاشی انصاف اس خیال سے جڑا ہوا ہے کہ اگر مارکیٹ کے تمام شرکا ء کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے تو معیشت زیادہ ترقی کرے گی۔

سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین معیشت دولت کی مساویانہ تقسیم کے لیے ترقی پسند ٹیکس کے نظام کو تجویز کر رہے ہیں جس کے مطابق بالواسطہ ٹیکس کا خاتمہ کر کے زیادہ آمدنی رکھنے والوں سے زیادہ ٹیکس اور کم آمدنی رکھنے والوں سے کم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ ٹیکس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ حکومت اپنے ضروری اخراجات نکال کر سارا سرمایہ عوامی خدمت کے منصوبوں پر خرچ کرے تاکہ محروم طبقات فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ تصور اسلام کے نظام زکوٰۃ کے قریب ہے۔

اگرچہ سماجی انصاف سب کے لیے یکساں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانا چاہتا ہے لیکن یہ ان گروہوں پر خاص طور سے توجہ مرکوز رکھتا ہے جو تاریخی طور پر جبر کا شکار رہے ہوں جیسے نسلی، لسانی، صنفی اور مذہبی امتیازات کے شکار لوگ۔ ایسے طبقات نہ صرف معاشی، تعلیمی اور صحت ایسے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر امتیازی قوانین، استحصال اور جبر و تشدد کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

سماجی انصاف سے متعلق سب سے زیادہ ذمہ داری عوامی حکومت اور سماجی کارکنوں پر ہے۔ عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کو ان واضح اور مضمر تعصبات سے باخبر ہونا چاہیے جو معاشرے کے کچھ افراد کے لیے عوامی وسائل تک رسائی کو کم کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ وکلاء بھی محروم طبقات کی نمائندگی کر کے انصاف کے نظام تک ان کی مساوی رسائی کو یقینی بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ مختلف گروپس جو قانون سازی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں وہ سیاستدانوں کو ایسی قانون سازی کے لیے زور دے سکتے ہیں جو نا انصافیوں کا ازالہ کرسکیں۔

۔ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS