تقسیم در تقسیم: ان ڈراما بازوں سے بچیں
انسانی فطرت ہے کہ جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے اور جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، عموماً وہاں کے بنیادی نظریات و عقائد کو اپناتا ہے، اور ان عقائد و نظریات کے ہر قسم کی دفاع کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہی انسانی فطرت ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان ماحول کا غلام ہے، جس قسم کے ماحول میں رہے گا اسی طرح کی ذہنی و فکری کیفیت ہو گی۔ مسائل تب پیدا ہونے لگتے ہیں، جب ایک انسان اپنے نظریات کو اعلیٰ و معیاری سمجھ دوسروں پر تھوپنے لگتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ نہ دیگر نظریات کا احترام کرتے ہے بلکہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہاں سے معاشرے میں تفریق اور نفرت بھی شروع ہونے لگتی ہے۔ اپنے نظریات کو دوسروں پر تھوپنے کی بجائے، خود اس پر عمل پیرا ہونا ہی بہترین دعوت ہے۔
سینکڑوں مثالیں ایسی ہے کہ محض معمولی معمولی اختلافات پر بڑے بڑے خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، طویل عرصے کی دوستیاں نفرتوں میں بدل گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکٹھا رہ کر بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ایک تالی میں کھا کر بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے، تو کیوں نہ اس طریقے کو اپنایا جائے؟ جس سے بھی اختلاف کرنا ہو، اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اختلاف کو متعلقہ شخص، گروہ یا ادارے کے افعال، کام، فیصلوں یا اقدامات تک محدود رکھا جائے، ذاتیات پر نہ اترا جائے۔
اگر کسی کی بات یا رائے بری لگے، تو ادب و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے، دلیل کی بنیاد پر اختلاف کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ وہ بھی انسان ہے، غلطی ان سے بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ اختلاف کیا جائے، یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آپ کا اختلاف اس کی موقف یا رائے تک محدود ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ اختلاف کی آڑ میں ان کے ذاتیات پر حملے کی جائے۔
افکار میں وسعت، دوسروں کی رائے کا احترام اور اتحاد امت اس وقت کا تقاضا ہے۔ لہٰذا فرقہ واریت اور نفرت کی آگ بھڑکانے والوں، اور اجتماعیت کو بگاڑنے والوں سے دور رہنا ہی بہترین حل ہے۔ (اور یاد رہے ؛ اس طرح کے لوگ جو تفریق کی آگ کو پھیلاتے ہے، آپ کو مختلف شکلوں میں ملیں گے، ان کو پہچانے اور دور رہے ) ۔ جب تک ہم باہمی اختلافات یا تنقید کو نرم طریقے اور اصلاح کی نیت سے پیش نہیں کریں گے، تو معاشرے میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ اور معاشرے کی فکری اور نظریاتی ترقی ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔
یاد رہے! اس وقت ہمیں فکری، نظریاتی، سیاسی اور دیگر شعبوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ اتفاق، اتحاد اور یکجہتی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات غور کرنے کی ہے! کہ جو بھی آپ کو اختلافات پر ابھارے، تفریق پیدا کریں، اور نفرت کی آگ بھڑکائیں، وہ آپ کا محسن نہیں بلکہ چھپا اور خطرناک دشمن ہے۔ یاد رکھیں! ان کو پہچانے، یہ آپ کو ہر جگہ مختلف شکلوں میں ملیں گے۔ یہ معاشرہ مزید تقسیم در تقسیم کا متحمل نہیں، اگر موجودہ بگاڑ کو ختم نہیں کر سکتے، کم از کم کم تو کر سکتے ہیں۔ اپنے نظریات اور عقیدے کو مضبوطی سے پکڑے، ان پر عمل پیرا ہو جائے، مگر ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی نظریات و عقائد کا احترام کریں۔ محبت، بھائی چارے اور اجتماعیت کو فروغ دے۔


