ہاتھ بادشاہ کا دربار
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا ہاتھ ایک دربار ہے۔
اس میں درمیانی انگلی بادشاہ ہے۔ تیسی انگلی بادشاہ کا مصاحب ہے، جی حضوری کے لئے ہر وقت تیار۔ جیسے ہی بادشاہ سلام ذرا سی حرکت کرتے ہیں یہ فوراً جھک کر آداب بجا لاتے ہیں۔ کلمہ کی انگلی وزیر با تدبیر ہیں، جب بادشاہ سلامت مشورہ کرنا چاہتے ہیں تب وہ حاضر جناب ہیں، ورنہ اپنی جگہ پر ہی رہتے ہیں۔ چھوٹی انگلی جو چھنگلیا کہلاتی ہے تیسری انگلی کی مصاحبت میں رہتی ہے۔ جب وہ جھکتی ہے یہ بلا ارادہ جھک جاتی ہے۔ مان نہ مان میں تری مہمان۔
اب ہوا یوں کہ ایک دن بادشاہ سلامت نے دربار میں ایک شوشہ چھوڑا کہ ہم جو ہاتھ کہلاتے ہیں اس کا اصل کام کیا ہے۔
جی حضوری مصاحب نے فوری جواب دیا۔ حکومت کرنا۔
مصاحب کے مصاحب نے جھک کر کہا۔ بے شک
بادشاہ نے پوچھا۔ کس پر حکومت کرنا؟
تب دونوں مصاحب بغلیں جھانکنے لگے۔
بادشاہ نے وزیر با تدبیر کی طرف دیکھا۔ صرف دیکھا۔ وزیر خاموش رہا۔ تب بادشاہ نے اس سے مخاطب ہو کر کہا۔ میں نے تمہاری طرف اس لئے دیکھا کہ تم بھی کچھ کہو۔
وزیر نے جواب دیا۔ سوال کرنے سے پہلے جواب دینا دانشمندی نہیں۔ حضور سوال عنایت فرمائیں، بندہ جواب حاضر کرے گا۔
بادشاہ نے کہا۔ اگر ہمارا کام حکومت کرنا ہے تو بتاؤ کس پر؟
وزیر نے جواب دیا۔ اگر سوال غلط ہو تو جواب بھی غلط ہو سکتا ہے۔ ہمارا کام حکومت کرنا نہیں حکم بجا لانا ہے۔
کس کا حکم؟ بادشاہ نے پھر سوال کیا۔
دماغ کا، جو ہمارا حاکم ہے۔
گویا دماغ ہم سے بلند ہے۔
جی حضور۔ دماغ تکنیکی بھی اور عملی طور پربھی بلند ہے۔ وہ سر میں رہتا ہے اور سر ہم سے بلند ہے۔
بادشاہ نے کہا یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہاتھ جب چاہے ہاتھ سر سے اوپر کر سکتا ہے۔
مگر وہ دماغ کو حکم نہیں دے سکتا جبکہ دماغ ہاتھ کو حکم دے سکتا ہے۔
اگر دماغ ہاتھ کو غلط کام کا حکم دے تو اسے ماننا چاہیے؟
ہاتھ میں اگر سمجھ ہے تو اسے نہیں ماننا چاہیے۔
ہاتھ کو سمجھ کون دے گا؟
دماغ۔
اگر دماغ ہی غلط حکم دے رہا ہو تو؟
ایسے میں ہاتھ کا ہی نہیں سارے بدن کا اللہ ہی مالک ہے۔


