شہر میں تیندوا

تیندوا، جسے انگریزی میں لیپرڈ کہتے ہیں بلی کے خاندان سے متعلق وہ وحشی درندہ ہے جس کی جبلت شیر والی ہے۔ یعنی طاقت، ہیبت، رفتار اور لمحوں میں اپنے شکار کو چیر پھاڑ کر ختم کر دینا۔
مارگلہ کا پہاڑی سلسلہ اس قبیل کے دیگر جانوروں کی رہائش گاہ ہے جہاں یہ اپنی زندگی اور افزائش میں مگن رہتے ہیں۔ لیکن ان پہاڑیوں سے کم و بیش پینتیس کلو میٹر دور انسانی رہائشی علاقے میں اچانک سے ایک درندے کا نمودار ہونا واقعتاً ایک اچنبھے کی بات اور حیران و پریشان کن خبر ہے۔ پہلے پہل تو کسی کو سمجھ نہ آیا کہ واقعی یہ ایک تیندوا ہے یا کوئی اور جانور! برق رفتار جانور لمحوں میں یہاں سے وہاں اور وہاں سے پتا نہیں کہاں کہاں دوڑتا، پھلانگتا، ابھرتا اور چھپتا رہا۔
سوسائٹی کی انتظامیہ اس قسم کی کسی بھی صورتحال کے لئے یقیناً تیار نہ تھی اس لئے نہتے اور ناتجربہ کار اہلکار اسے ایک عام جانور سمجھتے ہوئے اپنے تئیں قابو کرنے کی کوششوں میں زخمی ہوتے رہے۔ تفریح کی بھوکی جنتا کے لئے اپنی طبیعتوں کو سکون بخشنے کا یہ موقع نادر معلوم ہوا سو لوگ اس سرکس سے محظوظ ہونے اور باقی دنیا کو یہ تماشا دکھانے کی غرض سے موبائل نامی اپنے اپنے اسلحے لئے اس میدان کارزار میں آ موجود ہوئے۔ میڈیا کی گاڑیاں، ریسکیو، وائلڈ لائف اور پرائیویٹ سیکیورٹی الغرض دستیاب وسائل دیکھتے ہی دیکھتے اکٹھے ہونا شروع ہو گئے اور یہ تیندوا پورے ملک کے لئے ایک بریکنگ نیوز بن گیا۔
بس پھر کیا تھا! جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہر انسان اس واقعے کے چشم دید گواہ کے طور پر سامنے آیا۔ کسی نے اسے اپنے پہلو سے بھاگتے ہوئے دیکھا تو کسی نے اپنے گھر کی چھت پر موجود پایا۔ یہ خبر بھی گرم ہو گئی کہ جانور کسی با اثر شخصیت کا پالتو ہے جسے اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر شہری آبادی کے بیچوں بیچ ایک مکان میں ہی رکھا ہوا تھا۔ مالک کا نام اور مکان کا پتا بھی سارے جہان کو معلوم ہو گیا۔ غم و غصہ کی اس لہر نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شہری آبادی میں ایک خونخوار جانور کو پالنے کی پاداش میں اس کے مبینہ مالک کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم بھی زور پکڑ گئی۔
ایک ہڑبڑاہٹ اور ہٹو بچو کی کیفیت رہی اور بالآخر چھے گھنٹے کی اعصاب شکن جنگ کے بعد اس درندے پر قابو پا لیا گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے اس کی تصویر جاری کی گئی جس میں اسے مقفل جبڑے کے ساتھ بیہوشی کے عالم میں دکھایا گیا۔ بعد ازاں اسے متعلقہ محکمے نے پنجرے میں قید کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے اس غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹی اور اپنے تئیں اپنے انداز میں تفتیش و تحقیق کا دفتر کھولا۔ کچھ وقت بعد مبینہ مالک کی جانب سے اس قسم کی کسی بھی خبر سے لاتعلقی کی وضاحت بھی آ گئی اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ بھی باقی تمام خبروں کی مانند عدم کی جانب عازم سفر ہو گیا۔ لوگ بار دیگر اپنے روزمرہ کے امور و مشاغل میں مگن ہو گئے اور کاروبار زندگی نئی خبروں کے لئے آمادہ ہو گیا۔
یہ تو تھی بات ایک تیندوے کی جسے خدا نے ایک درندے کے طور پر خلق کیا تھا۔ یہ کسی جنگل سے بھٹک کر یہاں آیا تھا یا واقعی کسی با اثر شخصیت نے اسے خرید کر اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے گھر میں پالا ہوا تھا۔ بہر حال تھا یہ ایک چوپایہ جس نے اسلام آباد کے شہریوں کو ایک خوف کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ لیکن بدقسمتی سے اسی شہر کے 99.99 فیصد عوام اس شہر کی سڑکوں پر دندناتے ہوئے طاقت، ہیبت اور خونخواری کی صفات سے لبریز انسانی صورتوں والے تیندووں سے شدید پریشان ہیں۔
بڑی بڑی اور مہنگی ترین گاڑیوں میں موجود یہ تیندوے دراصل با اثر افراد یا تو خود ہوتے ہیں یا ان کی اولادیں یا پالتو ملازمین۔ اپنی طاقت کے زعم میں یہ عام لوگوں کو اپنا وہ شکار سمجھتے ہیں جس پر جب چاہیں اور جیسے چاہیں جھپٹ سکتے ہیں۔ اپنی تیز رفتاری کی راہ میں آنے والا ہر وہ غریب شخص ان کے لئے اس شکار کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ چاہیں تو چیر ڈالیں یا پھاڑ کھائیں۔ ان کی آنکھوں میں غرور و نخوت کی ہیبت کسی بھی کمزور و بے اثر انسان کی جان کنی اور ان کی زبان پر گالم گلوچ کی غلاظت ایک تیندوے منہ سے بہتی جھاگ کی مانند کسی بھی شریف النفس انسان کی روح کو مجروح کرنے کو کافی ہے۔
جہازی سائز کی گاڑیوں میں ریل گاڑی کے ہارن اور درجنوں لائٹیں لگا کر یہ یوں سڑک پر آتے ہیں گویا یہ سڑک نہیں، ان کا وہ جنگل ہے جہاں ان کا حکم اور قانون چلتا ہو۔ اور بات بھی ٹھیک ہی ہے۔ اگر ہمارے شہروں میں انسانی حقوق اور ہماری سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین نافذ ہوتے تو بلا شبہ یہ درندے بھی اپنے اپنے پنجروں میں قید ہوتے اور ان کے جبڑوں پر بھی پٹے بندھے ہوتے۔ عام شہری اور ایک غریب و بے اثر انسان ان کی آنکھوں کی ہیبت، پنجوں کی جھپٹ اور زبان کی غلاظت سے محفوظ ہوتا۔

