سون ویلی محبتوں کی آماجگاہ ہے


محبت ایک آفاقی جذبہ ہے۔ یہ کسی بھی انداز، کسی بھی رنگ اور کسی بھی پہلو سے حواس پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اور جسے کبھی محبت زیر بار کر لے وہ ہر سو اسی محبت کی تلاش میں بھٹکتا سرگرداں ہمکتا چلا جاتا ہے۔ محبت اس سیارے کا سب سے زیادہ دلفریب اور سب سے زیادہ دیدنی جذبہ ہے۔ سون ویلی جو کہ بزبان یار وادیٔ سون سکیسر ہے ؛ اور لالاؤں (گل و لالہ کی انوکھی جمعی ترکیب بزبان سرکارم عمیر پیر) کے لہجے میں سونڑ ہے۔ سے محبت حادثاتی ہے، کرشماتی ہے یا خون کے خمیر کا ابال ہے، اس پر بارہا سوچا مگر جواب یہی نکلا کہ۔

میں اسی کوہ صفت خون کی اک بوند ہوں جو
ریگ زار نجف و خاک خراساں سے ملا

یہ بظاہر تو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ گروپ ہے مگر اس میں وہ تمام اوصاف بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں جو ایک خاندان کو شیر و شکر کرتے ہیں۔ کرۂ ارض کی یہ انوکھی جیوگرافیکل پٹی ہے جو اپنی انوکھی ڈیموگرافیکل شناخت رکھتی ہے، یعنی اعوان پٹی۔ یہ دنیا بھر کے اعوانوں کا اپنا ”گھر“ ہے۔ اعوان چاہے کہیں کا بھی ہو، اس کا خمیر اسی مٹی سے اٹھایا گیا ہے (محبت حسین اعوانؔ کے تحقیقی اعوانوں کو چھوڑ کر) ۔ بابا قطب شاہ اعوان، دادا عبداللہ گولڑہ، بابا جھام، بابا نڈھا اور مصری خان اعوان کے پیار کی گانٹھوں سے بندھا یہ سون ہمیں اس لیے بھی پیارا ہے کہ اس کی مٹی کی مہک سے ہمیں اپنے بزرگوں کی آغوش کی گرمی ملتی ہے، اپنے پرکھوں کی آن کا نظارہ نظر آتا ہے، کہ میں بھی تو قطب شاہی ہوں، مصری خان اعوان کے نام سے جڑا ہوا ایک مصریال۔

اس سون ویلی سے محبت ایک عشرے پر محیط ہے۔ اس عشرے کے شب و روز اور نشیب و فراز کی طویل داستان پھر کسی روز کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، بلکہ اس کے لیے تو شاید دفتروں کے دفتر درکار ہوں، ابھی قصہ درپیش ہے چھ فروری کی الفت کا۔ فروری کو محبت کا مہینہ کہتے ہیں اور چودہ فروری کو یار لوگ محبت کا دن بھی مناتے ہیں مگر لالوں نے محبت کی نئی داغ بیل چھ فروری کو ڈالی۔

کرکٹ سے محبت ہماری نسل کے خون میں شامل ہے اور اس محبت کو مشعل بنا کر روشن کیا ”سوسب“ نے (اب اگر پریشان ہیں کہ یہ سوسب کیا ہے تو یہ بزبان میرؔ سون ویلی سیاسی بیٹھک کا ایکرونم ہے ) ۔ اک مدت سے چرچا سنتے تھے تھنڈر اور سٹرائیکرز کی جنگ کا اور پھر اس مہا بھارت کو ہم نے کفری کرکٹ گراؤنڈ پر منعقد ہوتے دیکھا۔ محبتوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، قہقہوں کا ایک سیل تند تھا، سفید بال کنپٹیوں پر سجائے بزعم خود نفاست کا علمبردار بننے کی کوشش میں صاف چھپتے بھی نہیں صاف دکھتے بھی نہیں کے مصداق کئی عظیم الشان فیس بکیے مصروف عمل نظر آئے۔ فقرے سے فقرہ اچھالتے، غموں کو قہقہوں کی بارش میں دفناتے، لمحۂ موجود سے سارے حظ اٹھاتے موجود تھے۔

وقت شاید لمحات کی ترسیل میں اس خطۂ حسن کو سوہنڑ کے ساتھ ساتھ خلوص بھی بے انتہا بخش گیا ہے جو نذیر کفری، اعظم خان شہال، وسیم احمد اعوان اور ثاقب جبار اعوان میں سے ہمکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ڈھول ڈرائیور لالہ عارفین اعوان اور ایک کتاب لکھنے کا متمنی شریر عرفان اعوان کا ذکر تو خیر کیا کریں، مگر لالہ عابد اور امجد شیر عالم کی عدم دستیابی نے قلب حزیں کو مزید بے چینی ضرور دی۔ لالہ ارشد کی موجودگی دل دلگیر کے لیے ہمیشہ سے ہی مرہم ہے۔

اور پھر جو میری ٹیم کھیلی ہے تو یقین جانئیے کہ جی چاہتا تھا کہ ”وائیڈ“ کے ”وٹے“ کو جا کر عقیدت سے چوم چوم لوں۔ عمیر پیر اور ذیشان ٹیپو نے جداگانہ رنگ جمایا اور کمال جمایا۔ شاہد اعوان، طاہر محمود، شیر افضل، حاجی اکرم، طاہر بشیر، بلال اعوان اور محبتوں کے کئی دیگر کوہ سکیسر مجھے یہ لازوال شام بھولنے نہیں دیں گے۔

زندگی کے چند ایسے صفحات ہوتے ہیں جو عیش نشاط زیست کشید کر کے تراشے گئے ہوتے ہیں، چھ فروری 2021 کا دن بھی ایسا ہی دن تھا اور یہاں سپورٹس مین سپرٹ کی عظیم داستانوں عزیز بھائی، عبدالرؤف بھائی، ثاقب جبار ملٹی پل اعوان، عبدالباسط، ملک ہادی، آفتاب اعوان، شکیل اعوان اور ناصر اعوان (جن کے سٹریٹ بیٹ سے کھیلے گئے سٹروکس نے مجھے چونکا دیا کہ بابے میں ابھی بھی کرکٹ باقی ہے ) کا تذکرہ نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے میچ کے کھابے کا ذکر اس کے حلوے کے بغیر کرنا۔ غیاث اصغر اعوان جیسے بندے کا حوصلہ تھا کہ اپنی ایڈمن شپ میں وہ ان خلوص کی پڑیوں کو بھگتاتے ہوئے ڈایابٹیز سے بچ نکلا۔

میں بس اس خیال میں ہوں کہ ان مانوس نگاہوں کے التفات سے دور رہ کر مزید کتنے دن سون کے اگلے سفر سے خود کو روک پاؤں گا!

Facebook Comments HS