چرس بیتی: قصہ چند سوٹوں کا
جیسی بچپن میں خواب کے دوران اوپر سے نیچے گرتے ہوئے ہوتی تھی۔ ساتھ کچھ دھک دھک کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی، دھڑکن تھی شاید۔ پھر صورت حال نے پلٹا کھایا اور لگا، کوئی بغل میں دابے اوپر جا رہا ہے آسمانوں کی طرف، ساتھ ہی خیال آیا کہ ’کہیں میں فوت تو نہیں ہو گیا؟‘ کیونکہ دھک دھک کی آواز بند ہو گئی تھی۔
یہ سب کیا تھا، کس کے ساتھ اور کب ہوا؟ جاننے کے لیے آپ کو وہ واقعہ سننا پڑے گا جس کے بیلنے سے ناچیز نہ صرف خود گزرا بلکہ حال بھی تقریباً وہی ہوا جو گنے کے گڑ بننے تک کے مراحل میں ہوتا ہے۔
پشاور کے کسی پراپرٹی آفس میں چرس شرس چلنا کچھ ایسی انہونی بات نہیں اسی لیے وہاں بیٹھے کچھ لوگوں نے دھوئیں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہا ’لگائیں نا بھائی‘ ، جس پر پشوری دوست نے کہا کہ ’یہ شریف آدمی ہیں، اسلام آباد سے آئے ہیں، خالی پی لیتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں اور گولڈ لیف کا پیکٹ بڑھایا۔‘
اس کے ساتھ ہی جھٹکے سے دروازہ کھلا، دو پولیس والے داخل ہوئے اور کہا ’کچھ گزارہ کیا کرو یار‘ ، میرا خیال تھا کہ مارے گئے مگر وہ خود دو، دو کش لگا کر نکل گئے۔
محفل چند گھنٹے چلنے کے بعد برخاست ہوئی تو پشوری دوست نے چپلی کباب کھلانے کا اعلان کیا اور ہم طورے کبابی کے پاس پہنچے تو باہر شدید بارش شروع ہو گئی۔
کباب کھا کر نکلے تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ دوست نے اسی آفس کے سامنے اتارتے ہوئے عذر پیش کیا کہ چونکہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اس لیے مجھے اکیلے ہی رات گزارنا پڑے گی جس پر ظاہر ہے سوائے ’چلو کوئی بات نہیں‘ کہنے کے اور کیا کہا جا سکتا تھا۔
وہ لاک کھول کر نکل گیا اور میں اندر داخل ہوا۔ یہ دفتر دراصل ایک فلیٹ میں تھا جس کے تین کمروں میں سے ایک میں دفتری سا ماحول تھا جبکہ ایک خواب خرگوش کے لیے تھا یعنی قالین پر گدے لگے ہوئے تھے۔
دفتری حصے میں بیٹھ کر کمپیوٹر پر اپنی پسند کا گانا ٹائپ کرتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو ایل سی ڈی کے قریب چنا برابر کالی سی چیز چپکی دکھائی دی۔
ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ذہن میں ٹن ٹن ہوئی کہ یہ وہی ہے جس کے کش کچھ دیر قبل یہیں پر لگ رہے تھے، سونگھنے پر عجیب سی بو یا شاید خوشبو نتھنوں میں گھسی۔
بغیر کسی زیادہ کشمکش کے ذہن یہ ماننے پر آمادہ ہو گیا کہ اسے ٹرائی کرنا چاہیے کیونکہ چرسی کی کڑاہی بھی تو بہت مزیدار ہوتی ہے نا۔
چونکہ پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا اس لیے مشاہدے کو ہی ذہن میں تازہ کرتے ہوئے ٹکڑے کو چابی کے سرے پر جمایا اور لائٹر جلا لیا۔ تھوڑی سی محنت کے بعد وہ اچھی خاص گرم ہو گئی۔
پھر سگریٹ جو پہلے سے خالی کیا جا چکا تھا، کے تمباکو میں ڈال کر اچھی طرح رگڑا اور دوبارہ بھرنا شروع کیا۔
خاصی تگ و دو کے بعد جب سگریٹ سیدھا ہو گیا تو ہونٹوں میں دبا کر لائٹر جلایا اور ساتھ ہی کمپیوٹر پر انٹر کا بٹن دبا دیا۔
سکرین پر تصویر ابھرتے ہی پہلا کش لگایا جو عام سگریٹ سے زیادہ مختلف محسوس نہیں ہوا۔ راحت فتح علی خان کی آواز ’میں تینوں سمجھاواں کی‘ کے ساتھ دوسرا کش، ’نہ تیرے باجوں لگدا جی‘ کے ساتھ تیسرا، ’توں کی جانیں پیار مرا‘ کے ساتھ چوتھا اور ’میں کراں انتظار ترا‘ کے ساتھ پانچواں کش لگا کر دھواں چھوڑ چکا تھا۔
اس کے بعد بھی راحت فتح علی خان کچھ گا رہا تھا لیکن پشتو گانے ’وا چرسی ملنگہ‘ کی آنے لگی۔
یہیں پر ہی ہاتھ روک لیتا تو شاید بہتر ہوتا لیکن چھٹا اور ساتواں کش لگتے ہی راحت فتح علی خان کی شکل تبدیل ہونا شروع ہوئی اور چاہت فتح علی خان سے مشابہ تر ہوتی چلی گئی اور گانا بھی ’یہ جو پی ایس ایل ہے‘ ٹائپ ہوتا چلا گیا۔
پھر رگ و پے میں ٹھنڈک کا سا احساس ہونا شروع ہوا۔ دل گھبرانے لگا، کھانسی کے دو تین دورے بھی پڑے اور جب سر سنبھالنا مشکل ہونے لگا تو ایک سوٹا باز دوست کا فرمان یاد آیا کہ ایسے میں فوراً سو جانا چاہیے۔
اسی سے اتفاق کرتے ہوئے چاہت فتح علی خان کو گاتے ہوئے چھوڑا اور سونے والے کمرے میں گھس کر کمبل اوڑھ لیا۔
باہر بجلی چمک رہی تھی اور بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
خود کو تسلی دی کہ ابھی آنکھ لگ جائے گی اور جاگوں گا تو سب کچھ ٹھیک ہو گا مگر نیند سنگدل محبوب کی طرح ہاتھ ہی نہیں آ رہی تھی۔
اس وقت پشوری دوست کو کال کرنے کا سوچا تو موبائل نہیں ملا جو شاید دفتری حصے میں رہ گیا تھا۔ اسے لانے کے جیسے ہی اٹھا تو ایسا چکر آیا کہ سر ڈسٹ بن میں جاتے جاتے بچا۔
خیر موبائل اٹھا کر دوست کو بہت کالز کیں جو اس نے اٹھانی تھیں نہ اٹھائیں۔
دھیان بٹانے کے پھر سے یوٹیوب آن کیا تو جانے کیسے ’ارطغرل‘ چل پڑا جو ہاتھ میں تلوار لیے اپنی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا تھا اور قبل اس کے کہ سر قلم کر ڈالتا بدل کر ایک اور گانا لکھا تو ’جراسک پارک‘ کے مناظر چلنے لگے ایک اور لنک پر کلک کیا تو ’ایول ڈیڈ‘ چل پڑی۔
پھر سر کو جھٹکتے ہوئے بڑے احتیاط سے نورا فتحی کا نام لکھا کہ ایسے ’ماحول‘ میں ڈانس شانس کچھ زیادہ مزہ دیتا ہے مگر یہ کیا سکرین پر تو شفقت چیمہ ابھر آیا اور وہ بھی گنڈاسہ لیے۔
جھنجھلا کر ’سکھ ماہی نال لے گیا‘ لکھا تو ایک مولانا صاحب سکرین پر نمودار ہو گئے جو مرنے کے بعد کی کیفیت پر خاصے پرجوش انداز میں روشنی ڈال رہے تھے بس یہی وہ لمحہ تھا جب سکرین کے سامنے سے ہٹ کر پھر سے میٹریس پر آن پڑا۔
تھوڑی دیر بعد غنودگی سی محسوس ہوئی اور اس کے بعد وہی صورت حال بنی جس کی منظر کشی ابتدائی سطور میں کی گئی ہے۔
اس کے بعد کبھی خود کو آسمانوں میں اڑتا محسوس کیا اور کبھی سمندروں میں ڈوبتا۔ کبھی لگتا کہ جسم پر چیونٹیاں چڑھ رہی ہیں تو کبھی محسوس ہوتا کہ کمبل میں چھپکلی گھس آئی ہے۔ اسے گالی دی تو اپنی ہی آواز کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
پھر دوسرے گدے پر اس خیال سے چلا گیا کہ شاید وہاں چیونٹیاں نہ ہوں اور نہیں تھیں، مگر مچھلیاں ضرور تھیں۔
اسے بھی چھوڑ کر تیسرے میٹریس پر گیا تو قدرے سکون محسوس ہوا اور نیند آنے ہی لگی تھی کہ دفعتاً موٹو پتلو جانے کہاں سے آ گئے اور کمبل کو دروازے کی طرح کھٹکھٹا کر پوچھنے لگے ’سموسے کہاں سے ملیں گے۔ ‘
وہ تو سر کو جھٹکا دینے سے غائب ہو گئے مگر ذہن میں خیالات آنے لگے کہ اگر میں فوت ہو گیا تو صبح کیا صورت حال ہو گی کیونکہ یہ بات تو چھپی نہیں رہے گی کہ جناب نے ممنوعہ شے کے سوٹے لگائے تھے۔ امی کیا کہیں گی، بیگم صاحبہ کا کیا ردعمل ہو گا وغیرہ وغیرہ۔
اسی ادھیڑ بن میں جانے کب آنکھ لگی اور کھلی تو خود کو باتھ روم کے فرش پر اس قدر بے تکلف انداز میں سوتا ہوا پایا کہ جیسے مدت سے اس کی آرزو ہو۔
اس وقت بھی سر کچھ بھاری سا تھا، پھر رات کے بارے میں سوچا اور توبہ کرتے ہوئے خود پر یہ ’گالی‘ بھی ڈال دی کہ آئندہ اگر کبھی بھری تو کیا خالی سگریٹ کو بھی ہاتھ لگاؤں تو اسی حالت سے پھر گزروں۔
نتیجہ: کڑاہی اور سگریٹ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔


