دہشت گردی کی واپسی اور ہماری لاپرواہی


کرہ ارض پر ایسا ملک ہے جہاں کچھ سال پہلے بہت زیادہ دہشت گردی ہوتی تھی، ان دہشت گردی کے واقعات میں بہت سارے لوگ قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس قتل و غارت کو قربانی نام دیا گیا تھا مگر حقیقت یہ تھی کہ کسی نے جان بوجھ کر قربانی نہیں دی بلکہ ان کو قتل کیا گیا۔ مگر پھر اس ملک کی قیادت کو ہوش آیا اور پھر کارروائیاں ہوئی دہشت گردوں کے خلاف۔ امن اس ملک میں دوبارہ لوٹ آیا لیکن پھر ایک قیادت دوبارہ آئی تو انھوں نے دہشت گردوں سے مک مکا کیا اور پھر دہشت گردی دوبارہ لوٹ آئی اور اب دوبارہ سے بے گناہوں کی جان جانے کا آغاز ہو گیا ہے۔

اس ملک کے رہنے والے لوگ عجیب لوگ ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو خون میں نہایا دیکھ چکے ہیں مگر پھر بھی اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائیں کہ قاتل کون ہیں؟ ظالم کون ہیں؟ سازشی کون ہیں؟ اور ان لوگوں کا ہمدرد کون ہیں؟ اس ملک کے لوگ سب سے جنونی لوگ ہیں جو صرف جذباتی ہونا جانتے ہیں اور عقل اب تک نہ آئی۔ بظاہر ایک قاتلوں کا گروہ اٹھتا ہے اور آپ کو مرتد کہتا ہے اور مارنے کا پروانہ جاری کر دیتا ہے لیکن پھر بھی آپ کو عقل نہیں آتی۔ آپ تو دور کجا ریاست کی فہم بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ اپنے ہیں یا پھر غیر۔

ظالم ظالم ہوتا ہے گڈ یا بیڈ نہیں۔ قاتل قاتل ہوتا ہے گڈ یا بیڈ نہیں۔ حیرت ہے بہت حیرت ہے کچھ لوگ علانیہ قتل کر کے شادیانے بجاتے ہیں اور کچھ لوگ مذمت کرنے سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خوف بجا ہے وہ قاتل ان کی شیلڈ ہے، وہ قاتل ان کے بچے بھی ہیں، وہ قاتل ان کا سرمایہ بھی ہے۔ اسی وجہ سے وہ مذمت نہیں کرتے بلکہ ان کے ظلم کی تاویل کرتے ہیں۔ اسی ملک میں جب درجنوں بچوں کو مار دیا گیا تھا تو قیادت کچھ عرصے کے لئے سنجیدہ ہوئی تھی مگر اب دوبارہ سے خواب غفلت میں ڈوب گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے اور تقریباً ً دنیا کا ہر انسان یہ مانتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہیں۔ یعنی جان کی حفاظت پہلے کرنی ہے اور پھر دوسرے معاملات دیکھنے ہیں۔ مال قربان کر دینا ہے مگر جان بچانی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک کے لوگ اب تک جان بچانے پر راضی نہیں ہوئے۔ ان کی جان مسلسل خطرے میں ہیں اور قاتل آہستہ آہستہ قربت اختیار کر رہا ہے۔ عجب جنون ہے یا پھر وقوفی یار قاتل کو بھی سر پر بٹھاتے ہیں اور اس کی سوچ کو کمال گردانتے ہیں۔

عوام کی یہ فکر عجیب جہالت محسوس ہوتی ہے لیکن پھر خیال آتا ہے ہجوم تو بے وقوف ہی ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ظالم کسی شکل کا ہو، قاتل کسی مذہب کا ہو، شقی کسی زبان کو ہو، اسے باطل سمجھا جائے اور اس کے خلاف سب ملک کر ہم آواز ہو اور اسے للکارا جائے نہ کے اس کو اپنا بچہ کہا جائے۔ کوئی ہزاروں تاویلیں دے دیں مگر ظالم ظالم ہی ر ہے گا۔ جس ملک کی بات ہو رہی ہے وہ ملک پاکستان ہے اور جو عوام جنونی ہے وہ ہم ہیں۔

اس ملک کی عوام سے بس اتنی ہی گزارش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف، دہشت گردوں کے خلاف اور دہشت گردوں کے حامیوں کے خلاف اپنی آوازیں بلند کریں کیونکہ آپ کی خاموشی ظلم کی حمایت شمار ہوگی۔ یاد رکھیں ملک پاکستان کے بہت بڑے سیاست دان یا ہو یا پھر برینڈڈ مولوی جو بھی اس ظلم پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائیں تاکہ ان کے چہرے پر سے بھی نقاب اتریں۔

Facebook Comments HS