کسی غلط فہمی میں نہ رہیے، یہ سیاست ہے!


جنھیں کراچی اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا، انہی کو اتحادی بنا دیا۔ جنھیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا، انہی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف تحریکیں چلانے والے، اور ناجائز کہلانے والے، عورت ہی کی حکومت کا حصہ بنیں۔

یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ سیاست ہے، یہاں اپنے مفادات کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، مقاصد کے حصول کے لیے راستہ بدلنا پڑتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مخالفین سے ہاتھ بھی ملانا پڑتا ہے، مفاہمت کا راستہ بھی اپنانا پڑتا ہے، اپنے کہی ہوئی باتوں سے پھیرنا پڑتا ہے اور کہی جگہوں پر تو دوغلہ پن مجبوری بن جاتی ہے ؛ مثلاً بند کمروں میں معافیاں مانگنا، گزارشات کرنا اور عوام کے سامنے جرت و غیرت کے بھاشن دینا۔

یاد رہے! ”سیاست اس جدوجہد کا نام ہے، جو مفادات کے حصول کے لئے تسلسل سے مختلف شکلوں میں کی جاتی ہے“ ۔ سیاست اپنے مفادات کی حفاظت، اپنے مقاصد کے حصول اور لوگوں کو اپنے ساتھ لینے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنے کا نام ہے۔ سیاست پر بحث کرنے، بے جاں الزامات لگانے، اور بے بنیاد فتوے بانٹنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاست کے تصور، طرز اور بنیاد کو سمجھا جائے۔ اس کے بعد غلط اقدامات کی حوصلہ شکنی اور اچھے اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، لیکن دونوں صورتوں میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔

اہل وطن بھائیوں کو جب سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے، اس سوچ پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کس قدر تنگ نظر بن چکے ہیں اور ترجیحات کس حد تک گر چکی ہے کہ آپس کا بھائی چارہ، اتفاق و اتحاد اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے تصور کو ہی خیرآباد کہہ دیا ہے۔

اصل بات تو یہ ہے، کہ ہم نے ضد کا رستہ اپنایا ہے، اپنے پسندیدہ شخصیات کی محبت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ ان کے غلط اقدامات پر پردہ ڈالتے ہیں، صحیح اور مفید ثابت کرنے میں کوئی حرج نہیں چھوڑتے۔ جبکہ مخالفین اچھائیوں میں بھی نکتہ چینیاں کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کیا ٹھیک ہے کیا غلط، حق کو حق نہیں کہتے، جو حال کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

یہ ہر ایک کی مرضی، اختیار اور بنیادی حق ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کو سپورٹ کرے، ان پر تنقید کرے، یا سیاسی کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ لیکن آپس میں اتفاق و اتحاد و یگانگت و یکجہتی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا نہ بھولیں۔ امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ اس میں ہماری انفرادی و اجتماعی ترقی کا راز پوشیدہ ہے، بلکہ یہی ہماری کامیابی ہے۔

یہ میری رائے ہے، باقی آپ کا یہ حق سمجھتا ہوں کہ میری رائے پر تنقید کریں، یا اضافی معلومات فراہم کر کے اپنی آراء شامل کریں۔ آپ کی رائے میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں۔

Facebook Comments HS