مقدس ادارے اور غیر مقدس عوام


پاکستان کی مقدس دھرتی پر ہر شے مقدس ہے سوائے پاکستان کے عوام کے۔ منبر و محراب مقدس۔ پارلیمان مقدس۔ اور ان مقدس ایوانوں میں بیٹھے لوگ مقدس۔ خاکی وردی مقدس۔ کالا کوٹ مقدس۔ ادارے مقدس اور ان اداروں کے افسران مقدس۔ بس عوام ہی ہیں جو مقدس نہیں ہیں۔ عوام کا اولین فرض یہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں کی خدمت گزاری میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں۔ کسی کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہونے پائے۔

اگر کسی نے غلطی سے بھی کسی مولانا صاحب پر انگلی اٹھا دی تو اگلے ہی لمحے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہو گا۔ اگر کسی نے مقدس پارلیمان میں بیٹھے کسی جاگیردار یا سرمایہ دار کی کرپشن کی نشاندہی کی تو وہ جمہوریت دشمن قرار پائے گا۔ اگر کسی نے غلطی سے کسی جرنیل کے کسی فعل پر تنقید کر دی تو اس پر غداری کا مقدمہ دائر کرنے والے محبان وطن برسات کے مینڈکوں کی طرح جا بجا نمودار ہو جائیں گے۔ اگر کسی جج صاحب کی شان میں گستاخی ہو گئی تو توہین عدالت کی کارروائی پہلے سے تیار پڑی ہوگی۔

اب تو اس حق تقدیس کے کچھ نئے دعویدار بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ اب سکرین پر بیٹھا اینکر جس کو کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھالنے کا پورا حق حاصل ہے وہ بھی آزادی اظہار رائے کے پاکیزہ لبادے میں ملبوس ہو کر مقدس ہو چکا ہے۔ کوئی اگر کسی اینکر صاحب کے یک طرفہ سیاسی تبصرے کو گمراہ کن پروپیگنڈا کہہ دے تو شام کی تمام سکرینوں پر وہ انسانی حقوق کا دشمن قرار دیا جا چکا ہوتا ہے۔ عوام کا کام ہے کہ بس جو کہہ دیا جائے اس پر ایمان لے آئیں۔

جو حکم صادر ہو تابع فرمان ہو کروہ حکم بجا لائیں۔ ہاں البتہ کبھی کہیں ان مقدس ہستیوں میں سے ہی کوئی ایک دوسرے پر الزام دھر دے تو پھر تقدس اسی کا قائم رہتا ہے جو درجے میں افضل ہوتا ہے اور کمتر درجے والا راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔ البتہ عوام نے وہی صحیح ماننا ہے جو ان مقدس ہستیوں نے صحیح کہنا ہے۔ کیونکہ وہ تو عوام ہیں۔ سوچنے سمجھنے سے ان کا کیا واسطہ۔

ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ کسی نے ایک عالم دین سے استفسار کیا کہ اگر کوئی کسی مولانا صاحب کو ڈیزل کہنے کی گستاخی کا مرتکب ہو تو اس کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے۔ تو مولانا مذکور نے فرمایا کہ ایسے کلمات کہنا نہ صرف بدترین فسق اور گمراہی ہے بلکہ کفر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ نہ صرف صدق دل کے ساتھ علانیہ توبہ کرے بلکہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لے ورنہ اس کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہ رکھے جائیں۔ کاش مولانا صاحب نے یہی فتوٰی جھوٹ بولنے والے کے خلاف دیا ہوتا کہ جس کو رحمت اللعالمین ﷺ نے خود اپنی امت سے خارج کر دیا تھا۔ کاش یہ فتوی رشوت خور کے خلاف دیا ہوتا کہ جس کو پیغمبر رحمتﷺ نے خود جہنمی قرار دیا تھا۔

کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب لاہور کی ایک سڑک پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ایک وزیر صاحب کے باڈی گارڈز نے ایک میجر صاحب کے ساتھ بدسلوکی کی۔ وزیر صاحب کو جب پتہ چلا کہ غلط جگہ پھڈا پڑ گیا ہے تو گھگھیا گھگھیا کر اپنے بے قصور ہونے کا یقین دلانے لگے۔ اور رضاکارانہ طور پر اپنی گرفتاری بھی پیش کر دی۔ چیف صاحب اپنے مضروب افسر کی تیمارداری کے لیے بنفس نفیس ہسپتال پہنچے، ان کے سر پر دست شفقت رکھا اور یقین دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف ہو گا۔ دل سے اک رشک بھری آہ نکلی اور یاس کی ٹھنڈی فضا میں گم ہو گئی۔ کاش کوئی ہوتا جو اپنے عوام کے سروں پر بھی دست شفقت رکھتا اور کہتا کہ آپ لاوارث نہیں ہو۔ کاش کوئی ہوتا جو بدمعاش اشرافیہ کے ہاتھوں روز خوار ہوتے کمزور عوام کی زخمی روحوں پر بھی مرہم رکھتا۔ لیکن عوام تو عوام ہی ہوتے ہیں ان کو خواص والے حقوق کب میسر آسکتے ہیں۔

ورلڈ جسٹس پراجیکٹ ایک عالمی ادارہ ہے جو قانون کی بالا دستی اور عدالتی نظام کی کارکردگی کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔ 2022 کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 140 ممالک میں سے 129 ویں درجہ پر ہے۔ حتٰی کہ کینیا، نائیجیریا اور یوگینڈا جیسے ممالک بھی ہم سے آگے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ہماری عدلیہ مقدس ہے۔ حتٰی کہ اس کی توہین پر سزا کا باقاعدہ قانون موجود ہے۔ ہمارے ایک وزیراعظم صاحب کو توہین عدالت پر چند سیکنڈز کی سزا سنائی گئی تو ان کو وزارت عظمٰی سے ہی ہاتھ دھونا پڑے۔

جمہوریت دور جدید کا مذہب ہے۔ اور اس مذہب میں پارلیمان سب سے مقدس ایوان ہے۔ کوئی بھی چور، ڈاکو، قاتل جب ووٹوں کا بپتسمہ لے کر اس مقدس ایوان میں داخل ہوتا ہے تو وہ پاک اور پوتر ہو جاتا ہے۔ وہ جاگیردار جو اپنی جاگیر میں ہر قانون سے ماورا ہوتا ہے یہاں بیٹھ کر ملک کے لیے قانون بناتا ہے۔ وہ وڈیرہ جو اپنے ڈیرے پر کسی کمی کمین کو اپنے سامنے چارپائی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا وہ اس مقدس ایوان میں بیٹھ کر عوامی حقوق کا علمبردار کہلاتا ہے۔ اب چاہے وہ منی لانڈرنگ کر کے ملک کو دیوالیہ کرے، جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرے، یا ملک کا خزانہ لوٹ کر خالی کر دے کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کیونکہ وہ مقدس ایوان کا مقدس رکن ہے۔

یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک کے ادارے بھی۔ اس پاک دھرتی کی طرح اس کے ادارے بھی ہمیں عزیز از جاں ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ وہ ادارے بھی عوام کا حق تکریم تسلیم کریں۔ وہ اس مقدس فرض کو بھی یاد رکھیں جس کی وجہ سے وہ مقدس ٹھہرے ہیں۔

بے شک منبر و محراب ہمارے دلوں میں بستے ہیں کہ یہ اس رحمت دو عالمﷺ کی نشانی ہیں جنہوں نے انسانیت کو محبت و اخوت کا درس دیا۔ لیکن اگر اسی منبر و محراب سے نفرت اور فساد کی تبلیغ ہونے لگے تو وہ اپنا تقدس کھو دیتے ہیں۔ خاکی وردی ہمیں جان سے زیادہ پیاری ہے کہ اس میں ملبوس وفا کے پیکر اپنے لہو سے اسے لال کرتے آئے ہیں۔ لیکن اگر یہی خاکی وردی پہنے کوئی متکبر جرنیل اپنی ہی قوم کو فتح کرنے نکل پڑے تو وہ محبت نہیں بلکہ نفرت کا مستحق ہوتا ہے۔

عدلیہ کا احترام ہم پر فرض ہے کہ وہ انصاف مہیا کرتی ہے۔ وہ طاقتور ظالم کے سامنے کمزور مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہی عدلیہ طاقتور کے ہاتھ کا کھلونا بن جائے تو وہ اپنا حق تکریم کھو دیتی ہے۔ پارلیمان اس لیے مقدس ہے کہ وہاں بیٹھ کر عوامی نمائندے عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہی نمائندے عوام کے وسائل لوٹنے لگ جائیں تو وہ قابل نفرت ہو جاتے ہیں۔

ہاں! ادارے مقدس ہوتے ہیں کیوں کہ وہ عوام کی خدمت اور فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ عوام کی خدمت کی بجائے ان کو اپنا غلام سمجھنے لگ جائیں تو ان کے وجود کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے لیے حق تکریم کھو دیتے ہیں۔ صرف طاقت و اختیار کی بنا پر وہ زیادہ عرصہ عوام کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ قائم نہیں رکھ سکتے۔

Facebook Comments HS

One thought on “مقدس ادارے اور غیر مقدس عوام

  • 24/02/2023 at 8:34 شام
    Permalink

    ہاں! ادارے مقدس ہوتے ہیں کیوں کہ وہ عوام کی خدمت اور فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ عوام کی خدمت کی بجائے ان کو اپنا غلام سمجھنے لگ جائیں تو ان کے وجود کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے لیے حق تکریم کھو دیتے ہیں۔ صرف طاقت و اختیار کی بنا پر وہ زیادہ عرصہ عوام کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ قائم نہیں رکھ سکتے۔
    سو فیصد اتفاق کے ساتھ بہترین تحریر

Comments are closed.