تاریخ اہل سعود اور سعودی یوم آزادی


سعودی عرب کی تاریخ قبیلوں اور باہمی رقابت اور سر پھٹول سے بھری پڑی ہے۔ نجد اور دیریا کے علاقوں میں کئی ایسے قبیلے آباد تھے جو ایک دوسرے کی عملداری کو نہیں مانتے تھے اس اندرونی کشمکش کا دائرہ ان کے مخالفین اٹھاتے اور یوں کئی صدیوں تک مکہ و مدینہ کی مجموعی عملداری خلافت عثمانیہ کے سپرد رہی جن کا دارالخلافہ ترکی میں تھا جو اب ترکیہ کہلاتا ہے۔ امام محمد بن سعود نے جو 1679ء میں دیریا میں پیدا ہوئے تھے، 1765ء میں نجد اور دیریا کے علاقوں میں انہوں نے متحارب گروہوں اور قبائلی علاقوں میں اپنی عملداری قائم کی۔ اتحاد و اتفاق سے باہمی قبائلی اختلافات کو ختم کیا اور یوں ایک نئی حکومت کی تشکیل کی جانب پہلا راست اقدام اٹھایا اور اپنی حکمرانی 1727ء میں قائم کی۔ جس کی عملداری اگلے تین سو سال تک قائم رہی۔

آل سعود کے بانی شہزادہ سعود بن محمد بن مقرن نے 1720ء میں حاکمیت سنبھالی۔ ان کی حکومت 1725ء تک چلی۔ پھر عنان حکومت ان کے بیٹے نے 1727ء میں سنبھال لی۔ انہوں نے ایک شہری ریاست کی بنیاد ڈالی جس کی جدید شکل اہل سعود پہ مشتمل ایک جدید فلاحی بادشاہت کی صورت میں نمودار ہوئی۔ انہوں نے کمال حسن تدبر اور معاملہ فہمی سے اپنی حکمرانی کو دوام بخشا، ان کا دست قدرت سے جب بلاوا آ گیا 1765ء میں تو ان کے ہونہار بیٹے عبدالعزیز بن آل سعود نے ورثہ میں حکومت سنبھالی۔

اس بادشاہت کا اعلان 23 ستمبر 1932ء کو کیا گیا۔ امام سعود بن عبدالعزیز جو امام محمد کے پوتے تھے نے اصل میں سعودی عرب کی شہنشاہیت کی بنیاد 1803ء میں رکھی اور سعودی حکمرانی کو ایسا دوام بخشا جس کے اثرات پورے عالم اسلام پہ آج بھی قائم ہیں۔ انہوں مکہ اور مدینہ میں بھی سعودی عملداری قائم کی اور ترک عثمانیہ خلافت کو مار بھگایا۔ 1814ء میں ترکوں نے ایک بڑی عسکری قوت کے ساتھ ایک بھرپور حملہ کیا اور کئی سعودی شہزادے اور دیگر افراد اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔

امام عبداللہ بن سعود کو پابۂ زنجیر کر کے استنبول کے جایا گیا اور انہیں اس عالم میں تہ تیغ کر دیا گیا۔ لیکن انہوں نے جو باہمی الفت و محبت کا بیج بویا تھا اس نے عرب قبائل کو متحد و متفق رکھا اور دوسری سعودی بادشاہت کا آغاز 1824ء میں ہوا جس کا سلسلہ 1891ء تک چلا۔ جس کے بعد نجد اور ہجاز کا اتفاق رائے سے اتحاد ہو گیا اور اس طرح 1932ء میں سعودی بادشاہت کی عملداری شروع ہوگی اور آج اس کی جدید سائنسی طریقوں سے نئی پہچان دی جا رہی ہے۔

27 جنوری 2022 کو شاہ سلمان کے شاہی فرمان کے تحت یوم آزادی منانے کا حکم جاری کیا گیا ہے اور اب ہر سال اس دن کی یاد پورے تزک و احتشام سے منایا جائے گی۔

Facebook Comments HS