کہاں سے آئے صدا؟

میری عمر کے لوگ اسی کی دہائی کے اوائل میں سکول داخل ہوئے تھے۔ آپ اس زمانے یا اس سے پہلے طالب علموں کا ایک سروے کر کے دیکھ لیں، ایک اوسط درجے کا طالب علم آپ کو تعلیم کے متعلق اقبال کے یہ دو شعر سنا پائے گا۔ یہ اشعار وہ آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے یاد کر لیتا تھا۔
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
آپ اگر تھوڑی مشقت اٹھائیں اور آج کے طالب علموں سے ان اشعار کے متعلق پوچھ لیں تو ذہین ترین طالب علموں میں بھی کوئی شاذ ہی آپ کو یہ شعر سنا پائے گا۔ وجہ؟ اس کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں لیکن بنیادی وجہ معیار تعلیم کی روز بروز گرتی ہوئی ساکھ ہے۔
تعلیم آخر ہے کیا بلا؟ جب ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہم اسے سکول یا کسی تعلیمی ادارے سے جوڑ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے تعلیمی اداروں میں بہت کچھ ہو رہا ہے سوائے تعلیم کے۔
تعلیم کا لفظ سن کر ہمارے ذہن میں کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی کا خیال آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے درس و تدریس کا جو نظام اپنائے ہوئے ہیں اسے حقیقی تعلیم سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں طالب علموں کے دماغ میں معلومات ٹھونسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طالب علموں کے ساتھ ہمارا رویہ وہی ہوتا ہے جو ہم اجناس کے لئے رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں ہے کہ طالب علم چیزیں نہیں بلکہ افراد ہیں، جن کی اپنی اپنی شخصیت ہوتی ہے، ان پر کام نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے ساتھ کام کیا جاتا ہے، ان سے خود کو اور خود کو ان سے جوڑا جاتا ہے۔
تعلیم ارسطو کے مطابق اس اہلیت کا نام ہے جو آپ کو کسی خیال کو مانے بغیر اس پر غور کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس خیال کے مطابق تعلیم ایک مخصوص کتاب میں درج شدہ معلومات کو یاد کرنا اور سمجھنا نہیں بلکہ ممکنات کی دنیا میں اتر کر غور و فکر کو دعوت دینا ہے۔ یہ دراصل دریافت کے لئے وقت نکالنے اور اس عمل کی حوصلہ افزائی کا نام ہے۔ میرے خیال میں تعلیم کو مستقبل کی تیاری سے تعبیر کرنا بھی درست سوچ نہیں۔ تعلیم دراصل لمحہ موجود میں رہنا اور اسے بہتر طریقے سے گزارنے کا نام ہے۔ یہ دراصل اس ہنر کا نام ہے جو ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہم بہتر زندگی گزار سکتے ہیں اور یہ کہ ہم سچ اور امکان کو اپنی سوچ میں مدعو کر کے اپنی زندگی بہتر طریقے سے جی سکتے ہیں۔
بات میں کچھ اور کرنا چاہتا ہے لیکن جیسا کہ عام قاعدہ ہے، بات سے بات نکلتی ہے اور دور تلک چلی جاتی ہے۔ میں سماجی انتشار کے دور میں استاد کے کردار کی اہمیت پر بات کرنا چاہتا تھا۔ تعلیم کے زوال کا جو رونا میں نے اس تحریر کی ابتدا میں رویا ہے، اس کا سبب استاد کی کمزوری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سکولز جہاں سے ہم اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ابتدا کرتے ہیں، درحقیقت سکولز کم اور روزگار فراہم کرنے کے کارخانے زیادہ ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے، ہمارے سیاستدانوں نے اپنے ووٹ پکے کرنے کے واسطے ہر کس و ناکس کو استاد کے منصب سے نوازا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا ہم نسل در نسل بھگتتے رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھگتیں گے
بچوں کی تعلیم و تربیت ایک ہنر ہے، آپ جب اس ہنر سے عاری لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپتے ہیں تو بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ کسی بے ہنر کو استاد مقرر کرنے سے بہتر ہے کہ گھر بیٹھے اسے مہینے کے مہینے تنخواہ دی جائے کہ اس طرح معاشی نقصان تو ہو گا لیکن نونہالان قوم ٹوٹ پھوٹ سے تو بچ جائیں گے۔
آپ نوشہرہ کا سروے کر کے دیکھ لیں۔ سابق وزیراعلی پرویز خٹک پچھلے چالیس سال سے نوشہرہ کی نمائندگی کرتے آئے ہیں، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہیں انہوں نے سیاسی وابستگی کی بناء پر استاد مقرر کیا ہے کہ ووٹ پکے ہوں اور سیاست پھلے پھولے۔ یہی حال ملک کے ہر حلقے کا ہے۔
میں آج سماجی انتشار کے دور میں ایک استاد کی اہمیت پر بات کرنا چاہتا تھا، لیکن بات دوسری جانب نکل گئی۔ اس پر انشاء اللہ پھر کسی وقت۔
۔

