گواہ گواہی کیوں دیں؟
کہا جاتا ہے کہ ایک تالاب کے کنارے دو خوبصورت چوزے زمین کو پر امید نگاہوں سے گھورتے، ایک ایک قدم آہستہ آہستہ اٹھاتے، دانے کی تلاش میں لگے رہتے تھے۔ ان کی ماں نے ایک کا نام کچی اور دوسرے کا نام پکی رکھا تھا۔ جب بھی کچی اور پکی کو اناج کے دانے نظر آتے تو دونوں دانے پر ایسے حملہ آور ہوتے جیسے بعض بھوکے بے روزگار مزدور سڑک پر کھڑی خیرات کی روٹی سے بھری گاڑی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ کنارے کے قریب دانے کے لیے جب کچی نے اپنے قدم بڑھائے تو تالاب کے خاموش پانی نے اسے نگل لیا۔ یہ دیکھتے ہی دوسرے بھائی پکی نے کنارے سے دور چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکارا لیکن اس کی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا۔ پکی پر اپنی کمزوری عیاں تھی کہ نہ تو ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ ہی یہ خود اپنے بھائی کو بچا سکتا ہے۔ پکی کے کانوں میں بھائی کی چیخ و پکار نے گونج رہی تھی لیکن پکی کو اپنی حقیقت معلوم تھی کہ وہ بھی ایک کمزور مخلوق ہے۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تالاب کے باوقار پانی نے کچی کو رفتہ رفتہ خود میں سمو لیا اور اس نے اپنی زندگی ہار کر گہرے پانی کی دوستی کو ہمیشہ کے لئے قبول کر لیا۔
پاکستان کے نظام انصاف میں غریب عوام کی مثال کچی اور پکی جیسی ہے۔ یہاں پر جب قتل ہوتا ہے تو اس کے گواہان ڈھونڈے جاتے ہیں اور جب گواہان نہیں ملتے تو ملزم کو، ”انصاف دلوانے والے“ بری کر جاتے ہیں۔ گواہ کیوں نہیں ملتا؟ چشم دید گواہان گواہی دینے سے انکاری کیوں ہو جاتے ہیں۔ ؟ یہ تو نہ عدالت چاہتی کہ ان سے یہ سوالات کیے جائیں اور نہ ہی حقیقت میں ان کو گواہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
قانون کے بارے میں ڈیرک والکوٹ کے الفاظ۔
”ٹائیگر: کیا غریب ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ؟
کارپورل: پہلے مجھے بھی قانون پسند آیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ قانون منصفانہ ہے، سب کے لیے ہے، خدا کا متبادل ہے، لیکن قانون تو ایک ”رنڈی“ ہے جو صرف اپنا ریٹ متعین کرتی ہے۔ کہیں تو قانون کو آپ کا سیاہ فام ہونا پسند نہیں، بلکہ سیاہ رنگ ہی پسند نہیں تو کہیں قانون خود سیاہ لبادہ اوڑھ لیتا ہے! ”
From the Dream on Monkey Mountain
ہمارے پاس ایک مثال راؤ انوار کی ہے جس کے ظلم کی داستانیں ڈھکی چھپی نہیں۔ راؤ انوار کو نقیب اللہ قتل کیس میں اس لیے رہا کیا گیا کہ اس کے خلاف ثبوت کے طور پر کچھ نہیں ملا، یعنی عدالت کے مطابق پراسیکیوشن الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
دوسری مثال ایک دن پہلے کے واقعے کی ہے۔ پرسوں بلوچستان میں ایک ماں اور اس کے دو بیٹوں کی لاشیں ملیں۔ ابتدائی خبروں کے مطابق ان لاشوں میں ایک لاش اس ماں جی کی تھی جو کچھ دن پہلے اپنے ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ڈان نیوز کے مطابق اس ماں کے ایک مقتول بیٹے کی عمر 20 سے 25 سال تھی اور دوسرے مقتول بیٹے کی عمر 15 سے 20 سال تھی۔ اس ماں نے سردار عبد الرحمان کھیتران کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ اس سردار نے ان کو نجی جیل میں بھی رکھا ہوا ہے اور ان کی بیٹی کا ہر روز ریپ بھی کرتا ہے۔ بعد میں یہ ماں اور اس کے بچے تو بازیاب ہو گئے لیکن مقتولوں کا اب تک کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کون ہیں۔
تو لہذا، ہمارا نظام انصاف ایسا نظام ہے کہ یہ گواہ تو مانگتا ہے لیکن اسے تحفظ نہیں دیتا۔ یہاں پر اگر کوئی چشم دید گواہ بھی ہو تو گواہی نہیں دیتا کیونکہ یہاں گواہ کو تحفظ فراہم نہیں۔ گواہ ایک دن گواہی دے گا اور دوسرے دن اس کے لیے اور گواہان کی ضرورت پڑے گی کیونکہ یہ بیچارا بھی خالق حقیقی سے مل چکا ہو گا۔
شاہ رخ جتوئی نے بھی ایک معصوم نوجوان کی جان لی تھی۔ اب وہ بھی جیل سے کافی عرصہ ہوا کہ رہا ہو چکے ہیں۔ شاہ رخ جتوئی پر قتل کا مقدمہ تو درج تھا لیکن گواہ کون بنتا؟ جو گواہ تھے بھی وہ منکر ہوئے اور عدالت میں انہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کو اپنی زندگی عزیز تر تھی۔ جب تک پاکستان میں گواہان کو تحفظ نہیں ملے گی تب تک پاکستان میں غریب عوام کے ساتھ ظلم بھی ہو گا، قتل بھی ہوں گے اور ان کے قاتل بھی عدالتوں سے بری ہو کر آزادانہ دندناتے پھریں گے۔


