اوپن لیٹر پر گاڑی چلانے پر پابندی ضروری

ہمارے ملک میں استعمال شدہ گاڑیاں خرید کر اوپن لیٹر پر چلانے کا رواج برسوں سے چلتا چلا آ رہا ہے۔ کراچی پولیس پر دہشتگردوں کے حملے سمیت ماضی میں ایسے لاتعداد جرائم کے واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں گاڑی یا موٹر سائیکل ایسی استعمال کی گئیں جو کہ اوپن لیٹر پر سڑکوں پر چل رہی تھیں یا موجودہ مالک کے بجائے پرانے مالک کے نام پر ہی رجسٹرڈ تھی۔ یہاں یہ ایک بات قابل فکر ہے کہ اگر آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کسی کو فروخت کرتے ہیں اور وہ شخص گاڑی اپنے نام پر ٹرانسفر نہیں کرواتا تو آپ بھی بلاوجہ کسی ایسے نا کردہ جرم میں پھنس سکتے ہیں جس کا آپ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہو، اس سنگین اور حساس معاملے کو نا جانے کیوں اب تک نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ہمارے یہاں اتوار بازار لگتے ہیں، مختلف آن لائن ویب سائٹس پر بھی گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں، مختلف شو رومز کے ذریعے بھی روز ہزاروں گاڑیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے مگر اس تمام معاملے کی خرابی یہ ہے کہ خریدار گاڑی خرید تو لیتا ہے مگر اپنے نام پر فوری طور پر ٹرانسفر نہیں کرواتا اور برسوں تک گاڑی اوپن لیٹر پر چلانے کے بعد کسی اور کو فروخت کر دیتا ہے، اور اس کے بعد بھی وہ گاڑی اوپن لیٹر پر ہی چلتی رہتی ہے۔ اس قدر کے لاپروا نظام کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
اگر خدانخواستہ وہ گاڑی یا موٹر سائیکل کسی واردات یا دہشتگردی کے واقعے میں استعمال ہو جائے تو سب سے پہلے گاڑی کے اصل مالک جس کے نام پر گاڑی ایکسائز میں رجسٹرڈ ہوتی ہے اس کے شامت آتی ہے، اور جب تک گاڑی یا موٹر سائیکل کے موجودہ مالک کا پتا نہیں چل جائے اس کو تھانے، اور عدالتوں کے چکر کاٹنے پر جاتے ہیں، میری سمجھ سے باہر ہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس انتہائی اہم معاملے پر کوئی ایسا طریقہ کار کیوں نہیں بناتے کہ گاڑی فروخت ہوتے ہی سرکار کے ریکارڈ کا حصہ بنے، تھانے میں بھی استعمال شدہ گاڑی کا ریکارڈ اور نئے خریدار کی تفصیلات لازمی فراہم کی جائیں، اس سے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی مجرم کے پکڑنے میں آسانی ہوگی وہیں وہ شخص جو اپنی گاڑی قانونی طریقے سے بیچے گا وہ بھی کسی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہے گا، ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص کرائے پر مکان لیتا ہے، لائسنس پر اسلحہ خریدتا ہے، موبائل کی سم حاصل کرتا ہے اس کا ریکارڈ تو اداروں کے پاس ہوتا ہے مگر چوری ڈکیتی سمیت مختلف وارداتوں میں ملوث ایسی گاڑیاں جو اوپن لیٹر پر چل رہی ہوتی ہیں ان کے موجودہ مالک کا ریکارڈ نہیں ہوتا جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
ہمارے ہاں ایک من گھڑت سوچ یہ بھی ہے کہ اگر گاڑی فرسٹ ہینڈ ہے تو اس کی مالیت بہ نسبت سیکنڈ آنر یا تھرڈ آنر کے زیادہ ہوتی ہے یہ گھٹیا سوچ کسی بڑے حادثے کا باعث جب بنتی ہے تو گاڑی فروخت کرنے والے کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔ ملک بھر میں بے شمار ڈیلر حضرات بھی اس کی اہم وجہ ہیں جو کہ فرسٹ آنر گاڑی کی قیمت زیادہ جبکہ سیکنڈ یا تھرڈ آنر گاڑی کی مارکیٹ ویلیو کم لگاتے ہیں، حکومت کو فوری طور پر اس سنگین معاملے پر قانون سازی کرنا ہوگی، حکومت ایسا کوئی میکانزم بنائے جس کے تحت فروخت کندہ گاڑی یا موٹر سائیکل بیچنے کے بعد بری الزمہ ہو جائے اور خریدار چاہے ڈیلر ہو یا گاہک اس کا ریکارڈ بھی فوری طور پر ضرور رجسٹرڈ ہو جائے۔
دور جدید میں دنیا بھر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لئے ان لائن ایپس، یا پورٹل کے ذریعے گاڑی کی خرید و فروخت کے وقت ہے گاڑی فوری طور پر نئے مالک کے نام پر ٹرانسفر ہوجاتی ہے مگر پاکستان میں اب تک ایسا کوئی قانون یا طریقہ نہیں بنایا گیا ہے جس کے تحت استعمال شدہ گاڑی یا موٹر سائیکل کے خریدار کا ریکارڈ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریکارڈ میں آ سکے۔ اگر کوئی ایسا سسٹم بن جاتا ہے تو بلاشبہ جرائم کے واقعات میں بھی کمی ہوگی اور پولیس کی تفتیش میں بھی آسانیاں پیدا ہوجائیں گیں، دوسری جانب وہ افراد جو کسی مجبوری کے تحت یا کسی بھی غرض سے ایمرجنسی میں کسی اجنبی کو اپنی گاڑی فروخت کرتے ہیں وہ بھی گاڑی فروخت کرنے کے بعد کسی ناگہانی پریشانی کا سامنا کرنے سے بچ سکیں گے

