شادیوں پر سخت شور شرابا کیوں؟


آج کل شادیوں کا موسم ہے بلکہ خاص طور پر دسمبر اور جنوری شادیوں کے مہینے کہلاتے ہیں اور ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اتنی سخت ٹھٹھرتی سردی میں گرم کمرہ اور لحاف چھوڑ کر کیسے چھوٹے شیرخوار بچوں کو ساتھ لے جا کر ساری رات ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ اوپر سے یہ کہ چونکہ خواتین نے اپنا بناؤ سنگھار سب کو دکھانا ہوتا ہے تو وہ زیادہ گرم کپڑے بھی نہیں پہنتیں۔ لیکن ان سب سے زیادہ حیرت، کوفت اور تعجب ہمیں ساری ساری رات جاری رہنے والی موسیقی کی تقریبات سے ہوتا ہے۔

جس سے شادی کے گھر کے اردگرد کے علاقے میں اتنا شور اور بے سکونی پھیل جاتی ہے کہ نیند حرام ہو کر رہ جاتی ہے۔ آج کل ایسی تقریبات میں پاکستانی یا بالی ووڈ کے شادی کے گانے چلانے کی بجائے کسی مقامی گلوکار کو براہ راست گانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے جو ”کیری اوکی“ پر اتنا بے سرا گاتے ہیں کہ اگر آپ اصل گانے سے واقف ہوں تو طبیعت مزید جھنجھلا جاتی ہے۔ اکثر بالی ووڈ گانوں کی دھنوں پر مقامی زبان میں وہی گیت یا اس سے ملتے جلتے بول گائے جاتے ہیں جو انتہائی بے سرے ہوتے ہیں، مزاج پر اچھے نہیں بیٹھتے اور خواہ مخواہ اصل گانا دماغ میں گونجنے لگتا ہے۔ یوں جب شادی کی موسیقی سے نجات ملتی ہے تو دماغ میں گونجنے والے گیت کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتے۔

دراصل آج کل ہمارے اردگرد کا ماحول اتنا آلودہ ہو گیا ہے کہ ہر ایک کی نیندیں روٹھ چکی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اگر آپ بے چین ہیں تو دوسروں کو بھی چین سے نہ سونے دیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بہت اونچی آواز میں شور نہیں کرنا چاہیے کہ آس پڑوس میں کوئی ضعیف، بیمار بوڑھا یا بچہ موجود ہو یا کوئی طالب علم اپنے امتحان کی تیاری کے لیے جاگ رہا ہو۔ تو اپنی خوشی کی خاطر دوسروں کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلاء کرنا کہاں کی عقل مندی یا شرافت ہے؟

ایک محاورہ ہے کہ ضروری نہیں کہ کوئی چیز اگر قانونا جائز ہو تو وہ اخلاقا بھی جائز ہو جاتی ہے۔ مانا کہ حکومتیں فضائی و صوتی آلودگی پر زیادہ توجہ نہیں دے رہیں تو کس نے کہا ہے کہ عوام بھی ضرورت سے زیادہ آلودگی پھیلا کر ماحول کو مزید خراب کرتے رہیں؟ کچھ یہی مثال شادیوں کی تقریبات کا ہے کہ ساری ساری رات عشاء سے لے کر فجر کی اذان تک موسیقی کی تقریب جاری رہتی ہے۔ جس سے پڑوسیوں کا سکون و اطمینان اور نیند غارت ہو جاتی ہے۔

اب آپ کہیں گے کہ شادی بیاہ یا خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے موسیقی ضروری ہوتی ہے تو اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ تقریب میں آواز بلیو ٹوتھ پر نشر کی جائے۔ آج کل ہر ایک کے پاس موبائل ہوتا ہے جسے اگر موسیقی سننا ہوگی، وہ بلوٹوتھ کے ذریعے ہیڈ فون لگا کر سن لے گا اور جسے اس کی ضرورت نہیں ہوگی وہ پرسکون رہ سکے گا۔ یا پھر کسی ایسے ہال میں موسیقی کی تقریب منعقد ہو جو آواز کو بڑی حد تک دباء سکتا ہو اور اس کام کے لیے اصلی ڈولبی والے سب ووفر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں کہ جن کی آواز کمرے میں گونجتی ہے اور باہر صرف دھم دھم کی آواز جاتی ہے، آپ نے اس مظہر کا مظاہرہ گاڑیوں میں دیکھا ہو گا کہ گاڑی کے اندر تو خوب اونچی آواز میں موسیقی بج رہی ہوتی ہے پر جب گاڑی کے دروازے بند ہوتے ہیں تو باہر معمولی سی آواز یا دھم دھم محسوس ہوتی ہے۔ یا تیسرا یہ کہ موسیقی کی تقریب کسی ایسے گھر، چاردیواری یا کھلی زمین پر منعقد کریں جہاں دور تک آبادی نہ ہو تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔

ویسے اگر صحیح معنوں میں رقم خرچ کر کے دلی سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ۔ رقم کسی معذور، حالات کے ہاتھوں بے بس و لاچار کو دے دیں، زیادہ بہتر سکون اور خوشی محسوس ہوگی۔ اس طرح کی فضول خرچی سے دل کی خاص تسکین نہیں ہوتی۔

بقول شاعر
دکھائے دل جو کسی کا وہ آدمی کیا ہے
کسی کے کام نہ آئے تو وہ زندگی کیا ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments