باڑھ، ناخدا، اور ہم


بادل سرکار کے کھیل میں ایک کردار کہتا ہے ”۔ باڑھ آ گئی ہے ہماری فصلیں تباہ ہو گئیں“
معمولی سے پس منظر کے ساتھ کہ یہ پورا کھیل استعارات سے بھرا پڑا ہے گو کہ واقعات روزمرہ زندگی کے ہیں کھیل کا نام جلوس ہے۔ کبھی پڑھنے کا من کرے اس لیے ذکر کر دیا۔

میں ہدایات دیتے وقت باڑھ کے لفظ کو تصور کر کے اپنے شہر کے گرد باڑھ ڈھونڈنے لگی مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ کچھ نئے زاویے مل جاتے ہیں۔ یہ کم و بیش آج سے گیارہ بارہ سال پہلے کی بات ہے۔ میں نے بھی کھیل کے لیے اپنا مشاہدہ استعمال کرنا چاہا۔ یہاں باڑھ سے مراد طغیانی سے ہے۔ لیکن میں کہنے لگی کہ گر یہ باڑھ شہر میں ہوتی تو حفاظتی باڑھ ہوتی۔ جو شہر میں مختلف عمارتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور بے اختیار منہ سے نکلا ”تو گر یہ باڑھ ہے تو سمجھو طغیانی شہر میں آئی ہوئی ہے“ ۔

اس وقت ’پل کے اس پار پل کے اس پار‘ نے ہمارے ننھے سے ادارے میں بھی گویا طغیانی برپا کی ہوئی تھی۔ جو کراچی میں مقیم ہیں اس جملے سے بھرپور واقف ہیں۔ کچھ مڈل کلاس لونڈے لونڈیاں ( ذہنیت کے پست معیار پہ چلنے والے میرے لیے نوجوان رہتے نہیں۔ سو یہاں نوجوان نہیں لکھوں گی۔ ) پل کے اس پار رہنے کے باعث احساس کمتری کا شدید بھاری بوجھ اٹھائے پل کے اس پار ( جہاں اشرافیہ بستے تھے۔ ) جانے کی سر توڑ کوششوں میں سرگرم تھے۔ میں نے انہی دنوں ”پل کے اس پار اس پار“ نہ صرف سنا تھا بلکہ ذہنیت کو مجسم دیکھا بھی تبھی تھا۔ اس ذہنیت نے میرے دل میں اس مائنڈ سیٹ سے اس قدر نفرت بھری کہ بتانا محال۔

اس وقت پڑھے لکھوں کی قابلیت پہ اس قدر کے گرز پڑے کہ ’قابلیت‘ کا بت جو میرے دل میں تھا میرے قدموں میں اکر ٹوٹ گیا۔ قابل لفظ مجھے قابیل کی طرح نظر آنے لگا۔ پڑھے لکھوں کو میں اتنا غیر ذمہ دار کمپلیکس کا مارا نہیں سمجھتی تھی لیکن کہنا پڑے گا کہ اشرافیہ ہوں یا اشرافیہ (کاروباری طبقہ) متوسط طبقے کا استعمال مڈل کلاس کے اپنے ذہنی استحصال سے شروع ہوتا ہے۔

مجھے یقین ہے بہتیروں کے دلوں میں اس ذہنیتی تفریقی بڑائی کے بت کی پوجا اب تک ہوتی ہوگی۔ بھلا گیارہ بارہ سالوں میں کیا بدل جائے گا کیونکہ تبدیلی پہ بھی یہ ثبت کرا دیا گیا ہے کہ انسان نہیں بدل سکتا یعنی دوسرے الفاظ میں یوں سمجھا جائے سیانے کہتے ہیں ’کوئی گنہگار ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا‘ تو گویا گنہگار ماؤں کے پیٹوں سے ہی جنم لیتے رہے ہیں اور تبدیلی نہ آنے کے باعث گنہگار ہی مر جاتے ہیں۔

جبکہ حقیقت برعکس ہے۔ پھر ثبت پہ کچھ تو گرز ماریں؟ بہرحال لفظ تبدیلی اور اس کے ماخذ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اس مائنڈ سیٹ کو سینچا گیا ہو بعید از عقل نہیں۔ کہتی چلوں کہ ہمارے ملک میں تبدیلی کبھی نہیں آئی سسٹم متعارف ضرور ہوا جس کے نفاذ کی کوششیں ستر سال سے جاری ہیں جس میں دنگے فسادات سے لے کر اخلاقی انحطاط کو ذرائع بنایا گیا ہے۔

کل بلوچستان میں کھاراں کا اندوہناک واقعہ اور کام سیٹ کے پیپر میں شرمناک مجرمانہ سوال دونوں میرے لیے اندوہناک ہیں۔ نوعیت مختلف ہے۔ یعنی سسٹم کے ذرائع کا استعمال ہے۔ اخلاقی انحطاط استحصال جاری ہے

گویا ملک میں باڑھ (طغیانی) آئی ہوئی ہے۔

’ بڑائی تفریق جہالت‘ کے بت کی پوجا جاری ہے بے حسی یہ ہے کہ خاموشی اس کے گرد محو رقص ہے۔ خاموشی کا بھی ناخدا دل میں گھر کر بیٹھا ہے۔

چند سال پہلے فوج نے اپنا بجٹ اس واسطے بڑھایا تھا ( وجوہات بجٹ میں سے ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی) کہ سرحدوں پہ حفاظتی باڑھ چاہیے۔ آج کم و بیش ملک کے ہر شہر ہر صوبے میں یہ سرحدیں دیکھی جا سکتیں ہیں۔ اسلام آباد میں بھی۔

ایک مثال دیتی ہوں عمر خیام نے جس درسگاہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہاں سے فارغ التحصیل اس درجے قابل سمجھے جاتے تھے کہ صرف شاہی ملازمت اختیار کرسکیں۔ عمر خیام نے جب شاہی ملازمت اختیار کی اس سے ایک اجنبی شخص ملنے آیا جس نے عمر خیام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا دوست گر تم شاہی ملازمت اختیار نہ کرتے تو ہمارے مکتب کا نام ڈوب جاتا۔ قابلیت پہ گرز پڑتا۔ عمر خیام نے کہا میرے ہم مکتب میرے علاوہ تین اور تھے۔ ان ہم مکتب میں سے دو کو میں جانتا ہوں ایک شاہی قاصد نظام الملک ہیں دوسرا میں عمر خیام شاہی نجوم۔ باقی دو کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں۔

اجنبی نے کہا ایک ہم مکتب نوجوانی میں انتقال کر گیا تھا اور ایک میں تمھارے سامنے قلعہ الموت کا مالک حسن صباح ہوں۔

مثال یوں لکھی کہ جب تعلیم محض شاہانہ زندگی کے حصول کے لیے دی جانے لگے یا تعلیم کے پس پردہ مقاصد اخلاقیات سوز ہوجائیں جیسے کام سیٹس کا پرچہ۔ تو وہ تعلیم کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ اب وہ مائنڈ سیٹ ہے۔ ذہنیت ہے جو مکتبوں میں پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ یا کوشش ہو رہی ہے۔

بالکل اسی طرح جب اداروں میں عہدے رتبوں میں بدل جائیں اور یہ بڑائی تکبر کے ان منازل تک آ جائیں جہاں شاہی۔ درباری۔ قلعہ یا قلعہ الموت کا فرق مٹ جائے ظالم اور محافظ کا فرق مٹ جائے۔ راہزنی اور شاہی ملازمت ایک معلوم ہوں۔

جب رتبے، بڑائی تکبر کے ان منازل تک آ جائیں جہاں شاہی۔ درباری۔ قلعہ یا قلعہ الموت کا فرق مٹ جائے سب شاہی نظر آئے تو دل میں ایک بار ضرور جھانک لینا چاہیے کہ کہیں باڑھ تو نہیں لگ گئی۔ دل کسی مائنڈ سیٹ و جہالت میں سرگرم عمل تو نہیں اور زبان خاموشی میں اس کے گرد محو رقص۔

دیکھ لیجیے کہیں آپ بھی اپنے دل میں ذہنیت کے کسی بت کی پوجا میں مصروف تو نہیں کہ ملک میں آئی گئی باڑھ طغیانی آپ کو نظر نا آتی ہو۔

Facebook Comments HS