اسلام، ارتقا اور معاشی نظام

ہر وہ چیز جو چاہی کسی بھی شخص یا معاشرے کی طرف سے سامنے آئے اس کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح سے کوئی بھی نظام چاہی وہ اقتصادی ہو معاشرتی یا تعلیمی، اگر وہ نظام اسلام کے بنیادی قوانین کے مخالف نہیں یا ممنوعہ چیزیں نکالنے کے بعد اس کا نفاذ ممکن ہو سکے، اس کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور یہی اسلامی معاشی نظام کی بھی بنیاد ہے۔
اسلامی معاشی نظام میں جن اشیا کا کاروبار کرنا منع ہے اس کے پیچھے کیا حکمت پوشیدہ ہے، ان پابندیوں کے محرکات اور اخلاقی پہلو پے تفصیلی بات چیت کے لیے نہ یہ ہم سب کے صفحات متحمل ہوسکتے ہیں نہ ہی ان کا پس منظر ہم سب کے پڑھے لکھے قارئین سے ڈھکا چھپا ہے۔ اس لیے بحث کا دائرہ کار صرف ان نکات پے رکھنا بہتر ہو گا کہ وہ کیا وجہ ہے کہ اسلامی شریعت کے تقریباً ہر جز کو آج کے دور میں فرسودہ اور ناقابل عمل قرار دینے والے مغربی معاشرے میں بھی روایتی بینکاری کے مقابلے اسلامی بنکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اور ساتھ ہی وہ کیا وجہ ہے کے عالمی کساد بازاری کے ایام میں بھی اسلامی بینکاری نظام کیسے ترقی کرتا رہا جب روایتی بینکاری نظام حکومتی امدادی (بیل آؤٹ) پیکجز ملنے کے باوجود تنزلی کا شکار رہا۔
اس سلسلے میں اسلامی اور روایتی بینکاری میں سب سے بڑا فرق فریکشنل ریزرو کا ہے۔ روایتی بینکنگ میں، فریکشنل ریزرو بینکنگ ڈپازٹرز کی رقم کا ایک حصہ ریزرو میں رکھنے اور باقی کو قرض دینے کی روات ہے، جس سے بینک نئی رقم پیدا کرتی ہے۔ یعنی اگر آپ نے 1 لاکھ روپیہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروایا تو بینک آپ کے ایک لاکھ میں سے 10 ہزار قرض کے طور پر دوسرے سرمایہ کاروں کو دے گی (حقیقت میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہوتی ہے ) ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بینک اپنا پیسہ بنانے کے قابل ہے، ہر ایک لاکھ اس کو 10 ہزار روپے اپنے بنانے کا اختیار دیتے ہیں جن کا وجود صرف کاغذات میں ہوتا ہے۔ بینک اس بات پے یقین رکھ کے چلتا ہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آئے گا جب سارے یا صارفین کی بڑی تعداد ایک ساتھ اپنی رقم مانگنے آئے گی۔ لیکن 2008 اور 2019 جیسے ایام میں جب ایسا وقت آیا تو بینکس نے رقم ہی دینے سے انکار کر دیا۔ کیوں کہ آپ کو آن لائن نظر آنے والی آپ کی رقم تو صرف بینک کی گارنٹی تھی اور اصل رقم وہ قرض کی صورت سرمایہ کاروں کو دے چکے تھے۔ رائل بینک اف اسکاٹ لینڈ سے لے کر امریکا کے نامور ترین بینکس اسی عرصہ میں انہی وجوہات کی وجہ سے دیوالیہ ہو گئے۔
اسی طرح ہمارے موجودہ قومی حالات میں اگر خدانخواستہ سارے افراد رقم کو کیش کی صورت واپس لینا چاہیں تو صرف اسلامی بینک میں موجود رقم ہی پوری طرح سے واپس ملنے کا امکان ہو گا جبکہ روایتی بینکاری نظام حکومت کی امداد (بیل آؤٹ پیکج) کا منتظر ہو گا۔ اور اسی صورتحال کا پچھلی اور اس دہائی کی آخری 2 سالوں میں امریکا اور یورپ نے عملی طور پر تجربہ کیا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ پاکستان کا نظام کیش بیسڈ نظام ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں شاذ و ناظر ہی کیش کے ذریعے لین دین ہوتی ہے اس لیے عالمی کساد بازاری کا پاکستانی عام آدمی کو احساس نہیں ہوا۔ دوسری طرف اسلام میں رقم بذات خود ملکیت نہیں ہوتی بلکہ ملکیت کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلامی بینکس میں فریکشنل ریزرو کی بنیاد پی رقم نہیں بنے جاتی۔ بینک صرف اتنا ہی قرض دے سکتا ہے جتنی رقم اس کے پاس موجود ہو اور وہ بھی نفع نقصان کی شراکت داری کی بنیاد پے۔
اسلامی اور روایتی بینکاری نظام میں دوسرا بڑا فرق ڈپازٹ گارنٹی کا ہے۔ یہ ایک قسم کا تحفظ ہے جو بنکنگ صارف کو عام طور پر حکومت یا حکومت کی حمایت یافتہ ادارہ جیسا کہ ہمارے یہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ ڈپازٹ گارنٹی کا مقصد بینکنگ سسٹم پراعتماد بڑھانا اور مالیاتی عدم استحکام یا بحران کی صورت میں صارفین کو ان کی رقم کا کچھ حصہ حکومت کی طرف سے واپس دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر حکومت سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ ہو جائے یا پاکستان کی طرح خود بیرونی امداد کی منتظر ہو تو؟
ایسی صورت میں اسلامی بنکنگ نظام کا اپنا میوچل فنڈ ہوتا ہے اور اگر حکومتی پالیسی ہو تو ایک طرح سے صارفین کی رقوم کی تحفظ کا دوہرا نظام ہوتا ہے۔ چوں کہ روایتی بینکنگ ڈپازٹ گارنٹی حکومت کی طرف سے ہوتی ہے اسی لیے اکثر حکومتی دباؤ میں بینکس ایسے سیاسی اشخاص کو قرضہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں جن کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ صرف 2018 میں 223 ایسے کیس سپریم کورٹ میں پیش کے گئے تھے جن کے قرضے حکومتی ایما پر معاف کے گئے میں میں سے صرف ایک قرض کی مالیات 5 ارب سے زیادہ تھی۔ ظاہر ہے یہ رقم بعد میں حکومتی خزانے سے ہی صارفین کو ادا کی گئی ہوگی جس کا اثر مہنگائی کی صورت ہی نکلنا ہے۔ یعنی یہ صرف روایتی بینک اور صارفین کا معاملہ نہیں بلکہ بالواسطہ پوری ملکی اکانومی پے اس کے اثرات پڑتے ہیں۔
ایک اور شعبہ جہاں روایتی اور اسلامی بینکوں میں فرق ہے وہ ہے رسک مینجمنٹ یعنی یہ دیکھنا کے جو شخص یا ادارہ قرضہ لے رہا ہے اس کو اس کی ضرورت بھی ہے اور وہ اسے لوٹا بھی سکتا ہے یا یہ صرف ٹیکس سے بچنے اور خود کو نادہندہ قرار دینے کی غرض سے ہے ( یاد رہے کے دنیا کی بڑی اور ٹیکنالوجی کی نامور کمپنیاں جن کا سالانہ بجٹ پاکستان کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اسی چیز سے فائدہ اٹھا کے کوئی ٹیکس نہیں بھرتیں ) ۔ روایتی بینک ان خطرات کو چانچنے کے لیے مختلف ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ کریڈٹ تجزیہ، مارکیٹ ویلیو وغیرہ۔ اسلامی بینک بھی ان سہولیات کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کا انحصار رسک شیئرنگ اور نفع و نقصان کے اشتراک کے انتظامات پربھی ہوتا ہے جو روایتی بنکنگ میں عنقاء ہے۔
یہ صرف وہ چند عوامل ہیں جن کی وجہ سے اسلامی بینکاری نظام پوری دنیا خاص طور پر مغربی دنیا میں پھیل رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلامی بینکنگ تنقید سے پاک ایک شفاف نظام ہے۔ اوپر بیان کی گئی آیت کی روشنی میں ہر اسلامی فنانشل ادارے میں شرعیہ ایڈوائزری بورڈ کی تشکیل کی جاتی ہے جو اس کے نظام کو اسلامی بنیادی قوانین کی روشنی میں چلانے کا پابند ہوتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان ایسے ممالک میں مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔
خود ایسے بورڈ کا حصہ ہونے کے باوجود مفتی تقی عثمانی جیسے اسلامی بنکنگ کے داعی 95 فیصد پاکستانی اسلامی بینکنگ ٹرانزیکشنز کو غیر اسلامی قرار دے چکے تھے۔ لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ جس طرح ہمارے یہاں کی جہموریت، تعلیم اور قانون کو بنیاد بنا کر ساری دنیا کی جہموریت پر تنقید نہیں کی جا سکتی اسی طرح یہاں پر رائج کچھ غیر اسلامی ٹرانزیکشنز کو بنیاد بنا کر سارے اسلامی بینکاری پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ معاشروں کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہاں جاکر ہر چیز اپنی حیثیت بدل دیتی ہیں۔

