معاشرہ اور دانشور
جب سے انسان کی تمدنی زندگی کا آغاز ہوا ہے، تب سے انسان مختلف طبقات رسم و رواج اور عقائد و مذاہب میں بٹ گیا ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ مختلف ہائے فکر کے لوگ آئے۔ جنہوں نے کوشش کی کہ اس ذات پات کی تقسیم کو ختم کیا جائے اور مثالی معاشرہ قائم کیا جائے انہوں نے اپنی پوری زندگی اس عمل میں صرف کی جو ذات پات اور مذاہب کی وجہ سے جو انسانی شیرازہ بکھرا ہوا ہے، اسے ایک ہی مرکز پر منتہج کیا جائے اور وہ ہے معاشرہ انسانی۔
یہی عمل مسلسل اور جدوجہد کا نام محبت ہے۔ اگر تاریخ کے صفحوں کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ہم پر آشکار ہو جائے گی اس طرح کے لوگ ہر صدی میں پیدا ہوئے انہوں نے تاریخ کے پہیوں کو مسلسل چلنے دیا۔ اور جہد مسلسل کی کہ اس رفتار کو برق سے بھی تیز کیا جائے لیکن ساتھ ساتھ یہ انکشاف بھی ہوا، کہ اس طرح کے لوگ جو حقیقت میں روشنی کی مانند ہے بہت ہی قلیل اور شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔
ان لوگوں کو عام زبان میں دانشور یا انٹلیکچوئل کہتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں دانشور کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ دانشور اپنے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے بالفاظ دیگر وہ معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے یا کمیونیٹی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کے نظریات، خیالات المختصر روح کو سمجھا جائے۔ ان خیالات کو سمجھنے کے لئے ان کے دانشور طبقے کو پڑھا جائے کیونکہ کسی معاشرے کا اصل اساس وہی ہوتا ہیں۔ لوگ چلے جاتے ہیں لیکن ان کے خیالات ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
عام طور پر دانشوروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک طبقہ وہ جو لکھنے پڑھنے والے ہوتے ہیں یعنی محض تصنیف و تالیف اور قلم سے جہاد کرتے ہیں۔ کبھی کبھار تصنیف و تالیف کے ساتھ عمل پیہم سے بھی کام لیتے ہیں اور معاشرے کی پست طبقے کے ساتھ نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی سیاست میں بھی ہوتے ہیں۔
دوسرا طبقہ دانشوروں کا وہ ہے جو تصنیف و تالیف سے زیادہ عملی کاموں میں برسرپیکار ہوتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ظلم ہوں مظلوم کی آواز اور زمانے وقت کے فرعون کے غصے و غصب کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ وہ نظریاتی ہونے کے بجائے عمل سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں اور ہر کسی کے غم کا مداوا کرنے اور اس کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
یہاں میں ایک ضروری بات پیش کرتا چلوں کہ دانشور کے لیے ضروری نہیں کہ وہ تعلیم یافتہ ہوں۔ اس طرح کے لوگ جو علم کی فضیلت سے فیض یاب نہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے کی ترقی و بہبود میں کلیدی کردار ادا کیے ہیں چنداں نہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ میں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ آج کل کے پیچیدہ معاشرے میں علم کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں بلکہ انسان ہونا بھی مشتبہ۔
الغرض، کسی بھی معاشرے کا قیام بغیر دانشور کے ناممکن ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں اگر کسی معاشرے کی روح کو جاننا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے دانشوروں اور انٹلیکچوئلز کو پڑھا جائے۔ حتیٰ کہ میں یہاں تک جسارت کروں گا، کہ اگر تاریخ میں کسی عہد کو پڑھنا اور سمجھنا ہو تو اسے عہد کے قابل اور دانشوروں لوگوں کو پرکھا اور پڑھا جائے۔
آخر میں یہ سارا قصہ پارینہ بیان کرنے کے بعد عرض کرنا چاہوں گا، کہ معاشرہ اور دانشور آپس میں مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔ کسی ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ جب تک معاشرہ ہے تب تک دانشور اور جب تک دانشور تب تک معاشرہ۔


