ہم اور ہمارے مسائل
ایک اسلامی ملک جس کے معرض وجود میں آنے کی بنیاد آفاقی مذہب اسلام جو عالمگیریت کا حامی و سب کے حقوق کا علمبردار، اقلیتوں کا محافظ و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو تو کیا وجہ ہے کہ یہ ملک اپنی منزل سے بھٹکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ پاکستان اندرونی و بیرونی مسائل کی گرفت میں ہے۔ ہمیں ہر وقت بیرونی سازشوں کے بارے میں فکر لگی رہتی ہے اور لگی بھی رہنی چاہیے لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا بھلا ہمارے دشمن کب ہماری جان بخشنے والے ہیں۔
دشمن کا کام وار کرنا ہوتا ہے انہیں اس سے کیا مطلب ہم ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ کاش ہم اس نقطے کو ذہن نشین کر لیتے اور اپنی تیاری میں جٹ جاتے۔ ہم نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی تنازعات کا شکار ہیں۔ انتہا پسندی، عدم برداشت اور تنگ نظری ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں گہری پکڑ چکی ہیں۔ جس سے ملک کی نظریاتی احساس و سلامتی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ انصاف کا بروقت میسر نہ ہونا یا انصاف کا سرے عام قتل و معاشرتی نا ہمواریاں انتہا پرستی کو ہوا دے رہی ہیں۔
اس کے علاوہ ہمارے ادارے اس کی بیخ کنی میں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں معاشرے میں جرائم کا بڑھنا، تشدد پسندی میں اضافہ اور ایسے گروپوں کا پیدا ہو جانا جو ملک کو انارکی کی طرف دھکیلیں ایک عام سی بات بن جاتی ہے۔ کیا ہم آج کل ان عوامل سے دوچار نہیں ہیں۔ ہمارے بڑے مسائل میں اقتصادی حالت، گڈ گورنس کی کمی، فرسودہ عدالتی نظام، شعبہ تعلیم کا گرتا معیار، صحت، رشوت، پولیس اور نئے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونا، دگرگوں تجارت اور ان سب سے بڑھ کر سیاسی عدم استحکام ہیں یہ سب برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔
بصیرت افروز قیادت کا فقدان ہے۔ ناکامیوں کی بات کی جاتی ہے لیکن اصلاح کوئی تجویز نہیں کر رہا۔ ہماری اقتصادی ترقی کا بٹہ بیٹھ چکا ہے۔ ہماری عیاشیوں نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں۔ دنیا کی تمام ترقی پذیر اکانومیوں کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو کہیں بھی پٹرول الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس، بجلی الاؤنس یا ایسے دوسرے الاؤنسز اداروں کے افسران کو نہیں ملیں گے لیکن ہمارے ملک کی ہر شے نرالی ہے جس میں آپ کو اداروں میں ایسی فضولیات سے واسطہ پڑے گا۔ ہمارا ٹیکس سسٹم فرسودہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے ہم اس پر دلجمعی سے کام کر رہے ہیں لیکن درحقیقت ہم ٹیکس ادا کرنے والوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
مہنگائی کو نیچے لانا ہماری ترجیح ہونا چاہیے تا کہ پسماندہ طبقات اس پسنے والی چکی کی گردش سے باہر نکلے۔ ہمارا درمیانہ طبقہ بھی اس چکی میں پس رہا ہے اور غربت کی لکیر کی طرف جا رہا ہے لیکن اس کو سرسری طور پر لیا جاتا ہے۔ مانا حل طلب مسائل ایک گورکھ دھندہ ہیں بالخصوص ترقی ممالک کے لئے لیکن ہم کیوں بھول جاتے ہیں جب نوزائیدہ مملکت پاکستان کو دگرگوں اقتصادی حالت کا سامنا تھا تو ہماری بصیرت افروز قیادت نے جس جذبے کے ساتھ کام کیا تو عوام بھی پیچھے نہ رہی اور شراکت میں ہم نے اکٹھی کئی منزلیں طے کر لیں ایک دور میں ہم جرمنی کو قرضہ دینے والا ممالک میں شامل تھے اور آج؟
غربت اور معیار غربت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے بنیادی ضروریات اشیاء مثلاً کپڑے، ادویات، خوراک اور نظام تعلیم بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ناخواندگی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گو کہ توانائی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے لیکن ہماری موجودہ توانائی کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ہمیں اس عذاب سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ سب عوامل پر بھاری اب ہمارے لئے دہشت گردی ہو چکی ہے جو نہ صرف ہماری اقتصادی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ ہماری آبادی بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔
اس کا ذہنوں پر گہرا اثر پڑھ رہا ہے۔ معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے یہی دہشت گردوں کی حکمت عملی ہے اور یہی ہمارے دشمن چاہتے ہیں۔ اس سے سختی کے ساتھ نبٹنا ہو گا۔ اس سے ہماری اکانومی کو تقریباً 70 بلین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ رشوت ہر جگہ و ہر محکمے میں سرایت کر چکی ہے۔ یہ نا صرف گورنمنٹ محکموں میں بلکہ پرائیویٹ اداروں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ اور ہر سطح پر کھلے عام رشوت کا بازار گرم ہے۔ اس کا تدارک اب لازمی ہو گیا ہے ۔
سیاسی عدم استحکام، بشمول سول و اسٹیبلشمنٹ تعلقات کا مسئلہ، سے ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کا تدارک بھی لازمی امر ہے۔ معاملات کو دیکھنا، سمجھنا اور حل کرنا، جس میں لو اور دو کا اصول کاربند ہو، اور ایک دوسرے کی عزت نفس کا لحاظ رکھنا، ملکی ترقی کے لئے اشد ضرورت ہے۔ قدرتی آفات جن میں سر فہرست سیلاب ہیں کی وجہ سے ہماری ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ ہمیں متاثرین سیلاب کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہے۔ سیلاب سے ایک تہائی پاکستان زیر آب ہے جس کی وجہ سے گھر مسمار ہو گئے، انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہو گیا، ہماری کاشت والی زمین متاثر ہونے کے علاوہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
بنیادی طور پر پاکستان کی اقتصادیات زراعت پر انحصار کرتی ہے جسے سیلاب نے شدید متاثر کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ ہماری جی ڈی پی کا 20 فیصد حصہ مہیا کر رہی تھی اور اسی کے ساتھ یہ ہمیں بنیادی ملازمتوں کے مواقع بھی مہیا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ مال و مویشیوں کا شعبہ بھی متاثر ہوا جس کا ہماری جی ڈی پی میں دس فیصد حصہ تھا، سمندری حیات بھی ہماری ملازمتوں کا ایک بڑا حصہ مہیا کر رہیں تھیں۔ صنعت کاری کا شعبہ پچیس فیصد جی ڈی پی کا حصہ تھا لیکن یہ شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ان کے علاوہ معدنیات کے ذخائر ہماری ترقی کے لئے بے حد اہم ہیں۔ ہمارے پاس کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں جو دو سو سال تک ہماری ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ ہماری آبادی غربت کی تیس سے چالیس فیصد شرح لکیر سے نیچے رہ رہی ہے۔ جس کا مطلب ہماری اکثریتی آبادی غربت کا شکار ہے۔ ناخواندگی کی شرح میں بھی اضافہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ملیریا، استحصال، نمونیا اور جلدی بیماریوں کا شدید اضافہ ہو رہا ہے۔
جس کی بنیادی وجہ ناقص غذا و ناقص رہائش ہے۔ ہماری پالیسیاں بھی خصوصاً اقتصادی پالیسیاں موجودہ ماحول سے مطابقت نہیں رکھتیں انہیں تیز رفتاری سے عہد حاضر کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس سے اندرونی و بیرونی تجارت و تعلقات پر اثر پڑے گا۔ پاکستان کی فارن پالیسی میں گزشتہ سات دہائیوں سے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے جا رہے ہیں جن میں انڈیا کے ساتھ تنازعات، روس کے ساتھ افغانستان مسئلے پر بالواسطہ تعلقات کی خرابی، وغیرہ۔
کیا پاکستان ان تمام مشکلات سے بہرہ مند ہو سکتا ہے؟ انسانی زندگی نے ناممکن کو ممکن بنانا سیکھا اور ہر طرف اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ اگر قوم میں جذبہ اور نیک نیتی ہو تو ہر چیلنج پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اپنی گورنس میں بہتری، رشوت کی بیخ کنی، صحت، تعلیم، زراعت کو نئے طور طریقوں پر ڈھالنا، پولیس ریفارم، عدالتوں کی حالت بہتر و بروقت انصاف کی فراہمی، معاشرتی عدم استحکام اور معاشرے میں دولت کی تقسیم و فراوانی، قانون پر سختی سے عملدرآمد اور ہر شہری فرائض انجام دہی میں نیک نیتی دکھائے تو بقول علامہ اقبال،
”ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی“ ۔


