پہلا پہل افسانہ


ڈاکٹر فرمان پوری نے اپنے دست خاص کے ساتھ ایک ایسی نایاب کتاب مجھے دی جس میں افسانہ نگاروں کے پہلے پہل کا افسانہ شامل کیا گیا تھا اور ادیبوں کا مختصر تعارف ایک اور ندرت۔ یہ کتاب اردو اکیڈمی سندھ نے شائع کی تھی۔ مدتوں بعد آج ان میں سے کوئی بھی لکھنے والا حیات نہیں ہے اس کتاب پر لکھنے کو دل چاہا۔

ع دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

پہلی بات تو یہ کہ ان سب افسانوں کو پڑھ کر خوشی ہوئی بقول رازق الخیری کہ سب میں لکھنے کا شعلہ قدرتی طور پر موجود تھا ورنہ پہلا افسانہ اتنا کامیاب نہ ہوتا اور وہ یہ کام جاری نہ رکھتے۔ یہ کتاب پچیس افسانہ نگاروں کے افسانوں پر مشتمل ہے، فہرست نیاز فتح پوری سے شروع ہو کر احمد ہمیش پر ختم ہوتی ہے۔ مجھے یہ کتاب دلچسپ لگی اور ہر افسانہ شوق سے پڑھا۔

پہلا افسانہ نیاز فتح پوری کا ایک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر ۔ یہ افسانہ نہیں ہے ایک تصویر ہے، سمجھ لیجیے ویڈیو پر ۔ جس پر نیاز فتح پوری نے الفاظ کے رنگ برنگے پھول برسائے ہیں۔ اس کے حسن جہاں سوز کے ساتھ اس کی چال اور اس کے بعد اپنا حال، بس۔ آپ اسے افسانہ کہہ لیں میں تو شاید نہ کہوں۔

نیاز فتح پوری کا افسانہ جتنا مختصر ہے اس کے بعد چند افسانے بہت طویل ہیں اور ان کہ طوالت کو باآسانی مختصر کیا جاسکتا تھا مگر شاید ان دنوں لفظ مختصر افسانہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ میرزا ادیب کا افسانہ چھبیس صفحات پر ، ممتاز مفتی کا جھکی جھکی آنکھیں سولہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ حجاب امتیاز کا افسانہ بھی اپنے خاص کرداروں، ڈاکٹر چچا اور خادمہ زوناش کے ساتھ اچھے خاصے بائیس صفحات پر مشتمل ہے۔ آج اگر ہم ایسے افسانے لکھیں تو انھیں طویل مختصر افسانوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس زمانے میں محض افسانے تھے۔

ہر افسانہ آج بھی اپنے لکھنے والے کا نام بتا سکتا ہے۔ اگر آپ نے ان کو پڑھا ہے تو آپ بھی سمجھ لیں گے کہ ابتدائی نقوش میں بہت کچھ بعد کے آنے والے دنوں کا بھی چھپا ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے۔ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS