قبر اور جرمانہ
سنا ہے قبر اور مردے کا گہرا تعلق ہے اور قبر خالی ہو تو مردہ مانگتی ہے مگر اب نہیں مانگے گی! کچھ دنوں سے حالات ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر طرح کا کشت و خون جاری ہے۔ زندگی عجب ڈگر پر رواں۔
اس کا گھر بھی کسمپرسی میں تھا۔ کہنے کو تین ہی افراد تو تھے۔ اس کے بوڑھے ماں، باپ اور وہ خود۔ کچھ دن پہلے وہ دیہاڑی پر کچھ کما لا تا تھا پر اب تو جیسے سب اشیا ء کی قیمتوں کو پر لگ گئے تھے۔ اس کے بوڑھے والدین اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔ جنھیں وہ دیکھ دیکھ کر جیتا تھا۔ ان ہی والدین کے لیے دوا دارو اور کھلانے کو صحت مند غذا کی ضرورت تھی۔ نوجوان تو فاقہ کر کے بھی جی سکتا ہے مگر بوڑھے افراد کے لیے اچھی غذا ہی چاہیے ہوتی ہے۔
اس کے والدین نے اس کی شادی جھگی میں رہنے والی ایک لڑکی سے کردی۔ اب اس پر زندگی اور سخت ہو گئی تھی۔ وہ روز صبح سویرے شہر کی جانب نکل پڑتا۔ ایک مصروف شاہ راہ پر مزدور پاہوڑوں، بیلچوں اور ڈرل مشینیں لیے بیٹھے ہوتے جن کی لمبی کیل زمین میں عارضی طور پر گڑی ہوتی۔ ایک لمبی قطار، جن میں لگ بھگ 25 یا 30 مزدور ہوتے۔ جن کے خشک چہرے، آنکھوں میں مایوسی اور بے کسی، بہت سے سوال جو وقت کے منہ پر طمانچہ تھے۔ ان لاچاروں کا یہ انتظار کبھی دوپہر تک طویل ہوجاتا اور پھر یہ خالی ہاتھ، مایوس اپنے، اپنے علاقوں کو لوٹ پڑتے۔
وہ بھی اپنے گاؤٔں خالی ہاتھ لوٹ آیا۔ بیوی اس کی منتظر تھی۔ شوہر کے چہرے اور خالی جیب دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ آج بھی خالی ہاتھ لوٹنا اب مہینے میں کئی بار ہونے لگا تھا۔ اس کی بیوی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی کہ آج نہ مل سکی تو کیا ہوا، کل مل جائے گی مگر اسے اصل حالات کا علم تھا۔ اس لیے بیوی کی باتیں اسے مطمئن نہ کرسکیں۔
گاؤں کے زمین دار اور صاحب اقتداروں کے دن تو اب بھی بھلے تھے۔ وہ اپنی بیوی کو شہر کے حالات کے بارے میں بتانے لگا۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے ہمارے پاس ایک چھوٹا زمین کا ٹکڑا تھا۔ جس پر جب فصل تیار ہونے کو تھی، ساتھ والے زمین دار نے اپنے کھیت سے جھاڑیوں کو جلانے کے لیے جو آگ لگائی وہ اس کی فصل کو بھی کھا گئی۔
یہ سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک زوردار گونج کے ساتھ گرد و غبار لیے آندھی نے پورے گاؤں کو گھیر رکھا ہے اور دور دور تک کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ پھر ایکا ایکی منظر بدل جاتا ہے اور فضا غیر آلودہ مگر اس کے ساتھ ہی وہ خود کو دو پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی جگہ پاتا ہے جس کے درمیان انسانی ہڈیاں بکھری ہوئی ہیں۔ وہ حالت خواب میں ہی یہ سوچتا ہے کہ اتنی تعداد میں انسانی کھوپڑیاں کہاں سے آئیں؟ اس کے گاؤں وا لے، اس آندھی میں مارے گئے مگر کیسے؟ یہ گاؤں تو چند ہزار نفوس پر مشتمل تھا، وہ سوچنے لگا کہ اگر وہ ان تمام ہڈیوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کردے تو کیا بہتر رہے گا۔ اس سوچ اور گھبراہٹ کے ساتھ اس کی خواب سے آنکھ کھل جاتی ہے وہ پسینے میں شرابور تھا۔ ایسا قصہ اس نے اپنے مذہبی واقعات میں سنا تھا۔
رات کے خواب کا گہرا اثر لیے وہ شہر مزدوری کے لیے روانہ ہو گیا۔ شہر میں دیہاڑی کی تلاش میں آج تیسرا دن تھا۔ مزدور وہی لمبی قطار لگائے مزدوری کی تلاش میں بیٹھے تھے۔ نزدیک سے اخبار فروش ایک صدا لگائے سنو! عوام سنو! ”حکومت نے ایک عجیب ٹیکس کا اعلان کر دیا“ ۔ عوام باخبر ہو، اب جینے کے ساتھ مرنا بھی دشوار ہے۔ پڑھو آج کے تازہ شمارے میں۔
اس نے آگے بڑھ کر اخبار فروش سے خبر سنی۔ جس میں لکھا تھا کہ ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے ایک نئے ٹیکس کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب مرنے والے کی قبر پر بھی ٹیکس دینا ہو گا۔ جتنی بڑی قبر ہوگی ٹیکس اتنا ہی زیادہ کیا جائے گا۔
وہ تمام رات اپنے خواب کے بارے میں سوچتا رہا کہ اگر وہ تمام ہڈیاں ایک اجتماعی قبر میں دفنا دی جاتیں تو اتنی طویل قبر پر ٹیکس کیسے ادا کرتا! اس شش و پنج میں مبتلا جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے سامنے اس کے بوڑھے والدین نظر آتے ہیں۔ جنھیں وہ زندہ دیکھ کر مسکرا اٹھتا ہے۔ ان کا زندہ ہونا اس کے لیے خوشی نہیں تھا بلکہ وہ یہ سوچنے لگا کہ اگر وہ مر جاتے ہیں تو وہ ان کی قبروں پر ٹیکس کہاں سے دے گا! پھر اس خواب کے بارے میں جو اس نے اپنے مذہبی واقعات میں سنا تھا وہ تو اس قوم پر عذاب تو اب یہ! وہ دیہاڑی کی تلاش میں نکل پڑا جہاں مزدور لمبی قطار میں آج بھی منتظر بیٹھے تھے۔


