میرے خواب چہرہ گنوا گئے
بحران در بحران ہے۔ کوئی ایک بات ہو تو بات سمجھ بھی آئے۔ ہائے وہ جون وہی جون جسے ایلیا کہا جاتا ہے، سنا جاتا ہے، پڑھا جاتا ہے۔ ذہن کے دریچوں پر دستک دینے لگا ہے۔
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
پاکستانی سیاست ہو صحافت ہو یا عدالت، بحرانوں میں گھڑی رہنا چاہتی ہے۔ سکوں کا کوئی لمحہ میسر بھی آئے تو خود کار طریقے سے وہ لمحے برباد کر دیے جاتے ہیں۔ اسلام آباد کی عدالتی راہداریوں کی سرگوشیوں سے آگاہ اور صحافتی ذمہ داریوں سے نبرد آزما عدیل سرفراز نے اگلے روز ٹویٹر پر لکھا۔
عدل کی دیوی اور انصاف کا دشت ویراں!
”جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعظم کو فریادی اور جسٹس کھوسہ نے گاڈ فادر کہا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کنگ میکر کا طعنہ دیا تو جسٹس بندیال نے آئین کو ہی عدالت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا
نوٹ : عدالت عظمیٰ میں زیر التواء مقدمات ”صرف“ 52 ہزار 450 ہیں
یہ ایک ٹویٹ نہیں نوحہ ہے۔ پاکستان کا عدالتی نوحہ۔ رہی سہی کسر چار ججز کے انتخابات کے حوالے سے لیے گئے سوموٹو میں اپنے اپنے موقف نے نکال دی ہے۔
سیاست کا بھی حال لگ بھگ یہی ہے۔ پچھتر سال سے یہی کھیل ہے۔ امن آتا نہیں۔ سکوں کا کوئی لمحہ بھی میسر نہیں۔
فیض نے کہا تھا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
فیض کہہ کر اگلے جہاں چلے گئے مگر یہ جملہ پاکستانی سیاست کی پیشانی پر لکھ گئے۔
بس یہ سب داغ داغ اجالا ہی ہے۔ شب گزیدہ سحر ہی ہے۔
استاد دانش نے کہا تھا
یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو
تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ
کسی دوشیزہ پر کہا گیا رومانوی شعر ہی سہی مگر یہ پاکستانی سیاست کی موجودہ صورت حال کا نوحہ ہی تو ہے۔ موجودہ حالات پچہتر برسوں کی رات کا فسانہ ہیں۔ شومئی قسمت کبھی ایسا بھی ہوا کہ سیاست دان مل بیٹھ کر بات کرنے کو تیار نا ہوئے ہوں؟
دنیائے سیاست میں کبھی ایسا بھی ہوا؟
سیاست دان بھی اگر مل کر نا بیٹھ سکیں تو پھر سیاست کہاں کی ہے؟ یہ دشمنی ہے، عناد ہے، بغض ہے، خود غرضی ہے، دائمی انحطاط ہے۔ سمجھ سے باہر ہے۔ کیا پاکستانیوں نے اس چمن کی اس لیے آبیاری کی تھی کہ کوئی بازی گر سیاست دان کھلنڈرے پن میں سب کچھ اجاڑ دے۔ نام کیوں لیں کس لیے لیں۔ جو کہا ہے اس سے حجت تمام ہوئی۔ پڑھنے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ سب تو اب نوشتہ دیوار ہے۔ مگر ہم پاکستانیوں پر جو بیتی ہے، کیا یہ لوح ازل پر لکھی تھی؟
کیا یہی تلخیاں لیے ہماری نسل پھر اس کے بعد اگلی نسل تک یہ بات جائے گی؟
یہ نوحہ سیاست اور عدالت کا ہی نہیں صحافت میں لگ بھگ نصاب یہی ہے۔
عزیز از جان دوست صدیق جان سے لاہور میں ملاقات ہونے پر عرض کی تھی جسے سب ہنسی میں اڑا گئے مگر
وہ گیت جو تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
صدیق جان سے لاہور میں ملاقات میں عرض کی۔ صدیق جان! پاکستان کے ساتھ ایک ظلم بھٹو صاحب نے کیا۔ جب صنعتیں ”قومیا“ لیں۔ دوسرا عمران خان نے کیا جب صحافت ”یوتھیا“ لی
صحافت، سیاست اور عدالتی زوال کے بارے میں ایک قصہ ذہن کے دریچے پر ابھرا ہے جو برسوں پہلے فضل حق صاحب کے کالم کی زینت بنا۔ گاہے گاہے باز خواں کے نام سے کالم لکھنے والے سابق آئی جی فضل حق نے اپنے کالم میں ایک کرپٹ تھانیدار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔
بطور افسر اندرون سندھ پوسٹنگ پر ایک کرپٹ تھانیدار سے ان کا واسطہ پڑا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بھٹو صاحب کا منظور نظر ہے۔ بعد میں فضل حق کا تبادلہ ہوا وہ کہیں اور چلے گئے۔ برسوں بعد جب واپسی ہوئی تو تھانیدار ترقی کرتا کرتا افسر بن چکا تھا۔ فضل حق نے اچانک اسے افسر رینک پر دیکھ کر چونک کر کہا تم یہاں؟ کرپٹ تھانیدار نے اس لمحے حق گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ سر میں اس پوسٹ تک نہیں پہنچا یہ پوسٹ میرے تک پہنچی ہے۔
سیاست، صحافت اور عدالتوں کو دیکھوں۔ ان کے بیان سنوں۔ ان کے افعال دیکھوں اور حالات دیکھوں تو گمان گزرتا ہے ہر کوئی میرے کان میں سرگوشی کر رہا ہے۔
ہم یہاں تک نہیں آئے۔ یہ عہدے اپنے معیار سے گر کر ان تک پہنچ گئے ہیں۔
اور نتیجہ یہ نکلا ہے۔
تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا
کے ساتھ ہوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے
خواب چہرہ گنوا گئے

