ڈیجیٹائزیشن ہمارا مستقبل


آج کل کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہر ملک اس کوشش میں ہے کہ وہ اپنے تمام نظاموں کو ڈیجیٹائز کرے۔ یہ کیا چیز ہے؟ اس کی سادہ تعریف کچھ یوں ہے، کمپیوٹر کے عمل کے ذریعے معلومات کو اعداد کی صورت میں تبدیل کرنے کا نام ڈیجیٹائزیشن ہے۔ یہ ایک ایسا کارو باری ماڈل ہے جس سے نئے مواقع اور راہیں کھلتی ہیں۔ عرف عام میں اسے ہم ایک عمل کہیں گے کہ جس کے ذریعے اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل کاروبار میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس میں دو عمل ہیں پہلے عمل کو ڈیجیٹائزیشن کہا جاتا ہے جس سے ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے پر دھیان دیا جاتا ہے اور دوسرے عمل کو ڈیجیٹائزیشن کہا جاتا ہے جس سے تمام دستی نظاموں کو ایک ایسے خود کار نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے جس سے تمام منسلکہ چیزیں ایک ساتھ جڑ کر کام کریں جس سے اہداف کو مقرر کرنے و جانچنے کا عمل برق رفتار ہو جاتا ہے اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف طریقوں سے گاہکوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کو خودکار طریقے سے جا نچا جاتا ہے اور ان کی خریداری کی عادات کا پتہ چلتا ہے جس سے پھر بڑے کاروباری ادارے اپنی تجارتی ترجیحات گاہکوں کے رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بناتے ہیں اور اسی طرح ایسی اشیاء مارکیٹ میں لائی جاتی ہیں جو ان کے گاہکوں کو پسند ہوں۔ اس سے کاروبار میں نہ صرف جدت پیدا ہوتی ہے بلکہ کم لاگت اور منافع بڑھتا ہے۔

ڈیجیٹائزیشن کے کیا فوائد ہیں؟ اس سے پیداوار اور کارکردگی میں اضافہ، کام کی رفتار کا بڑھنا۔ وقت کی بچت کی وجہ سے کام کرنے والے نئی ایجادات کی طرف زیادہ دھیان دینا، اس کے علاوہ کاروبار میں مزید ترقی کے لئے نئی اختراع پیدا کرنا شامل ہیں۔ اس سے ایک کام کو دوبارہ نہ کرنے سے بھی وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اس سے کارکردگی میں اضافہ، منافع کا بڑھنا، باریک بینی سے اپنی اشیاء و پیداوار کو جانچنا، جلد حل طلب مسائل کو ڈھونڈنا اور گہرائی کے ساتھ تمام نظام کو جانچنا بھی ہے اس سے فرسودہ نظام کی کمزوریوں کو سامنے لانا اور ان سے چھٹکارا آسان ہوجاتا ہے۔ مزید اس سے معلومات، ہدایات اور صحیح وقت میں صحیح اقدام و پیداوار کو اپنے گاہکوں کو پیش کرنا نہایت آسان عمل بن جاتا ہے۔ ڈیجیٹائزیشن کے عمل نے انسان کی صلاحیتوں اور مشین کی کارکردگی کو یکجا کرتے ہوئے وقت کی بچت کے علاوہ تیز رفتار عمل سے گزرتے کاروباری منافع میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیجیٹائزیشن نے مستقبل کی ٹیکنالوجی کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ خودکار مشینیں ہر محاذ و ہر عمل میں پیش پیش ہوں گی بالخصوص ان مقام پر جہاں انسان کام کرتے نظر آتے تھے۔ اس سے انسانوں کی ملازمتوں پر اثر پڑنا لازمی امر ہو گا۔ اور انسان جز وقتی یا گھروں سے بیٹھ کر کام کریں گے ویسے بھی کرونا وائرس کے بعد گھر سے کمپیوٹر پر کام کرنے کو کمپنیاں ترجیح دینے لگی ہیں۔

جہاں ڈیجیٹائزیشن کے فوائد نظر آتے ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں مثلاً اس سے سیکیورٹی رسک بڑھ جائے گی تا آنکہ اس کا تدارک نہ کیا گیا۔ ڈیجیٹائزیشن کے تحت اپنی معلومات کو پرکھنا اور جانچنا پڑے گا اور اس کے حساس ڈیٹا پر بہت دھیان دینا پڑے گا کہ کہیں یہ مخالف کاروبار یا ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ لگے جو اس سے نا جائز فائدہ اٹھا سکیں۔ ڈیجیٹائزیشن کے فوائد میں اپنے گاہکوں کی منشاء کا علم ہونا، کم لاگت مصنوعات اور اپنی سروسز کا معیاری ہونا، وقت کی بچت، تجارت میں معیار قائم کرنا اور تجارتی معیار سے اپنے گاہکوں کو خوش رکھنا تا کہ ان کی وفاداری قائم رہے۔ دنیا میں ڈنمارک ایک ایسا ملک ہے جس نے 2022 ء میں اپنی ملکی تجارتی کمپنیوں اور حکومتی سطح پر ڈیجیٹائزیشن کے اجراء کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ جو بھی تجارتی کمپنیاں آنے والے وقت میں ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو اپنے کاروبار کا حصہ نہیں بنائیں گی تو اس سے یہ ثابت ہو گا کہ اس کی قیادت زیرک نہیں اور نہ ہی اسے مستقبل کی پیش بندی کرنی آتی ہے۔ یہ ہی اصول مملکتوں کے نظام حکومت کو چلانے میں لاگو ہو گا۔ ڈیجیٹائزیشن میں مہارت حاصل کرنا اس میں چیزوں کی تلاش، ان کی پڑتال، ان کا استعمال اور جدید نظام کے تحت مواد کی اشاعت قابل ذکر بات ہو گی۔

جہاں ڈیجیٹائزیشن کے فوائد نظر آتے ہیں وہاں اس کے منفی اثرات بھی ہیں جن میں پہلے نمبر پر سائبر سیکورٹی، اور اس سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا، لوگوں کی شناخت چوری کے علاوہ بچوں کا فحش مواد تک رسائی و دیکھنا شامل ہیں جو معاشرے کے لئے بھی خوفناک ہو گا۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہوس کار بچوں تک رسائی حاصل کرنے کی جستجو اور ان کا استحصال کر سکتے ہیں۔

پاکستان نے بھی ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو لاگو کرنے کے اہداف مقرر کر رکھے ہیں۔ ان اہداف کے تحت 2025 ء تک اس عمل کے لئے ایک روڈ میپ تیار کر لیا جائے گا۔ ہماری قیادت کو اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ اب ڈیجیٹائزیشن کا دور ہے اس کے ثمرات نقصانات سے کئی درجے زیادہ ہیں۔ گوگل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس عمل سے ہماری اقتصادی ترقی میں 2030 ء تک ساٹھ بلین ڈالرز تک کی بچت ہو سکتی ہے جو ہماری جی ڈی پی کا انیس فیصد حصہ ہوگی۔ اس سے جدت، پیداواری صلاحیت اور ریجنل اقتصادی پیداوار بڑھے گی۔ بد قسمتی سے پاکستان سرعت کے ساتھ اقتصادی طور گمبھیر مسائل میں جھگڑا جا رہا ہے۔ اس کی کپاس کی پیداوار میں چالیس فیصد کمی کے علاوہ گندم کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے پہلے پاکستان ان اشیاء کو برآمد کرتا تھا جب کہ اب اسے یہ اشیاء درآمد کرنا پڑ رہی ہیں۔ جس کی ادائیگی ہماری اقتصادی ترقی پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی آبادی میں جوان نسل کا تناسب دوسروں ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو آنے والے چیلنج کے لئے تیار کر لیں تو یہ نہ صرف ہماری ملازمتوں کے اہداف کی شرح حاصل کرے گا بلکہ ہمارے پاس مستقبل کی ٹیکنالوجی سے نبرد آزما ہونے والی ایک ایسی نسل تیار ملے گی جو ان تمام چیلنجوں سے بروقت عہدہ برا ہو سکے گی۔

پاکستان تقریباً بائیس کروڑ آبادی کا ملک جو کاروباری لحاظ سے ایک سودمند منڈی ہے۔ اس کے گاہکوں کی آن لائن کاروباری تجارت کو سمجھنے کے لئے تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ تجاری قوانین کو نئے اسلوب میں ڈھالنا ہو گا تا کہ یہ نئے چیلنجوں سے عہدہ برا ہو سکے۔ اس میں ہمارے صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران کو اپنا کردار مثبت انداز سے ادا کرنا ہو گا۔ ان کا کام پارلیمان میں قانون سازی ہے۔ جس سے یہ احسن طور پر عہدہ برا نہیں ہو رہے۔ ہمارے ملک میں گاہکوں کی آن لائن خریداری کے حقوق نہیں ہیں جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے اداروں کو نہ صرف فعال بنانا ہو گا بلکہ قانون کی عمل داری کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو ہر سطح پر قانون کو توڑنا بری بات نہیں سمجھتے۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنی عادات کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے بری عادات ترک کرنا ہوں گی۔

Facebook Comments HS